بلتستان میں“ کُتا شو”
ابراہیم شہزاد


بلتستان یونیورسٹی نے پیٹس شو کی آڑ میں کتوں کی خوب نمائش کی۔ اس کے بعد پیٹس شو کا موضوع آج کل ہر جگہ زیر بحث ہے۔ کوئی اس کے حق میں دلائل کے انبار لگا رہا ہے تو کوئی اس کے نقصانات پر قلم فرسائی کر رہا ہے۔ پیٹس شو کے حق میں لکھنے والوں کے نزدیک "چونکہ کتے بلی، اللہ کی مخلوق ہیں لہذا ان پر ایونٹس رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کوئی اسے بلتستان کی ویٹرنری ڈاکٹرز کی بڑی پیشرفت تسلیم کروانے پر تلا ہوا ہے۔ چند ایک لکھاریوں کی نزدیک یہ نہ صرف پیٹس شو نہیں ہے بلکہ اسلامی اور بلتی تہذیب کے خلاف کی جانے والی کوششوں کی ایک کڑی ہے۔ پیٹس شو کے اوپر لکھنے والے لکھاریوں میں سے فاضل کالم نگار بشیر دولتی صاحب کے یونیورسٹی آف بلتستان سے پوچھے گئے چبھتے سوالات پڑھنے کے قابل ہیں۔ اسی طرح محترم کالم نگار رسول میر صاحب کا تبصرہ بھی نہایت شاندار ہے۔
یونیورسٹی اگر پیٹس کے بارے میں ایونٹ کر لیتی تو بہت اچھا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ سارے جانوروں کو چھوڑ کر کُتّے اور بلی کا شو ہی کیوں؟ کاش! کوئی دانشور آ کر بکری کے پالنے کے طریقے، ان کی افزائش نسل کے لئے چارہ جوئی، جو لوگ شہری ہونے کے زعم میں بکری پالنا ترک کر رہے ہیں ان کو بکری گائے اور دیگر مفید جانور پالنے کی ترغیب دلاتے تو کیا ہی بات تھی۔ بلتستان کے لوگوں کا شعور بھی بڑھ جاتا ہے اور جانوروں کے حقوق کاشوق بھی پورا ہو جاتا۔
کتے پالنا نہ ہی اسلامی اور بلتستانی تہذیب و ثقافت میں مرسوم ہی نہیں۔ ہاں! شکاری کتے یا حفاظتی کتے ہوں تو ان کی بات الگ ہے۔
خیر! کتا شو اپنے پورے جوش و خروش سے منعقد ہوا۔ سنا ہے کتا شو کے انعقاد کرنے والے بلتستان کے تازہ ویٹرنری ڈاکٹرز ہیں۔ یوں تو یہ ڈاکٹرز "بونگبو ڈاکٹر" کہلانے کے خوف سے اپنے پیشے کا اظہار کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں، لیکن کتوں کو لیکر ان کے احساسِ تفاخر کی رگ پھڑک اٹھی ہے۔ اگر گاؤں میں کوئی بکری، بیل یا گائے بیمار ہو جائے تو لوگوں کو ہفتوں انہی ڈاکٹروں کے پیچھے پھرنا پڑتا ہے۔ بلتستان میں جانوروں سے متعلق عوام کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے ان کا کوئی ایک بھی مثبت قدم دکھائی نہیں دیتا۔
میری ان سے گزارش ہے کہ حضور! دانشوروں کا کام معاشرے کے مسائل کو حل کرنا ہوتا ہے نہ کہ دوسرے علاقوں سے غلاظتیں لا کر اپنے علاقے کو گندہ کرنا۔ ڈاکٹر صاحبان اگر مال مویشی کے بارے میں کوئی ایونٹ رکھتے تو ہم ان کا تہہ دل سے مشکور و ممنون ہوتے۔ ان کا اپنا اچھا اور مثبت چہرہ عوام کے سامنے آتا۔ اوپر سے تاحیات عہدے پر براجمان وی سی صاحب کی حمایت تو ان ڈاکٹروں کو حاصل ہونی ہی تھی۔ سو وہ حمایت بھی حاصل ہو گئی۔
میرے خیال میں بلتستان یونیورسٹی میں ایک ایونٹ وی سی کی مدت ملازمت کے بارے میں آگہی پر بھی ہونا چاہیے۔ تاکہ معلوم تو ہو کہ ایک نارمل وی سی کس عمر تک، کتنے سالوں تک، کن شرائط میں وی سی کے عہدے پر فائز رہنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔ ہمارا وی سی بدلے نہ بدلے دنیا کی دوسری یونیورسٹیوں کے اصول و ضوابط کے بارے میں تو آگہی مل ہی جائے گی۔
ایک ایونٹ تو اس بات پر بھی ہونا چاہیے کہ کیسے بلتستان کے سنجیدہ مسائل (بجلی کی کمی، سہولیات سے محرومی، شناخت سے ماورا و۔۔۔) حل کیا جائے۔ جس میں بلتستان کے مسائل کی شناخت اور ان کے راہ حل کی تدابیر پیش کی جائیں۔ جس میں وسائل کا درست استعمال کرتے ہوئے مسائل کے حل ڈھونڈنے کی کوشش بھی کی جائے۔
ہاں! پیٹس شو کے نعرے لگانے والوں سے گزارش ہے کہ اس ایونٹ کو پیٹش شو نہ کہا جائے۔ یہ تو دوسرے پیٹس کے حق میں نا انصافی ہوگی۔ اور آپ حضرات تو جانوروں پر ناانصافی ہوتا دیکھ ہی نہیں سکتے۔ لہذا اس ایونٹ کو "کتا شو" (یا مڈرن دکھنے کے لئے "ڈوگ شو" ) ہی کہا جائے تو بہتر رہے گا۔ جن لوگوں کو کُتا پسند ہے اُن کی وجہ سے ہمارے اداروں میں پہلے ہی لالچ ، رشوت اور حرام خوری کی بھرمار ہے۔ ج کُتےکی مانند و لالچی ، رشوت خور اور حرام خور ہیں وہ بلتستان جیسی پاک سرز مین پر کُتا شو نہیں کرائیں گے تو کیا کرائیں گے۔

مقبول ترین


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly