اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات کہاں سے آئے یہ اثاثے ؟ جنھوں نے پیدل و سائیکل پر سفر شروع کیا تھا، آج ان کے پاس کروڑوں کے اثاثے کہاں سے آئے ؟ کیا ان کا کوئی ذاتی کاروبار ہے؟ ذاتی کاروبار کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا ؟ ان افراد کے زرائع آمدن کیا ہیں؟ کیا ان کے وسائل زرائع آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں؟ کیا یہ اپنے وسائل سے مہنگی گاڑیوں، عالیشان مکانات میں پر آسائش زندگی بسر کر سکتے ہیں؟ کیا یہ ملی وسائل کی آمدن و خرچ کا حساب رکھتے ہیں اور باقاعدہ سالانہ آڈٹ کرواتے ہیں؟ انھوں نے اپنی اولادوں کو جو اثاثے منتقل کئے ہیں، کیا وہ اثاثے ان کے اپنے ہیں؟ البتہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اگر پاکستان میں ملت جعفریہ کے چند رہنماؤں، مدارس کے مدیران، ٹرسٹ و ادارہ مالکان و تنظیمی افراد نے ایسا کیا ہے تو انہیں اُن کے نام سے مخاطب کیا جانا چاہیے۔ یقیناً ایسی تحریریں لکھنے والے احباب سیکولر فکر کے حامل نہیں ہیں اور نہ ہی اُن کا مقصد ملت جعفریہ میں سے سارے علمائے کرام اور لباسِ روحانیت کو حذف کر کے سیکولر بنیادوں پر دینی مدارس، فلاحی و رفاہی اداروں اور قومی تنظیموں کو چلانا ہے۔ جب ہم حضرت امام خمینی ؒ اور شہید ابراہیم رئیسی ؒ کی مثالیں دیتے ہیں تو ہمیں اپنے دلوں اور معاشرے میں علمائے کرام کو بھی وہی مقام دینا ہوگا جو ایران کے معاشرے میں علما کو دیا جاتا ہے۔ یہ باوا گروپ اور ملنگ طبقے کی بات نہیں کر رہا بلکہ بڑے بڑے انقلابی و تنظیمی حضرات کا نوحہ ہے۔ پھر جب کہیں معاشرے میں انحراف نظر آتا ہے تو یہی انقلابی و تنظیمی حضرات سینہ کوبی کرتے ہیں کہ علما کچھ نہیں کر رہے، علما سستی کر رہے ہیں، علما اپنا فریضہ ادا نہیں کر رہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔ آپ خود مختلف مجالس، ورکشاپس اور دروس کا سروے کر کے دیکھ لیں، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہم علما کو ایسی حالت میں رکھنا چاہتے ہیں کہ وہ مانگ مانگ کر کھاتے رہیں۔جب تک وہ ہمیں اپنے اخراجات کے پورا کرنے کیلئے عرضیاں بھیجتے رہیں تو وہ ہمیں مومن، متقی، روحانی، پارسا اور اچھے لگتے ہیں لیکن اگر اُن کے گھر سے کھانا پکنے کی خوشبو باہر آجائے تو ہمیں اُن کی روحانیت خطرے میں محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ سہولیات کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ نسل در نسل معاشرتی ارتقا کا ماحصل ہے۔ اگر ایران کی روحانیت ، لبنان، یمن، شام ، عراق اور غزہ میں بصیرت اور شجاعت کی تاریخ رقم کر رہی ہے تو اُس کی پُشت پر معاشرتی حمایت موجود ہے۔ دوسری طرف یہ ہمارا پاکستانی معاشرہ ہے ۔ جی ہاں یہ ہمارا معاشرہ جہاں ہم نے صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود شاید ساری زندگی میں کسی ایک دینی طالب علم کی بھی سرپرستی کر کے اُسے ایک علمی مقام تک نہ پہنچایا ہو لیکن ہم تمام دینی مدارس اور علمائے کرام کو کرپٹ کہنے کو اپنا قومی و ملّی فریضہ سمجھتے ہیں۔ کرپٹ کو کرپٹ کہنے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ کہنا اُس وقت مفید اور جائزہے جب ہم حقیقی معنوں میں، مشخصات کے ساتھ کرپٹ عناصر کے نام لے کر ثبوتوں کے ساتھ اُن پر تنقید کریں، اُن کو خطوط لکھیں، اُن کے خلاف عدالتوں میں جائیں اور مقدمات کریں، اور شواہد کے ساتھ سوشل میڈیا پر لوگوں اور مخیّر حضرات کو اُن کے بارے میں آگاہی دیں۔ کیا چند افراد کی وجہ سے ہمیں سارے علمائے کرام پر خط تنسیخ کھینچ دینا چاہیے؟ یقیناً کرپٹ افراد کو مشخص کر کے اُن سے سوال پوچھنا ، اُن کے خلاف مقدمات قائم کرنا۔۔۔ اصلاح احوال کیلئے ضروری ہے لیکن کھرے اور کھوٹے کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنا اصلاح کے بجائے خرابی اور بگاڑ کا شاخسانہ ہے۔ سوءِ ظن کے نقصانات سے ہم سب آگاہ ہیں، اگر ہم ڈونرز اور مخیّر حضرات کو مدد کرنے کیلئے درست سمت دکھانے کے بجائے، اُنہیں علمائے کرام، اپنی تنظیموں، اپنے اداروں اور اپنی تنظیمی شخصیات سے ہی بدظن کر دیں گے تو اس سے الہی منصوبوں کو جو دھچکا لگے گا کیا ہم خدا و رسولؐ اور اہلبیت ؑ کو اُس کا جواب دے سکیں گے؟ کیا اس طرح قومی منصوبوں کو جو نقصان پہنچے گا اُس کی تلافی ہو سکے گی؟ کیا ضروری ہے کہ ہم مخلص علمائے کرام اور برجستہ تنظیمی شخصیات نیز فلاحی و رفاہی خدمات انجام دینے والوں کی وفات کے بعد ہی اُن کی خدمات کے اعتراف میں کچھ بولیں یا لکھیں؟ تصویر کے دونوں رُخ ڈونرز اور مخیّر حضرات کے سامنے رکھے جانے چاہیے۔ اُنہیں ثبوتوں کے ساتھ بتایا جانا چاہیے کہ ان افراد کے ہاں مالی امور میں شفافیت نہیں ہے اور ان کے ہاں شفافیت موجود ہے۔ کرپشن سے جنگ کا سفر ایک لمبا، طولانی اور تاریخی سفر ہے۔ اس جنگ میں آج بھی فوجیں مدمقابل صف آرا ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ بعض لوگ کھانا ایک طرف کھاتے ہیں اور نمازیں دوسری طرف پڑھتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر سب کو ایک جیسا نہیں کہا جا سکتا۔ مالک اشتر کو موقع پرستوں جیسا کہنا سچائی اور حقانیت کا انکار ہے۔ خبردار! یہیں بصیرت کی ضرورت ہے، کہیں کھرا اور کھوٹا ایک نہ ہو جائے۔ اصلاح کا نعرہ بہت دلکش ہے لیکن کہیں "كلمة حق يراد بها باطل" کا تکرار نہ ہو جائے۔ کہیں ان مشکوک باتوں اور تحریروں سے خوارج کی طرح کوئی تیسرا گروہ نہ نکل آئے ۔۔۔اور۔۔۔ اس تیسرے گروہ کے بانی شعوری یا لاشعوری طور پر کہیں ہم خود ہی نہ ہوں۔ یاد رکھئے! تعمیر اور تخریب کے درمیان بہت باریک سی لکیر ہے، اُس لکیر کو ہمیشہ محفوظ رہنا چاہیے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

نذر حافی
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک تحریر نظروں سے گزری۔ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ چلیں کوئی تو ہے جو ان مسائل پر بات کر رہا ہے۔ بصد افسوس تحریر پر محرّر کا نام درج نہیں تھا۔ تحریر کا پہلا پیراگراف ہی اس کی اہمیت کو واضح کر رہا تھا۔ آپ بھی ملا حظہ فرمائیے:
"بانی انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی حضرت امام خمینی نے جمکران میں ایک تین مرلے کا گھر ورثے میں چھوڑا، 36 سال سے مقام معظم رہبری کے منصب پر فائز حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا چھوٹا سا ذاتی مکان ہے، جہاں سے وہ فرائض منصبی ادا کرنے کے ساتھ انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے ہیں، صدر ، چیف جسٹس و ملٹی بلین ادارے آستان قدس رضوی کے سربراہ جیسی اہم ذمہ داریوں پر فائز رہنے اور 45 برس انقلاب اسلامی کی خدمت کرنے والے شہید صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی نے ورثے میں پانچ مرلے کا مکان چھوڑا، سابق ایرانی صدور پنشن اور مزید ملازمت کر کے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔"
اس پیراگراف کے بعد چند سوالات اٹھائے گئے تھے وہ بھی پیشِ خدمت ہیں:
ایسے میں سوال ہے پاکستان میں ملت جعفریہ کے چند رہنماؤں، مدارس کے مدیران، ٹرسٹ و ادارہ مالکان و تنظیمی افراد نے کروڑوں، اربوں کے اثاثے کیسے بنا لیے ؟؟
کیا انھیں یہ اثاثے وراثت میں ملے؟
میں نے چند مرتبہ یہ سوالات پڑھے، آپ بھی چند مرتبہ پڑھیں۔ پہلا سوال ہی یہ بتا رہا ہے کہ لکھاری کی نظر میں چند رہنما، مدارس کے مدیران، ٹرسٹ و ادارہ مالکان و تنظیمی افراد ایسے ہیں جن کی وجہ سے یہ تحریر لکھی گئی ہے۔ اگلی سطور میں ایسے افراد کی دو نشانیاں بتائی گئی ہیں " جنھوں نے پیدل و سائیکل پر سفر شروع کیا اور آج ان کے پاس کروڑوں کے اثاثے ہیں، انھوں نے اپنی اولادوں کو اثاثے منتقل کئے ہیں"۔اس سے کسی کو انکار نہیں کہ مصنف کے خدشات ہر منصف مزاج انسان کے نزدیک درست ہیں۔
آج کے اِس آشوب دور میں کہ جب اسلامی معاشرے پر ہر طرف سے طاغوت کی ثقافتی، سیاسی، اقتصادی اور الحادی یلغار جاری ہے ایسے میں بابصیرت علمائے کرام سے استفادہ اور معاشرے میں انہیں ان کا جائز مقام دینا یہ عقلی و شرعی لحاظ سے ضروری ہے۔ 
ایران کے برعکس ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں علمائے کرام کو جب کہیں درس کیلئے بلایا جاتا ہے تو ٹیکسی والے کی قدروقیمت کو پہچانتے ہوئے اُسے تو کرایہ دے دیا جاتا ہے لیکن وہ عالم ِدین جو درس دیتا ہے، اُسے پھوٹی کوڑی دینے کو بھی اسراف سمجھا جاتا ہے۔
کتنے ہی ایسے علمائے کرام ہیں جنہیں مختلف ورکشاپس اور پروگراموں میں دروس کیلئے جب بلایا جاتا ہے تو انہیں کرایہ تک نہیں دیا جاتا۔
ہم پاکستان میں جس ایران کی مثالیں دیتے ہیں وہاں حقیقی معنوں میں علمائے کرام کی زندگیوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔آج وہاں ایک عالم دین کو ہمارے ہاں کے بیوروکریٹس کے برابر اور آج کے زمانے کے مطابق ساری ضروری سہولیات حاصل ہیں ۔
وہاں ایک طالب علم ہونے کے ناتے حجۃ الاسلام شہید رئیسی اور ایک عام سے طالب علم کے معیارِ زندگی میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں کا سکالرشپ علمی سطح کے مطابق ایک جیسا ہے، دونوں کو فری میں بیمہ کی سہولت ، صحت کی بہترین سہولیات، بچوں کی تعلیم کی سہولیات، فرہنگی و تفریحی دورہ جات ، زیارات عتبات عالیہ، گھروں کے کرائے میں ایک جیسی سہولیات، کوئی حادثہ ہو جائے، بیماری لگ جائے، گھر کا کوئی کفیل نہ ہو تو کسی طالب علم کو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں۔
سارے علمائے کرام کو ایک جیسا اور کرپٹ کہنا، نیز اچھے علمائے کرام کو علمائے سُو اور درباری ملاوں کے برابر ٹھہرانا یہ اچھائی، انصاف اور تعلیمات قرآن و اہلِ بیت ؑ کا قتل ہے۔
ہماری ملت میں اچھے ، بابصیرت اورمتقی ، تنظیمی افراد و علمائے کرام کی کمی نہیں، ہمیں سب کو غلط کہنے کہنے کے بجائے اپنے قابلِ اعتماد علمائے کرام اور شفاف طریقے سے چلنے والے اداروں کا لوگوں کو تعارف بھی کرانا چاہیے اور ڈونرز کو یہ شعور دینا چاہیے کہ وہ اچھی طرح چھان بین کر کے ذمہ دار افراد کے ہاتھوں تک اپنے عطیات پہنچائیں۔
راقم الحروف کے مطابق ان مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ ہم جہاں شعور و آگاہی کیلئے ثبوتوں اور شواہد کے ساتھ کرپٹ عناصر کو مشخص کریں وہیں مخلص، مفید اور موثر علمائے کرام اور تنظیمی شخصیات نیز بہترین رفاہی اداروں کا تعارف بھی کرائیں۔
افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں