اربعین اور خیبر جدید

تحریر: منظوم ولایتی

اربعین کا مطلب چالیسواں ہوتا ہے۔ یہ تو لغوی معنی ہوا۔ اب اگر کوئی اربعین کا حقیقی و عاشقانہ معنی جاننا چاہے تو اس کی خدمت میں عرض ہے کہ اربعین ، جہاں حسین ابن علی ع سے تجدید عہد کا نام ہے وہیں حسین زمان مہدی موعود علیہ السلام سے بھی عہد باندھنے کا نام ہے۔

یہاں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیسا تجدید عہد؟ جواب یہ ہے کہ راہ و ہدف حسین ع کو آگے لے کر جانے کا تجدید عہد تاکہ اسلام کی عالمگیریت عملی شکل اختیار کرسکے۔

اب یہاں آکر قاری پھر سوال اٹھاتا ہے کہ حسین ابن علی ع کے قیام کا راہ و ہدف کیا تھا؟ جواب میں کہا جائے گا کہ یدیدیت کی پلیدیوں کو تطہیر کا پالا ہوا حسین ع نشان عبرت بنانا چاہتا تھا تاکہ دنیا میں حق کی راہ کے عشاق کیلیے منزل واضح ہوسکے اور عاشقانہ راہ الہی پر بندگان خدا سفر کرسکیں۔

اربعین کے دن کی مناسبت سے ایک خاص زیارت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔جسے شیخ عباس قمی رح نے مفاتیح الجنان کے اندر بھی نقل کیا ہے۔

شیخ عباس قمی (رح)مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ یہ وہ زیارت ہے جو امام حسینؑ کے چہلم کے دن یعنی بیس صفر کو پڑھی جاتی ہے۔ شیخؒ نے تہذیب میں اور مصباح میں امام حسن عسکریؑ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:
مومن کی پانچ علامات ہیں:

﴿۱﴾ ہر شب و روز میں اکاون رکعت نماز پڑھنا کہ اس سے مراد سترہ رکعت فریضہ اور چونتیس رکعت نافلہ ہے ﴿۲﴾ زیارت اربعین کا پڑھنا ﴿۳﴾ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا ﴿۴﴾ سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی خاک پر رکھنا ﴿۵﴾ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھنا۔ ( شیخ عباس قمی، باب زیارات معصومین، کربلائے معلی)


قارئیں گرامی! اس زیارت کا چشم کشا جملہ یہ ہے:

وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِیکَ لِیَسْتَنْقِذَ عِبَادَکَ مِنَ الْجَهَالَهِ وَ حَیْرَهِ الضَّلَالَهِ

اِس جملے کا سادہ ترین ترجمہ یہ بنتا ہے کہ ( میں گواہی دیتا ہوں کہ) امام حسینؑ نے اپنا خونِ جگر خدا کی راہ میں بہایا تاکہ اللہ کے بندے جہالت اور گمراہی کی حیرتوں سے بیدار ہوکر باہر نکل سکیں۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج پوری دنیا پریشان ہے۔کہیں جنگ ہے کہیں بھوک کے ڈھیرے ہیں اور کہیں فکری و نظریاتی افلاس۔ اسی طرح سے کہیں طبقاتی نظام کی جکڑ ہے اور کہیں انسانیت کُشی کا بازار گرم۔

مزید اینکہ مسلم دنیا کا ایک اہم خطہ غزہ ساڑھے دس ماہ سے صہیونیوں کے رحم و کرم پر ہے۔صہیونی مسجد، اسکول، اسپتال خلاصہ کسی بھی چیز کو نہیں بخش رہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ دو عرب مسلمان چالیس لاکھ صہیونیوں کے مظالم کے سامنے حیرت اور پریشانی کے عالم میں ڈھوبے ہوئے ہیں۔ حالانکہ جتنی پورے اسرائیل کی کل آبادی ہے اُس سے زیادہ عالمِ اسلام کی صرف فوجیں ہیں! خاص طور پر عرب ممالک کی تلواریں تو "جنگ" کے بجائے "رقص" کے کام آرہی ہیں۔ "عرب لیگ" اور "او آئی سی" وغیرہ "اوہ آئی سی" بن کر رہ گئی ہیں۔

اس سب کچھ کے باوجود مسلم دنیا پر مسلط عالمی سامراجی حکومتوں کی نمائندہ پٹھو حکومتیں امت مسلمہ کی پے درپے چیخ و چکار کے باجود کچھ نہیں کر پارہی ہیں سوائے مذمتی قراردیں پاس کرنے کے۔ یہ کس قدر مقام حیرت ہے۔ شرمندگی نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے جس سے مسلمان حکمران خالی ہیں۔ چالیس ہزار سے اوپر بچے،خواتین اور نہتے مسلمان شہید ہوئے ہیں جس کا انہیں احساسِ زیاں تک نہیں۔

بقول شاعر مشرق رح کے:

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس ضیاع جاتا رہا


یہاں امت مسلمہ کو امام حسین ع سے الہام لینے کی ضرورت ہے جیسا کہ فلسطینی غیرت اور شجاع قوم کربلا کو اپنا سرمشقِ زندگی قرار دے چکے ہے اور صہیونیوں کے سامنے استقامت دکھا رہی ہے۔فلسطینی سب کچھ قربان کر رہے ہیں لیکن اپنے اہداف کے حصول کیلیے پوری قوت و طاقت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔ کسی صورت ذلت کو قبول نہیں کر رہے۔ باقی مسلم دنیا میں سوائے مقاومتی بلاک کے سب امریکی سامراجی دُمچلے غزہ کے ستم دیدہ بچوں اور خواتین سے بھی زیادہ خوفزدہ ہیں!


ایسے ہی مواقع پر شاید علامہ اقبال نے اسی لیے ہی کہا تھا :

قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!

اِس سال کا اربعین گزشتہ سال سے متفاوت ہونا چاہیے۔ہر سفر عشق کے راہ رو کو چاہیے کہ وہ امام حسینؑ سمیت مہدی آخر الزمان ع سے تجدید عہد کرے کہ مولاؑ پوری امت بےشک خاموش رماشائی بنی رہے مگر تیری "ہل من ناصر ینصرنی" پر لبیک یا حسین ع کہنے والے اہل غزہ کو کبھی تنہا نہیں چھوڈیں گے، اسلیے کہ اسرائیل نامی اس خیبر جدید کے در کو اکھاڑنے کیلیے "حیدری" ہونا ضروری ہے۔

جوش ملیح آبادی نے اپنے معروف کلام "حسین اور انقلاب" میں کیا خوب کہا ہے:


اے دوستوں فرات کے پانی کا واسطہ
آل نبیؐ کی تشنہ دہانی کا واسطہ
شبیرؑ کے لہو کی روانی کا واسطہ
اکبرؑ کی ناتمام جوانی کا واسطہ
بڑھتی ہوئی جوان امنگوں سے کام لو
ہاں تھام لو حسینؑ کے دامن کو تھام لو


آئین کشمکش سے ہے دنیا کی زیب و زین
ہر گام ایک ’’بدر‘‘ ہو ہر سانس اک ’’حنین‘‘
برھتے رہو یوں ہی پئے تسخیر مشرقین
سینوں میں بجلیاں ہوں زبانوں پہ ’’یاحسینؑ"


تم حیدری ہو سینۂ اژدر کو پھاڑ دو
اس خیبر جدید کا در بھی اکھاڑ دو


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly