تفتان بارڈر ۔۔۔

مسافر برائے فروخت
ابراہیم شہزاد

آپ ریاست کو کیا سمجھتے ہیں؟ یہ فیصلہ اس کالم کے پڑھنے کے بعد کیجئے گا۔ اس وقت تفتان بارڈر کو ہی لیجیے۔ پچھلے کئی سالوں سے تفتان بارڈر صوفی و ہمنوا ٹولے کے رحم و کرم پر ہے۔ زائرین کو تنگ کرنا، اُن کے عقائد پر حملے کرنا، بزرگوں اور خواتین کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنانا تو معمول کی بات ہے۔ تفتان کی تپتی دھوپ میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں سے لیکر بڑے بزرگوں تک ہر کسی کو گھنٹوں فضول میں ستائے رکھنا تو ان کا مرغوب مشغلہ بن گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں صوفی اور اس کی ان پڑھ ٹیم نوے کی دہائی کے کاغذ و پنسل لیکر اپنی پوری قابلیت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ قابلیت کے بارے میں بس اتنا بتا دوں کہ انہیں "تومان" لکھنا نہیں آتا۔ یہ تو بہت پہلے سے چل رہا تھا۔
ابھی نااہلی اور کرپشن کا نیا روپ دیکھئے! تفتان بارڈر سے لیکر کوئٹہ تک مسافرین کو کچھ مافیاز کے ہاتھوں بیچ دیا جاتا ہے۔

مسافر گاڑیوں میں ایرانی تیل فراخت کرنے اور لوگوں کی جل کر کباب بننے کی خبریں تو پہلے سے ہی دبا دی جاتی ہیں۔ جتنے واقعات ہوئے ان پر مٹی اور پانی دونوں کو ڈال دیا گیا۔ ان دنوں ۲۰۰۰ روپے تفتان سے کوئٹہ کا کرایہ ہے۔ ایف سی بھتہ لینے کیلئے مسافروں کو ٹرانسپورٹرز کے ہاتھوں فروخت کر دیتی ہے۔ جہاں ٹرانسپورٹرز مسافروں کو ہراساں کر کے فی نفر 5000 ہزار وصول کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کانوائی کے نام پر ایف سی مسافروں کو کئی کئی دنوں تک تفتان کی تپتی دھوپ میں روکے کر ٹارچر کرتی ہے۔

ٹارچر کرنے کا مقصد لوگوں سے مزید رقم انیٹھنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ان سے زبردستی پاسپورٹ چھین لئے جاتے ہیں ، پاسپورٹوں کی واپسی پر مزید رقم وصول کی جاتی ہے ۔ تفتان میں لوگوں کو روک کر زبردستی کھانے پینے کی اشیا خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ایک مخصوص مافیا لوگوں کو شاید کسی کچرے سے باسی دال اور روٹیاں جمع کر کے لوگوں کو مہنگے داموں بیچتا ہے۔ لوگ مجبوری کے مارے یہ گندی چیزیں اور گندا پانی خرید کر پیتے ہیں جس سے متعدد بیماریوں کے شکار ہو رہے ہیں، ان کی صحت کا کسی کو کوئی خیال نہیں۔ یہ بیماریاں آگے چل کر پورے ملک میں پھیلیں گی۔
جس ٹارچر سیل میں لوگوں کوزبردستی حبس بے جا میں رکھتے ہیں اور گند کھلاتے ہیں،ان بدبختوں نے اس کا نام پاکستان ہاوس رکھا ہوا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ لوگوں کو پاکستان سے متنفر کرنے کیلئے اس عقوبت خانے کو پاکستان ہاوس کا نام دیا گیا ہے۔

وہاں گندگی کی وجہ سے سڑاند اور بدبو میں سانس لینا ممکن نہیں۔ گندے بدبودار ، جراثیموں اور بیکٹریاز سے آلودہ باتھ رومز، غلاظت اور تعفن سے بھرے ہوئے گندےمیلے کمرے اور مہنگے دام ۔۔۔ یہ سب مسافروں کو جھیلنا پڑ رہا ہے۔

لوگوں کا منہ بند رکھنے کیلئے ہر کچھ عرصے کے بعد تفتان روٹ پر مختلف مافیاز میں سے کسی کو آگے کر کے دہشت گردی کی ایک نئی واردات کرا دی جاتی ہے، اس کے بعد ان مافیاز کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ دونوں ہاتھوں سے مسافروں کو لوٹتے ہیں۔
ہمیں ابھی تک یہ امید ہے کہ اس ملک میں تمام اداروں کے اندر بے کس عوام اور عام لوگوں سے محبت کرنے والے، فرض شناس اور رشوت کو لعنت سمجھنے والے، محب وطن اور قانون و آئین کی پاسداری کرنے والے اعلی حکام ، بیوروکریٹ،اور افیسرز موجود ہیں۔

ہماری ان سب سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے کو سمجھیں۔یہ مسئلہ صرف انتظامی مسئلہ نہیں یہ ہزاروں انسانوں کی جان و مال، عزت و آبر و اور صحت و زندگی کا مسئلہ ہے۔

یہ مسئلہ دہشت گردی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایرانی تیل کی اسمگلنگ چینی کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ، طرح طرح کی اوورلوڈنگ اور اوور اسپیڈ، ٹرانسپورٹ و ہوٹل مافیاز اور سرکاری اداروں میں چھپی ہوئی کچھ کالی بھیڑوں کی بھتہ خوری کا مسئلہ ہے۔

اسمگلنگ کیلئے مسافر بسوں کو اندرسے فٹ بال کی طرح بھر دیا جاتا ہے

تفتان میں درحقیقت مسافروں سے بھتہ وصول کرنے کیلئے انہیں مختلف مافیاز کے ہاتھوں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ خدا کیلئے اس مسئلےکو سمجھئے اور عوام کی مدد کیجئے۔ بھتے کیلئے مسافروں کو مختلف مافیاز کے ہاتھوں فروخت کرنا یہ کچے کے ڈاکووں سے زیادہ خطرناک عمل ہے۔ آگے چل کر اس کے انتہائی بھیانک نتائج نکلیں گے۔

آج اپنی تجوریاں نہ بھریں بلکہ آنے والے کل کی فکر کریں۔ پہلے ہم نے جہاد افغانستان کے نام پر تجوریاں بھری تھیں، اُس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔

گاڑیوں کی اندر سے بھی خوب اوورلوڈنگ کی جاتی ہے

تفتان الرٹ

تعلیم و تربیت


افکار و نظریات: google, print, voice, nation