اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات نصابِ تعلیم کا مقصد صرف جینایابامقصد زندگی؟ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے اعداد و شمار تو موجود ہیں، اداروں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو رہا ہے، لیکن جب ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ تمام تعلیمی ادارے کسی مشترکہ، قومی تعلیمی پالیسی کے تابع ہیں؟ تو جواب زیادہ تسلی بخش نہیں۔ مسئلہ صرف انتظامی امور یا بجٹ کا نہیں بلکہ مفقود شُدہ فکری اور نظریاتی سمت کا ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

ڈاکٹر نذر حافی
پاکستان میں تعلیم کا شعبہ بظاہر غیر معمولی اہمیّت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ایک معاشی سروے کے مطابق ملک میں تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.8 فیصد خرچ کیا گیا، جو کہ تعلیمی میدان میں سنجیدہ سرمایہ کاری کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی سال پرائمری سطح کے رجسٹرڈ طلبا کی تعداد 24.61 ملین تھی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.2 فیصد زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر 2022-23 سے 2023-24 کے دوران طلبا کی تعداد 56.07 ملین سے بڑھ کر 58.33 ملین ہو گئی، جبکہ اساتذہ کی تعداد 2.576 ملین سے بڑھ کر 2.657 ملین ہو گئی۔ پنجاب میں 48,473 سرکاری اسکولوں میں 11.96 ملین طلبا زیر تعلیم ہیں، اور 3 لاکھ سے زائد اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اسی طرح دینی مدارس بھی تعلیمی منظرنامے کا ایک بڑا جزو ہیں۔ سینیٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 17,738 رجسٹرڈ دینی مدارس ہیں جن میں 2.25 ملین طلبا زیر تعلیم ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں مدارس کی تعداد لاکھوں طلبا کو سمیٹے ہوئے ہے۔ ایک اور سروے کے مطابق ملک میں مدارس کی مجموعی تعداد 36,331 تک پہنچتی ہے، جس سے رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ مدارس کے درمیان واضح فرق بھی سامنے آتا ہے۔
ماہرینِ تعلیم کے مطابق تعلیم فقط رٹانے اور دہرانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طویل المدت پالیسی ہوتی ہے، جس کے نتائج نسلوں کے مزاج، تہذیبوں کی اقدار، اور تمدّن کے خدوخال پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے تعلیم محض کسی سکول، کالج، یونیورسٹی یا دینی مدرسے کی ایک ادارہ جاتی سرگرمی نہیں ہوتی بلکہ یہ آئندہ نسلوں کی بقاء و ارتقا کی حکمتِ عملی ہوتی ہے۔ چنانچہ تعلیم کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب کسی تعلیمی ادارے کی مدیریت ، اُستاد، طالب علم اور والدین چاروں پر واضح ہونا چاہیے۔ جس قوم کی درسگاہیں اس سوال کا جواب دینے کے بجائے صرف امتحانات کی تیاری اور روزگار و نوکری کی تربیت تک محدود ہوں تو وہ قوم نہ اپنے ماضی کو سمجھ سکتی ہے، نہ حال کو بدل سکتی ہے اور نہ ہی مستقبل کو سنور سکتی ہے۔ بلا شبہ تعلیمی نظام کو اگر اس سوال کے جواب کے بغیر ترتیب دیا جائے، تو وہ بے سمت عمل بن کر انسانی صلاحیتوں اور سرمائے کے زیاں کا سبب بن جاتا ہے۔
تعلیمی نظام کے دو اہم پہلو ہوتے ہیں: ایک تعلیمی نظریات کی تولید، ایجاد اور پھیلاؤ اور دوسرے ان نظریات کا ارتقا اور تحفظ ۔ تعلیم کے ذریعے ایک طرف تو ایک قوم اپنے علمی بیانیے کو وسعت دیتی ہے اور دوسری طرف اپنے قومی، تہذیبی اور نظریاتی وجود پر داخلی یا خارجی دباؤ کا مقابلہ کرتی ہے۔اگر کوئی قوم صرف اپنی علمی میراث کے حفظ اور تحفظ پر اکتفا کرے گی تو اس کا بیانیہ کمزور اور محدود ہو جائے گا، اور اگر صرف پھیلاؤ پر زور دے گی تو اس کی بنیادیں متزلزل اور منہدم ہو جائیں گی۔ ایک متوازن تعلیمی نظام تولید اور پھیلاو ان دونوں کے امتزاج سے مرکّب ہوتا ہے۔ یہ عمل ایک مربوط نظام یعنی " نظامِ تعلیم" کا متقاضی ہے۔
تعلیمی ادارہ چاہے دینی ہو یا عصری اُس کے نظامِ تعلیم کا مقصد "تعلیم "کو نظریاتی جہتوں، فکری اعتبار اور زمانے کے لحاظ سے ارتقا دینا اور بامقصد بنانا ہوتا ہے۔ تعلیم کو ارتقا دینے اور بامقصد بنانے کے عمل کے دوران نظامِ تعلیم کے ذریعے ہم اپنی قومی شناخت، دینی اقدار، تہذیبی شعور، تاریخی تجربات، اور فکری روایت کو ایک منظم انداز میں نئی نسل تک منتقل کرتے ہیں۔یہ عمل صرف الفاظ کا اظہار نہیں بلکہ ایک نسل کی تربیّت کا نکتہِ آغاز ہوتا ہے۔مثلاً ایک اسلامی ریاست میں نظامِ تعلیم کے ذریعے "توحید"، "عدل"، "اخلاق"، "خدمت خلق" جیسے تصورات کو محض مذہبی اصطلاحات کے بجائے زندگی کے بنیادی اصولوں کے طور پر پیش کیا جانا ضروری ہے۔
دوسری طرف نصابِ تعلیم کو اس امر پر بھی ناظر ہونا چاہیے کہ مغربی، نوآبادیاتی، سامراجی یا سرمایہ دارانہ تعلیمی و فکری ڈھانچوں کو آنکھ بند کر کے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرینِ تعلیم کو یہ جانچنا چاہیے کہ کیا موجودہ مغرب کا "ترقی" کا تصور ہماری تہذیب سے ہم آہنگ ہے؟ اسی طرح کیا "سائنس و ٹیکنالوجی" کو صرف مادی ترقی کا ذریعہ اور آلہ بنا دینا درست ہے؟ نیز کیا تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم اور "آزادی" کا مطلب صرف فرد کی خواہشات کی پیروی ہے، یا اس کی کوئی اخلاقی و تہذیبی حد بھی ہے؟ نصاب تعلیم چاہے دینی ہو یا عصری یہ نصابِ تعلیم نے ہی قوموں کو دوسروں کے بیانیوں کے زیر اثر رہنے کے بجائے اپنی تشریح، تنقید اور تشکیل کا شعور دینا ہوتا ہے۔
جس طرح مغرب نے اپنے عہدِ روشن خیالی کے بعد اپنے تعلیمی نظام کو معلومات کی ترسیل کا ذریعہ بنانے کے بجائے اپنے سائنسی، سوشیالوجیکل (معاشرتی) اور پولیٹیکل (سیاسی) نظریات کی اشاعت و استحکام کے ایک فعال آلے کے طور پر استعمال کیا، ویسے ہی مسلم دنیا کو بھی چاہیے کہ وہ تعلیم کو صرف پیشہ ورانہ مہارت یا حفظ و نقل کا عمل سمجھنے کے بجائے اس کے ذریعے اپنی تنقیدی فکر ، تحقیقی سوچ اور فکری و تہذیبی وراثت کو دنیا کے سامنے لائے۔ مغربی دنیا کے تعلیمی نظام میں سرمایہ دارانہ نظام، انفرادی آزادی، سیکولرازم اور لادینیت کو بنیادی اصول مانا جاتا ہے۔ اگر مسلم دنیا انہی تصورات کو بلا تنقید قبول کرے تو وہ اپنی نظریاتی شناخت اور خودی سے محروم ہو جائے گی۔ لہٰذا مسلم ماہرینِ تعلیم کو چاہیے کہ وہ دینی و عصری تعلیم کے میدان میں روشن خیالی اور علمی نقد کا دروازہ کھولیں تاکہ نصاب تعلیم کا بامقصد ہونا معاشرے میں نظر آئے۔ نصابِ تعلیم کا بامقصد ہونا اُس وقت نمایاں ہوتا ہے جب وہ محض تقلید نہیں بلکہ اجتہاد کے ساتھ جڑا ہُوا ہو۔ تعلیم اجتہاد کے ساتھ مربوط ہے یا نہیں اس کی پیمائش کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ دیکھیں کہ کیا ہمارا نصابِ تعلیم کتابوں اور قدیمی نظریات کو صرف رٹنے اور حفظ کرنے تک محدود ہے یا یہ طلبا کے اندر انکار کرنے کی جرائت، علمی نقد کرنے کی صلاحیّت، سوال اٹھانے کی سوچ ، تحقیق کرنے کا شوق ، اور زمانے کے مطابق علمی تعبیرات کو بدلنے کی فکر بھی پیدا کر رہا ہے؟۔کیا ہمارا نصاب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم کیوں جیتے ہیں؟ اور کیا ہمارا استاد ہمیں یہ شعور دیتا ہے کہ ہماری زندگی کسی بڑے مقصد سے جڑی ہوئی ہے؟
یہ سب تبھی ممکن ہے کہ جب ہمارے تعلیمی پالیسی میکرز یہ جانتے ہوں کہ تعلیمی نظام وہ بنیاد ہے جو قوم کو جڑ سے جوڑتی ہے نہ کہ اکھاڑتی ہے یا نقّال بناتی ہے۔ تعلیم محض اخلاقیات کی تدریس یا حب الوطنی کے نعرے نہیں سکھاتی بلکہ یہ اقدار کے ساتھ شعوری وابستگی کی وہ تعمیر ہے جو فرد کو مہذّب اور متمدّن شہری بناتی ہے۔ اس زاویے سے فلسفہ ہو یا منطق، تصوف ہو یا شریعت ، سائنس ہو یا ٹیکنالوجی اگر اس میں میں شعورِ خودی اور شعورِ نقد و مزاحمت ہی نہیں تو ایسی تعلیم کسی کو مہذب، متمدّن اور باہدف جینا نہیں سکھا سکتی۔ ہمیں آج ہی یہ سمجھنا چاہیے کہ تعلیم چاہے دینی ہو یا عصری ، اُسے معاشی آلہ بنانے سے مستقبل کا انسان فکری، تہذیبی اور اخلاقی تحریک سے عاری ہو جائے گا۔ لہذا محتاط رہیں کہ اگر تعلیم قومی و تعلیمی اقدار ونظریات کو نئی نسل کے شعور میں نہیں انڈیلتی تو نہ وہ کارآمد ہے اور نہ ہی قابلِ اعتنا۔ کسی بھی قوم اور ریاست کو آپ صرف اسلحے سے زیادہ دیر تک باقی نہیں رکھ سکتے۔ اقوام و ملل کی بقاء کا راز "صرف فوجی اسلحے" میں پنہاں نہیں بلکہ اس کیلئے "ہر فوجی کا نظریاتی ہونا" بھی ضروری ہے۔ وہ فوجی چاہے کسی عسکری محاز پر کھڑا ہو یا تعلیم، صحت اور سائنس کی دنیا کا فوجی ہو۔ یہ فراموش نہ کریں کہ آج کی جدید دنیا میں صرف تعلیم ہی وہ اسلحہ ہے جو بغیر خون بہائے نسلوں کی حفاظت کرتا ہے۔ آج جب دنیا بھر میں نصابِ تعلیم کی اصلاحات پر بحث جاری ہے، تو ہمارے لئے بھی سب سے اہم سوال یہی ہے کہ ہم اگلی نسل میں کس قسم کے انسان تیار کرناچاہتے ہیں؟ کیا ہم صرف ہنرمند، معلومات یافتہ اور روزگار کے قابل پیسے کمانے والے "مشین نما افراد" چاہتے ہیں، یا ایسی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں کہ جو اپنی زندگی کو حقیقی معنوں میں انسان بننے اور انسانوں کی خدمت کرنے کیلئے صرف کرے؟ اگر ہماری تعلیم صرف ہمارے بچوں کا پیٹ بھرنے اور ان کی شہوت کی آگ بجھانے کے کام آئے اور انہیں مفید و معتدل انسان بننا نہ سکھائے تو کیا ایسے بچے اس کُرّہ ارض کو خود ہی تباہ نہیں کر دیں گے؟۔ لہذا ہمارے ملک میں اس سچائی پر نظامِ تعلیم کو استوار ہونا چاہیے کہ نصاب تعلیم ہمیں صرف زندہ رہنے اور زندگی بسر کرنے کیلئے روزگار فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ نصاب تعلیم وہ ہے جو ہمیں مفید سرگرمیوں اور معتدل رویّوں کے ساتھ بامقصد اور باوقار زندگی بسر کرنا سکھاتا ہے۔
افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں