اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات ملوکیت۔۔۔ نقد زیرِ نقد ہر شعبے میں منصف مزاجی سے کام لینا چاہیے۔ ہم ملوکیت یعنی بادشاہت پر حضرت مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ کے نقد کو بھی انصاف کے ترازو پر پرکھنے کے مشتاق ہیں۔ بھلا تحقیق و تصنیف میں جانچ پرکھ نہیں ہو گی تو پھر کہاں ہو گی؟ کسی بھی قوم کی عظمت و بزرگی کیلئے یہ کافی ہے کہ وہ انصاف پسند ہو۔ چنانچہ ہمیں ملوکیت یعنی بادشاہت سے نفرت کے بجائے اُسے نفرت انگیز بنانے کے عمل کا منصفانہ جائزہ لینا چاہیے۔ تاریخی طور پر بادشاہت اپنے زمانے کا ایک بہترین نظامِ حکومت رہا ہے۔ ابنِ آدم کے عروج اور ارتقا میں اس کا بڑا کردار ہے۔ تاریخ بشریت اور قرآن کا قطعی فیصلہ ہے کہ کسی کے بادشاہ ہونے یا اُس کے اپنے بیٹے کو جانشین بنانے میں کوئی برائی نہیں، بلکہ اصولی اقدار کو پامال کرکے اقتدار کو ہتھیانے میں قباحت ہے۔ اقدار کو پامال کرکے آپ جمہوریّت بھی قائم کریں تو اس میں بھی برائی ہی برائی ہے۔ بے شک اپنے ہاں کی جمہوریّت کو ہی دیکھ لیجئے۔ پس قباحت اور بُرائی بادشاہت یا جمہوریّت میں نہیں بلکہ اقدار، اصولوں، معیارات اور حقائق کی پامالی میں ہے۔ اب آتے ہیں دینِ اسلام کےاندر ملوکیت و بادشاہت کے داخلے کی طرف۔ دینِ اسلام میں آخری نبی کی حکومت ایک الہی و نبویؐ حکومت تھی۔ اس حکومت کو کسی بھی طور سے دین سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد مندرجہ ذیل سوالات بادشاہت اور ایک نبوی ؐ حکومت کے درمیان فرق کی وضاحت کیلئے کافی ہیں : خصوصاً پیغمبرِ اسلامؐ ایک ایسے ایک عظیم مدبِّر، دوراندیش مفکر، بہترین قائد، بابصیرت رہنماء اور ایک بے مثال انقلابی رہنماء تھے کہ آپ نے صرف تئیس سال میں مکے و مدینے کے عقائد، عبادات، تہذیب و تمدن، جغرافئے، جنگی اصلوں، صلح کی اقدار اور ۔۔۔ کو زیر و زبر کر دیا۔ کیا اتنا عظیم رہنماء یہ بتا کر نہیں گیا کہ میرے بعد میرے مشن کو جاری رکھنے کیلئے میری حکومت کون چلائے گا۔؟
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

ڈاکٹر نذر حافی
اللہ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے خود بھی بادشاہ متعیّن کئے ہیں۔ملاحظہ فرمائیں: وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا ۚ قَالُوا أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ۖ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ۔" (بقرہ ۲۴۷) "اللہ تعالیٰ نے حضرت طالوت ؑ کو بادشاہ بنایا، اسی طرح اللہ نے حضرت داود علیہ اسلام کو بادشاہت عطا کی۔سورہ ص کی آیت ۱۹ سے چھبیس کا مطالعہ کریں۔ حضرت داود علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ اسلام کو اپنا جانشین بنایا، سورہ نمل میں حضرت سلیمان علیہ اسلام کی بادشاہت اور دربار کی شان و شوکت کا ذکر موجود ہے۔ صرف بادشاہوں کی بات ہی نہیں بلکہ اسی سورہ میں ملکه سبا کا ذکر بھی ہے۔
کوئی بھی شخص خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو، اگر منصف مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تفکر، تعقل اور تدبّر کے ساتھ صرف سورہ نمل کا مطالعہ ہی کر لے تو اُس پر واضح ہو جائے گا کہ "نہ ہی تو بادشاہ یا ملکہ ہونا کوئی بُری بات ہے اور نہ ہی کسی بادشاہ کا اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانا۔"
اسی طرح بادشاہِ حبشہ "نجّاشی" بھی تو ایک بادشاہ ہی تھا، جس نے مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دی تھی۔کیا نجّاشی کے بادشاہ ہونے سے انکار ممکن ہے؟
اس بات کو مزید سمجھانے کیلئے میں اپنے آپ سے یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کیا سب سے پہلے میں بذاتِ خود یہ ماننے کو تیار ہوں کہ جو چیز میری ہے ہی نہیں، میں اُس کا مالک بھی نہیں۔ بے شک میں سالہاسال اُس چیز پر قبضہ جمائے بیٹھا رہوں۔ ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی کوئی ناجائز قبضہ جائز نہیں ہوجاتا۔ ایسا قبضہ چاہے آمریت، بادشاہت یا جمہوریت کے روپ میں کیا جائے اور یا پھر عیسائی، یہودی یا مسلمان ہونے کے نام پر۔ ناجائزہ قابض اُس مقبوضہ شئے کو چاہے اپنے کسی دوست کو دے یا اپنے بیٹے کو اس کا وارث بنائے، اس سے قبضہ جائز نہیں ہو جاتا۔
فطرتِ سالم اور عقلِ سلیم کے مطابق جبر و استبداد سے چاہے کسی کی زمین ہتھیائیں، حکومت پر قبضہ کریں یا کسی سے اپنی اطاعت و بیعت کروائیں، یہ سب غیر پسندیدہ ہے۔ خواہ کوئی بادشاہ ایساکرے یا جمہوری صدر انجام دے اور چاہے کوئی کسی علاقے کا وڈیرہ ۔ بس سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ بُرا کام بُرا ہے چاہے بادشاہت کے نام پر ہو یا کسی بھی دوسرے نام پر۔
۱۔ نبی اکرمﷺ کی حکومت عین نبوّت تھی یا یہ ایک نبوی کام نہیں بلکہ ایک غیر نبوی اور محض دنیاوی کام نعوذباللہ بادشاہت تھا۔؟
۲۔ کیا پیغمبرﷺ کے پاس دو منصب تھے، ایک نبوّت کا اور دوسرا بادشاہ ہونے کا؟ آپ کچھ دیر کیلئے بطورِ نبی کام کرتے تھے اور کچھ دیر کیلئے بطورِ بادشاہ؟ یا نہیں پیغمبرﷺ کی بادشاہت اور حکومت عین نبوّت اور کارِ رسالت تھی؟ ۳۔ اگر پیغمبر کی نبوّت، رسالت اور حکومت ایک ہی شئے تھی تو ختمِ نبوّت کے ساتھ نبوّت تو ختم ہوگئی کیا نبی ؐ کی حکومت بھی ختم ہوگئی تھی؟
ہر کلمہ گو مسلمان کے نزدیک ہمارے نبیؐ کی حکومت خالصتاً ایک نبوی حکومت تھی اور نبی ؐکے وصال کے وقت یہ نبوی حکومت باقی بھی تھی، نیز اس نبوی حکومت کے باقی رہنے میں جہاں کئی دیگر حکمتیں پوشیدہ تھیں وہیں یہ حکمت بھی مضمر تھی کہ ختمِ نبوّت کے بعد قیامت تک اسی حکومت نے لوگوں کی ہدایت اور تربیّت کرنی تھی۔
گزشتہ چودہ سو سال کی طرح ہر مسلمان کی مانند مفکرِ اسلام مولانا مودودی ؒ کے دل و دماغ پر بھی یہ سوال چھایا ہوا تھا کہ کیا خدا اور اُس کے رسول نے قیامت تک اس اتنی اہم حکومت کو باقی رکھنے کیلئے کچھ نہیں کیا تھا؟ اگر کچھ کیا تھا تو نصوصِ قرآن و حدیث کے مطابق وہ کیا تھا؟
آج ہم دیکھتے ہیں کہ عام اور چھوٹے چھوٹے رہبر و رہنماء بھی اگلے پچاس سو سال کے بعد پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ہمارے یہ عام سے لیڈر اتنی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں تو کیا نبی اکرم ؐ جیسا عظیم رہبر و رہنماء ان خطرات کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا تھا کہ میرے بعد میری حکومت کو بادشاہت میں تبدیل کر دیا جائے گا؟ میری قائم کردہ حکومت کے بیت المال سے رنگ رلیاں منائی جائیں گی؟ میری قائم کردہ اسلامی ریاست کی بساط لپیٹ دی جائے گی؟ اور میری آل و اہل بیت کو دیوار سے لگا دیا جائے گا۔؟ کسی چھوٹے سے سکول یا مدرسے کا مدیر بھی اگر کسی سفر پر جائے تو یہ خلاف عقل ہے کہ وہ اپنا کوئی جانشین اور نائب بنائے بغیر چلا جائے۔ جب عام آدمی کی عقل اتنا کام کرتی ہے تو وہ جو ختمِ نبوّت کا تاجدار ، کُلِّ عقل اور مجسمہ عقل و خِرد ہے، کیا وہ اتنی اہم حکومت و سلطنت کو اپنے کسی واضح نائب اور مشخص جانشین کے بغیر چھوڑ گیا۔؟
جب ہزاروں سال پہلے حضرت داود ؑ جیسا نبی اپنے بیٹے کو اپنی حکومت کا جانشین بنا کر گیا، تو کیا جو آج کے جدید ترین عہد کا نبی ہے اور جس پر نبوّت ہی ختم ہوگئی اور جو سارے انبیاء کا سردار ہے اور جس کا دین سارے عالمین کیلئے ہے، کیا نعوذ باللہ وہ اپنی حکومت کے جانشین بنانے کی اہمیّت کو نہیں سمجھتا تھا۔؟
ایک ایسا اسوہ کامل ؐ، ایک ایسا جامع نمونہ حیاتؐ جس نے ہمارے لئے گھر سے نکلنے کی دُعا، غُسلِ جنابت کا طریقہ، بیت الخلاء کے احکام، کھانے کے آداب اور مسواک کے فوائد تک بتائے تو کیا وہ یہ نہیں بتا کر گیا کہ میرے بعد عالمِ بشریت کی ہدایت و تربیت انجام دینے والی میری حکومت کا کیا بنے گا۔؟ کیا اتنے دوراندیش رہبر و رہنماء کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ میرے بعد میری جانشینی کے مسئلے پر میری ہی اُمّت میں ایسا شدید اختلاف پیدا ہوگا کہ لوگوں کی ہدایت کے بجائے قیامت تک میری اُمّت داخلی انتشار اور فرقہ واریّت میں اُلجھ جائے گی؟
مولانا مودودی ؒ صاحب سمیت ہر صاحب علم و تحقیق یہ جانتا ہے کہ قطعیّات تاریخ، سیرت النّبی اور احادیثِ رسول ؐ کے مطابق اللہ کے آخری نبیؐ اپنے بعد پیش آنے والے حوادث کے حوالے سے فکر مند تھے اور آپ ہمیشہ محتاط رہتے تھے۔یہ آپ کی دور اندیشی اور قبل از وقت احتیاط ہی ہے کہ آپ نے اسلام کی پہلی دعوت "دعوتِ ذوالعشیر" میں ہی یہ اعلان کیا کہ آج جو بھی میری رسالت کی تصدیق کرے گا، وہ میرا جانشین، وزیر، وصی اور میرا خلیفہ ہوگا۔ اُس وقت ابھی کوئی سلطنت وجود میں نہیں آئی تھی، ابھی اعلانیہ تبلیغ بھی شروع نہیں ہوئی تھی، غزوات نہیں ہوئے تھے، فتوحات نہیں ہوئی تھیں۔۔۔ تو اُس وقت پیغمبر کے نزدیک اپنے جانشین کا اعلان اتنا اہم تھا کہ آپ نے وہیں دعوتِ ذوالعشیر میں ہی اپنے جانشین کا اعلان کر دیا۔۔۔ تو کیا جب ریاست و حکومت تشکیل پا گئی تو پھر رسولؐ نے اپنا جانشین معیّن نہیں کیا؟ وہ رسول جو نماز کیلئے بھی اپنا نائب مقرر کرتا ہے، کیا وہ اپنی حکومت کیلئے اپنا جانشین معیّن کر کے نہیں گیا؟
آپ قرآن مجید کی نصوص پر پرکھیں، احادیثِ نبوی پر تولیں، تاریخ کو پیمانہ بنائیں، عقل کو میزان قرار دیں یا اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہو جائیں! آپ پر یہ ثابت ہو جائے گا کہ ایک بات تو یقینی ہے کہ اتنا بڑا رہبر و رہنماء اپنے جانشین کے تعیّن سے غافل نہیں تھا۔ ہم جو صابن خریدنے دکان پر جاتے ہیں تو وہاں بھی تھوڑی سی غفلت نہیں کرتے تو کیا اتنے اہم مسئلے میں رسولؐ کی طرف سے نعوذباللہ غفلت کا شائبہ بھی ممکن ہے؟۔ پس یہ ایک یقینی امر ہے کہ رسولؐ خدا نے اپنا جانشین ضرور معیّن کیا ہے۔ اب رسولؐ کے بعد جھگڑا اس پر ہے کہ رسولِ خدا کا وہ معیّن شُدہ جانشین کون ہے۔؟ یہ جھگڑا ابھی رسولِ خدا دفن نہیں ہوئے تھے، اُسی وقت مدینے میں ہی سقیفہ بنی ساعدہ میں مسلمانوں کے درمیان رونماہوا۔
کیا مولانا مودودی ؒ اس سے انکار کر سکتے ہیں کہ اگر آلِ رسولؐ کو نظر انداز کرنے کے بجائے جانشینِ پیغمبر کا تعیّن نصوص قرآن و احادیث کے مطابق ہوتا اور سقیفہ بنی ساعدہ میں دیگر معیارات بیان کرنے کے بجائے آیات سُنائی جاتیں، اور روایات بیان کی جاتیں تو یہ اختلاف وجود میں ہی نہ آتا۔
مولانا مودودی جانتے تھے کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں جانشینِ پیغمبر کیلئے قرآن و حدیث کی نصوص کے بجائے دیگر معیارات بیان کئے گئے۔ جیسے مکّی، مہاجر، قریشی یا عمر میں بڑا ہونے جیسے معیارات۔ پیغمبر اسلام نے تو اپنی جدوجہد سے مکی و مدنی، مہاجر و انصار، قریشی و حبشی کی تفریق ختم کر دی تھی۔ ان منسوخ شدہ اقدار پر جانشینِ پیغمبر کا تعیّن قطعاً قرآنی تعلیمات اور سیرت النبیؐ سے مختلف ایک دوسرا راستہ تھا۔
اس دوسرے راستے سے نبویؐ حکومت نامی وہ چیز آلِ رسولؐ سے لے لی گئی جو در حقیقت قیامت تک لوگوں کی ہدایت و تربیّت کیلئے تھی ۔ پہلے راستے کے مطابق یعنی قرآن و حدیث نیز قطعیّاتِ تاریخ کے مطابق ایسی حکومت کو نبوی اصولوں و معیارات کے مطابق چلانا یہ آلِ رسولؑ کے علاوہ کسی اور کے بس کی بات بھی نہ تھی۔ اب یہ سوال مولانا مودودی ؒ اپنی ہزاروں تالیفات و تحقیقات کےباوجود حل نہیں کر پائے کہ جو چیز میری نہ ہو اور وہ میں کسی بھی دوسرے طریقے سے اپنے ہاتھ لے لوں تو کیا وہ میری ہو جائے گی؟ اچھا اب وہ چیز جو میری نہیں ہے، اگر وہ میں استعمال کرنے کے بعد اپنے کسی دوست کو دے دوں تو یہ تو اچھی بات ہے، لیکن اگر وہی چیز اپنے بیٹے کو دوں تو یہ بُری بات ہے۔؟ پس بادشاہت میں چونکہ حکومت بیٹے کو منتقل ہوئی اس لئے بادشاہت بُری ہو گئی۔
انہوں نے خلافت و ملوکیّت لکھ کر ساری بحث کو اقتدار پر قبضے کے بجائے انتقالِ اقتدار کی طرف Divert کر دیا۔ اس کے بعد لوگوں نے ملوکیّت و بادشاہت کو اتنا برا بھلا کہنا شروع کیا کہ گویا یہ لفظ گالی بن گیا۔ طرفین سُنّی و شیعہ دونوں کی تاریخی تسکین کا سارا سامان چونکہ بادشاہوں کو بُرا بھلا کہنے میں موجود ہے، لہذا دونوں کو یہ موضوع راس آیا۔ ڈائورٹ کرنے کی اصطلاح کو یوں سمجھئے کہ جیسے ٹریفک کو کسی گلی سے بڑی شاہراہ پر ڈال دیا جاتا ہے، یا پانی کو دریا سے کاٹ کر سمندر کے بجائے کھیتوں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح لوگوں کے افکار کو ڈائیورٹ کرکے لوگوں کی قوت تحلیل کو بھی کسی ایک نکتے سے کسی دوسرے نکتے پر متمرکز کر دیا جاتا ہے۔
اگرچہ مخصوص حلقوں نے خلافت و ملوکیت لکھنے کی وجہ سے مولانا پر تنقید بھی کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب نے سطحی طور پر مطالعہ کرنے والےافراد کو تاریخ اسلام کا حقیقی پسِ منظر دیکھنے سے محروم کر دیا ۔ البتہ مولانا مودودی کی اس کاوش کے باعث مسلمانوں کو بالآخر اپنی تاریخ پر نظرِثانی اور نقد و نظر کرنے کا موقع ضرور ملا ۔ طرفین یعنی سُنّی و شیعہ حلقوں نے بادشاہوں کی لغزشوں سے آگاہی حاصل کی اور اکثر نے بادشاہوں کو ہی اپنے سارے مسائل کا سبب گردانا اور جانا۔ یہ بھی بڑی بات ہے کہ طرفین نے ماضی کی طرح بادشاہوں کو ظِلّ الہی اور خلیفۃ اللہ و خلیفۃ الرسول وغیرہ سمجھنا چھوڑ دیا۔
ا س کے بعد اب ہمیں جانشینی پیغمبر کے موضوع سے ملوکیّت کی طرف ڈائیورٹ ہوئے کافی سال گزر چکے ہیں۔ ڈائیورٹ ہونے کے باوجود یہ سوال تاریخِ اسلام کے طالب علموں کے دماغوں میں اپنی جگہ بنائے بیٹھا ہے کہ بادشاہت بُری شئے ہے یا اقتدار کو مسلمہ اقدار کے بجائے کسی دوسرے راستے سے ہتھیانا؟ اور اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کوئی شخص ہتھیائی ہوئی چیز اپنے کسی دوست کو دے یا اپنے بیٹے کو؟ قانون دانوں کیلئے بھی یہ ایک اہم پہلو ہے کہ اگر حصول اقتدار ہی قانونی نہیں تو کیا فقط انتقالِ اقتدار زیرِ سوال جائے گا یا حصولِ اقتدار بھی؟
مولانا مودودی کا بادشاہت پر نقد بہت تحقیقی اور علمی ہے لیکن اُن کے اس نقد کی تکمیل کیلئے اُن پر پر یہ نقد بنتا ہے کہ اگر کہیں پر حصولِ اقتدار قرآنی و نبوی نصوص کے مطابق نہ ہو تو کیا ایک مسلمان کیلئے ایسا اقتدار نبوی ؐ حکومت کا متبادل ہو سکتا ہے ؟ اور پھر ایسا اقتدار کسی حاکم کی طرف سے اپنے دوست کو منتقل کرنا تو ٹھیک اور جائز ہے لیکن اپنے بیٹے کو منتقل کرنا کیسے غلط و ناجائز ہے؟ مولانا مودودی نے حکمرانوں کی جن لغزشوں کو سامنے لایا ہے اِن کا تعلق اُن کے بادشاہ ہونے سےہر گز نہیں۔ وہ کسی جمہوری عمل سے بھی برسرِ اقتدار آتے اور بادشاہ نہ بھی ہوتے تو تب بھی وہ قابلِ گرفت تھے۔ اللہ کے آخری نبی ؐ اپنے پیچھے انسانوں کی ہدایت و تربیّت کیلئے ایک نبوی حکومت چھوڑ کر گئے تھے صرف حکومت نہیں۔ صرف حکومت چاہے جمہوری ہو یا آمریت و ملوکیت وہ کبھی بھی نبوی حکومت کی جگہ نہیں لے سکتی۔ نبوی حکومت یعنی قیامت تک کے عوام النّاس کی ہدایت و تربیت جبکہ بادشاہت و جمہوریت یعنی قیامت تک ہدایت و تربیّت کی محتاجی۔
افکار و نظریات: news, daily, media, police
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں