کِرغِیزستان میں پاکستانی طلبا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: آسیہ بتول، میرپور آزادکشمیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کِرغِستان 1،99،900 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل خشکی میں گھرا ہوا پاکستان کا ایک قریب ترین وسط ایشیائی ملک ہے جس کی ننانوے فیصد آبادی سُنّی مسلمان ہے۔ یہاں کی کُل آبادی 7 ملین یعنی 70 لاکھ ہے جس میں سے 74 فیصد کِرغیز ہیں۔ یہ وسط ایشیائی خانہ بدوش قبائل تھے۔ ان کا مذہب اسلام ہے اور یہ سرخ بالوں والے لوگ ہیں۔ زیادہ تر آبادی شہروں میں آباد ہے اور دیہات میں یہاں کے صرف ایک تہائی لوگ آباد ہیں۔ یہاں جرمن نسل کے لوگ بھی آباد تھے جو 1991ء میں جرمنی ہجرت کر گئے تھے۔ تاہم روسی نسل کے لوگ یہاں ابھی بھی آباد ہیں۔ کِرغیز نسل کے بعد یہاں دوسرا بڑا نسلی گروہ اُزبِک لوگوں کا ہے۔
یہاں کی سرکاری بولی کرغیز ہے، جسے بیسویں صدی تک عربی رسمُ الخط میں لکھا جاتا تھا تاہم 1928ء میں سٹالن کے حکم پر اسے لاطینی میں منتقل کر دیا گیا۔ 1941ء میں اس کا رسم الخط دوبارہ بدل کر CYRILLIC SCRPT کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ یہاں روسی زبان بھی بہت اہمیت رکھتی ہے اور روسی میڈیا بھی مقبولیت رکھتا ہے۔
یہاں کے کلچر اور ثقافت سے اگرچہ اسلامی رنگ جھلکتا ہے تاہم نمایاں چھاپ خانہ بدوش طرزِ زندگی کی ہے۔ گھوڑے کا گوشت بھی مرغوب ہے اور الکوحل آمیز دودھ بھی۔ شادی کے لیے لڑکی کو اُٹھا کر لے جانا بھی روایت تھی جو پابندی لگنے کے باوجود بھی کہیں نہ کہیں رائج ہے۔
روس کے قبضے کے اثرات بُرے سہی مگر اچھے بھی بہت ہیں۔ یہاں شرح تعلیم 99 فیصد ہے۔
کرغستان میں میڈیکل کی تعلیم بالخصوص سستی ہے اور میرٹ بھی کم ہے۔ سرکاری میڈیکل کالجز میں ساڑھے تین سے چار لاکھ روپے تک سمیسٹر فیس ہے جو کہ پاکستان کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ پاکستان میں میڈیکل کی سِیٹیں کم ہوتی ہیں حتٰی کہ 90 فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے بھی پاکستانی میڈیکل کالجوں میں سرکاری سِیٹ نہیں لے پاتے۔
اگر ایک طالبعلم نے نوے فیصد نمبر حاصل کیے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ ڈاکٹر بننے کے قابل ہے لیکن سرکاری کالجز میں داخلہ نہ ملنے اور پرائیوٹ کالجز میں بھاری فیسیں ہونے کی وجہ سے طلبہ سستے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اِس وقت دس سے بارہ ہزار پاکستانی طلبہ کرغِستان میں زیرِتعلیم ہیں۔ دوسرے کئی ممالک کی طرح کرغستان بھی غیر ملکی طلبہ کو اسکالرشپ وغیرہ فراہم کرتا ہے جو کہ قابل مگر مستحق طلبہ وطالبات کے لئے ایک بہترین آفر ہے۔
کرغستان کی معیشت کا دارومدار کچھ معدنیات کی برآمدات، مویشی پالنے اور غیر ملکی طلبہ کے داخلوں پر ہے۔ ان طلبہ نے ہزاروں ڈالرز لگا کر داخلے لیے ہوتے ہیں جنہیں محفوظ ماحول میں تعلیم مہیا کرنا کرغیز حکومت کا کام ہے لیکن 2010ء میں بھی اسی طرح کے فسادات پھوٹے اور ایک پاکستانی طالب علم شہید ہو گیا تھا، اور اب دوبارہ درجنوں شدید زخمی ہو چکے ہیں۔
13 مئی 2024ء کو مصری طلبہ اور مقامی کرغیز طلبہ کے درمیان جھگڑا ہوا جس میں ایک مقامی طالبعلم زخمی ہو گیا۔ (یہ جھگڑا یقیناً اچانک نہیں ہوا ہوگا۔ تناؤ کی فضا پہلے ہی ہو گی۔ آگ اچانک نہیں بھڑک اٹھتی، اس کے پیچھے اسے سُلگانے کا سامان بھی ہوتا ہے)۔
پولیس کے عمل دخل سے معاملہ وہیں ختم ہو گیا لیکن حقیقت میں اس کو بھڑکاؤ ملا۔ مقامی طلبہ کے مطابق پولیس کا رویہ ان کے ساتھ سخت تھا اور بین الاقوامی طلبہ کے ساتھ نرم تھا۔ اس واقعے کی خوب تشہیر کی گئی اور 17 مئی کی رات کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ غیر ملکی طلبہ کے ہاسٹلوں پہ دھاوا بول دیا گیا۔ یہ اتنا متشدد اور اچانک تھا کہ نہتے غیر ملکی طلبہ کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ پولیس مظاہرین کے آگے بے بس تھی۔ بھاگنے والے طلبہ کا پیچھا کر کے انہیں مارا پیٹا گیا اور تشدد کا نشانہ بنا یا گیا۔ پولیس سے محض یہ مدد ملی کہ واقعے سے کچھ وقت قبل طلبہ کو کہہ دیا گیا کہ ہاسٹلوں میں لائٹس بند رکھیں اور باہر نہ نکلیں اور جو طلبہ باہر تھے اگر وہ کہیں نہ کہیں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے تو وہ بچ گئے۔ اگلے دن فوج کے آنے کے بعد طلبہ کی جان بچی۔
طلبہ نے دو دو دن بھوکے رہ کر گذارے۔ پاکستان واپس آنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت آئے ہیں اور پاکستانی سفارت خانے نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ صرف فون نمبرز دیے اور ان نمبرز کو بند کر دیا گیا۔ پاکستان میں بھی حکومت یہ دعوے کرتی نظر آئی کہ کرغیزستان میں حکومت، سفارت خانے اور طلبہ کے ساتھ ہمارا رابطہ ہے اور ہم طلبہ کو واپس لا رہے ہیں لیکن واپس آنے والے طلبہ کے دیے گئے بیانات نے تمام بھانڈے پھوڑ دیے۔ اعدادو شمار کے مطابق دس سے بارہ ہزار پاکستانی طلبہ کرغیزستان کی یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم ہیں۔ واپس آنے والے بچوں کی تعداد ابھی بھی صرف تقریباً چار سے پانچ ہزار ہے۔ جو واپس آچکے ہیں ان کا مستقبل داؤ پہ لگ چکا ہے۔ پیسے بھر کے داخلے لیے، اچانک جان بچا کر بھاگنا پڑا۔ اب ان کی ڈگریوں کا کیا ہو گا؟ کہا جا رہا ہے کہ آنلائن کلاسز کے بعد ڈگری مل جائے گی لیکن فائنل ائیر کے طلبہ پیپر دینے جائیں گے۔
کرغستان مسلمان ملک ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں جہاں بھی نسلی فساد پھُوٹے وہاں مذہب ہمیشہ بے بس نظر آیا۔ کسی بھی بحرانی کیفیت یا مسابقت اور اشتعال کی حالت میں لوگ مذہب کو وقتی طور پہ بھول جایا کرتے ہیں اور نسلی، لسانی اور ثقافتی شناخت اور تفاخر اُبھر کر عود آتا ہے۔ کرغستان میں کم و بیش 80 نسلوں کے لوگ آباد ہیں جن کی اکثریت مسلمان ہے جبکہ عیسائی اور دوسرے مذاہب بھی وہاں موجود ہیں لیکن اس اتحاد میں صرف قومیت نظر آئی۔ غیر ملکیوں کے مقابلے میں وہ صرف کرغیز تھے بس۔ اسی طرح پاکستانی اور انڈین چاہے مذہبی طور پر ایک دوسرے کو مشرک، کافر، پلید اور ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھیں مگر کرغیزستان میں ان کی نسلی، لسانی اور ثقافتی شناخت ایک سی نظر آئی اور اُس وقت وہ ایک دوسرے کے ہمدرد نظر آئے۔
جب ایک ہی خطے کےلوگ کافی زیادہ تعداد میں کسی دوسری جگہ جا کر آباد ہو جاتے ہیں تو وہاں ان کا آپس میں میل جول بڑھ جاتا ہے۔ لباس، زبان اور باہمی میل جول کے انداز وہ عناصر ہیں جو باہر کے لوگوں کو مقامی لوگوں کے لیے اجنبی بناتے ہیں۔ خاص طور پر زبان نہ آنے کی وجہ سے باہمی تعلقات نہیں بن پاتے۔ انگریزی زبان جو دونوں کی غیر مادری زبان ہو تو صرف ضرورت کی حد تک ہی بات چیت کی جا سکتی ہے، بے تکلفی نہیں بن سکتی۔ دوسرا یہ کہ ہر کسی کو انگریزی زبان آتی بھی نہیں ہے۔ اس کے باعث مقامی اور غیر مقامی باہمی میل جول نہیں بنا سکتے۔ غیر ملکی تارکین چاہے وہ ورکرز ہوں یا طلبہ، یہ ہمیشہ اپنے لوگوں کے ساتھ گروہ بنا کر رہتے ہیں تا کہ باہمی میل جول کی ضرورت پوری ہوتی رہے۔ یہی بات اکثر نسلی فسادات کی وجہ بنتی ہے۔
دوسری طرف آج کی دنیا گلوبل ویلج بن رہی ہے۔ بچوں کو شروع سے ہی کثیرالثقافتی معاشرے میں رہنے کے آداب سکھانے چاہئیں۔ دوسرے ملک اور نسل کے لوگوں کے ساتھ میل جول اور رواداری کا سلوک رکھنا چاہیے تاکہ وہ ذہنی طور پر دوسرے لوگوں کو قبول کر سکیں۔ اگر کرغیز حکومت کی طرف سے غیر ملکی طلبہ کو بنیادی حد تک کرغیز زبان سکھائی جاتی تو شاید روابط بڑھنے میں آسانی رہتی جیسا کہ چین، جاپان، ترکی وغیرہ میں طلبہ کو شکالر شپ پر بلایا جاتا ہے تو اُن کو پہلے سمسٹر میں اُس ملک کی زبان سکھائی جاتی ہے۔ اس سے یقیناً اس ملک میں رہنے میں آسانی ہوتی ہے۔ لیکن افسوس ترقی پذیر ممالک کی طرح کرغیز حکومت بھی صرف پیسے بنانے کے چکر میں رہی۔ انہوں نے دوسروں کا نقصان تو کیا ہی مگر کرغیز حکومت خود بھی اس کا خمیازہ کئی سالوں تک بھگتے گی کیونکہ کرغیزستان کی شہرت داغدار ہو چکی ہے۔ اور چونکہ غیر ملکی طلبہ کا داخلہ اُن کا بزنس ہے جس سے وہ زرمبادلہ کماتے ہیں مگر اب کون وہاں جانا پسند کرے گا؟ جب آپ شرپسندوں کو کھلی چھوٹ دے دیں گے کہ جو من چاہے غیر ملکیوں کے ساتھ کرتے پھرو تو پھر آئندہ سے غیر ملکی طلبہ کرغیزستان کیوں آئیں گے بھلا؟
ساتھ ہی ہماری حکومتوں کی بھی نااہلی ہے کہ طلبہ کے ساتھ اتنا کچھ ہونے کیوں دیا۔ یہ طلبہ اگر یورپی ممالک کے ہوتے تو اب تک اس واقعے پر دنیا ہِل چکی ہوتی۔ مگر ہمارے یہاں محض دو دن ہل چل رہی اور اس کے بعد طلبہ جانیں اور ان کے والدین۔
بدقسمتی یہ ہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں رُونما ہوا جب طلبہ وطالبات کی طرف سے سکالر شِپس کی تیاریاں عروج پر ہوتی ہیں۔ اپریل سے ستمبر تک بیرونی یونیورسٹیاں داخلے لے رہی ہوتی ہیں۔ پاکستانی طلبہ میں شکالرشپس پر پڑھنے کا شعور بیدار ہو رہا ہے اور وہ تگ ودو میں لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے واقعے سے اچانک خوف کی فضا قائم ہوئی ہے، خاص طور پر لڑکیوں کے والدین تو انہیں باہر بھیجنے سے پہلے سو بار سو چیں گے۔

ضرورت اِس امر کی ہے کہ حکومت باہر جانے والے ہر شہری کے پیچھے وارث بن کے کھڑی ہو لیکن باقی تمام معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی ہنُوز دِلی دُور اَست!

مقبول ترین


افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv