تفتان اور بلتستان
منظوم ولایتی

آج کی بات

اگر بلتستان یونیورسٹی میں " پیٹس شو" منعقد ہوا ہے تو تفتان روٹ پر لگتا ہے کہ پیٹس حکومت کرتے ہیں۔جامعہ بلتستان میں پیٹس شو کا اشتہار جونہی سوشل میڈیا پر آیا تب سے لے کر تادمِ تحریر ایک زبردست عوامی درِعمل سامنے آرہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بلتستان کی واحد یونیورسٹی کا اِس وقت بجائے فلسطین کے حوالے سے کوئی پروگرام ترتیب دینےکے' کتا شو' جیسے فضول شوز کے منعقد کرانے کا آخر کیا مقاصد ہے؟
علمائے کرام اِس حوالے سے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں کہ آخر کیوں جان بوجھ کر ہماری نئی نسل کو اسلامی وتہذیب و ثقافت سے دور کرایا جارہا ہے؟ اُن کا کہنا ہے آخر وہ کون لوگ ہیں جو عمداً بلتستان کی واحد یونیورسٹی سے متعلق لوگوں کے اذہان کو خراب کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یونیورسٹی انتظامیہ میں کوئی ایک بھی سمجھدار آدمی نہیں ہے کہ جو متوجہ کراتا کہ بلتستان کا ماحول "کتا شو" جیسی خالص مغربی تہذیب کا آئینہ دار پروگرام کا کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتا؟!
بار بار یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ بلتستان یونیورسٹی کے وائس جانسلر ڈاکٹر نعیم اِس یونیورسٹی کو آخر آئے روز ہدفِ تنقید کیوں بنواتا ہے؟ وہ آخر چاہتا کیا ہے؟ وہ کیوں یونورسٹی کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کے درپے ہے؟!
اب تفتان کا حال بھی جان لیجئے۔راقم کی آج ہی وہاں پر موجود ایک معتمد دوست سے بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ " تفتان میں ظلم کی انتہاء ہو رہی ہے"۔ شدید گرمی میں ہزاروں زائرین اور طلبہ رُل رہے ہیں۔ پینے کیلیے کھارا پانی دیا جارہا ہے۔ اڑھائی تین سو روپے لے کر پانی کی طرح کی پتلی اور باسی دال دی جارہی ہے۔ واش رومز قابلِ استفادہ نہیں ہیں۔ اوپر سے زبردستی پاسپورٹس کو بارڈر سے اپنے قبضے میں لے کر دو دن تک وہیں پر بےیارو مددگار رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ پاسپورٹ جمع کرنے کے بہانے سے رشوت لی جا رہی ہے۔

ستم بلائے ستم یہ ہے کہ تفتان سے کوئٹہ عوامی کرایہ دو ہزار روپے ہے لیکن بس والے زائرین اور طلبہ سے زبردستی پانچ ہزار روپے بٹور رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق اضافی کرایہ ایف سی کی کمائی ہے۔
صورتحال جو جاری ہے اس کے مطابق تفتان کو مختلف مافیاز کے ہاتھوں بیچ کر کالی بھیڑیں بھتہ وصول کر رہی ہیں۔ مافیاز کا تو اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔ انسانی جانیں سخت خطرے میں ہیں۔
ہمارا اعلیٰ اداروں سے پرزور مطالبہ ہے کہ تفتان بارڈر پر قیمتی انسانی جانوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ ملکی اداروں میں مافیاز کی سرپرستی کرنے والی اور بھتہ وصول کرنے والی کالی بھیڑوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔ نیز قوم کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ تفتان پر مافیاز کی رِٹ کے خلاف آواز بلند کرے۔

تفتان ۔۔۔ توجہ فرمائیے


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly