نصابِ تعلیم کا مقصد صرف جینایابامقصد زندگی؟
ڈاکٹر نذر حافی
پاکستان میں تعلیم کا شعبہ بظاہر غیر معمولی اہمیّت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ایک معاشی سروے کے مطابق ملک میں تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.8 فیصد خرچ کیا گیا، جو کہ تعلیمی میدان میں سنجیدہ سرمایہ کاری کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی سال پرائمری سطح کے رجسٹرڈ طلبا کی تعداد 24.61 ملین تھی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.2 فیصد زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر 2022-23 سے 2023-24 کے دوران طلبا کی تعداد 56.07 ملین سے بڑھ کر 58.33 ملین ہو گئی، جبکہ اساتذہ کی تعداد 2.576 ملین سے بڑھ کر 2.657 ملین ہو گئی۔ پنجاب میں 48,473 سرکاری اسکولوں میں 11.96 ملین طلبا زیر تعلیم ہیں، اور 3 لاکھ سے زائد اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اسی طرح دینی مدارس بھی تعلیمی منظرنامے کا ایک بڑا جزو ہیں۔ سینیٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 17,738 رجسٹرڈ دینی مدارس ہیں جن میں 2.25 ملین طلبا زیر تعلیم ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں مدارس کی تعداد لاکھوں طلبا کو سمیٹے ہوئے ہے۔ ایک اور سروے کے مطابق ملک میں مدارس کی مجموعی تعداد 36,331 تک پہنچتی ہے، جس سے رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ مدارس کے درمیان واضح فرق بھی سامنے آتا ہے۔

یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے اعداد و شمار تو موجود ہیں، اداروں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو رہا ہے، لیکن جب ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ تمام تعلیمی ادارے کسی مشترکہ، قومی تعلیمی پالیسی کے تابع ہیں؟ تو جواب زیادہ تسلی بخش نہیں۔ مسئلہ صرف انتظامی امور یا بجٹ کا نہیں بلکہ مفقود شُدہ فکری اور نظریاتی سمت کا ہے۔
ماہرینِ تعلیم کے مطابق تعلیم فقط رٹانے اور دہرانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طویل المدت پالیسی ہوتی ہے، جس کے نتائج نسلوں کے مزاج، تہذیبوں کی اقدار، اور تمدّن کے خدوخال پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے تعلیم محض کسی سکول، کالج، یونیورسٹی یا دینی مدرسے کی ایک ادارہ جاتی سرگرمی نہیں ہوتی بلکہ یہ آئندہ نسلوں کی بقاء و ارتقا کی حکمتِ عملی ہوتی ہے۔ چنانچہ تعلیم کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب کسی تعلیمی ادارے کی مدیریت ، اُستاد، طالب علم اور والدین چاروں پر واضح ہونا چاہیے۔ جس قوم کی درسگاہیں اس سوال کا جواب دینے کے بجائے صرف امتحانات کی تیاری اور روزگار و نوکری کی تربیت تک محدود ہوں تو وہ قوم نہ اپنے ماضی کو سمجھ سکتی ہے، نہ حال کو بدل سکتی ہے اور نہ ہی مستقبل کو سنور سکتی ہے۔ بلا شبہ تعلیمی نظام کو اگر اس سوال کے جواب کے بغیر ترتیب دیا جائے، تو وہ بے سمت عمل بن کر انسانی صلاحیتوں اور سرمائے کے زیاں کا سبب بن جاتا ہے۔
تعلیمی نظام کے دو اہم پہلو ہوتے ہیں: ایک تعلیمی نظریات کی تولید، ایجاد اور پھیلاؤ اور دوسرے ان نظریات کا ارتقا اور تحفظ ۔ تعلیم کے ذریعے ایک طرف تو ایک قوم اپنے علمی بیانیے کو وسعت دیتی ہے اور دوسری طرف اپنے قومی، تہذیبی اور نظریاتی وجود پر داخلی یا خارجی دباؤ کا مقابلہ کرتی ہے۔اگر کوئی قوم صرف اپنی علمی میراث کے حفظ اور تحفظ پر اکتفا کرے گی تو اس کا بیانیہ کمزور اور محدود ہو جائے گا، اور اگر صرف پھیلاؤ پر زور دے گی تو اس کی بنیادیں متزلزل اور منہدم ہو جائیں گی۔ ایک متوازن تعلیمی نظام تولید اور پھیلاو ان دونوں کے امتزاج سے مرکّب ہوتا ہے۔ یہ عمل ایک مربوط نظام یعنی " نظامِ تعلیم" کا متقاضی ہے۔
تعلیمی ادارہ چاہے دینی ہو یا عصری اُس کے نظامِ تعلیم کا مقصد "تعلیم "کو نظریاتی جہتوں، فکری اعتبار اور زمانے کے لحاظ سے ارتقا دینا اور بامقصد بنانا ہوتا ہے۔ تعلیم کو ارتقا دینے اور بامقصد بنانے کے عمل کے دوران نظامِ تعلیم کے ذریعے ہم اپنی قومی شناخت، دینی اقدار، تہذیبی شعور، تاریخی تجربات، اور فکری روایت کو ایک منظم انداز میں نئی نسل تک منتقل کرتے ہیں۔یہ عمل صرف الفاظ کا اظہار نہیں بلکہ ایک نسل کی تربیّت کا نکتہِ آغاز ہوتا ہے۔مثلاً ایک اسلامی ریاست میں نظامِ تعلیم کے ذریعے "توحید"، "عدل"، "اخلاق"، "خدمت خلق" جیسے تصورات کو محض مذہبی اصطلاحات کے بجائے زندگی کے بنیادی اصولوں کے طور پر پیش کیا جانا ضروری ہے۔
دوسری طرف نصابِ تعلیم کو اس امر پر بھی ناظر ہونا چاہیے کہ مغربی، نوآبادیاتی، سامراجی یا سرمایہ دارانہ تعلیمی و فکری ڈھانچوں کو آنکھ بند کر کے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرینِ تعلیم کو یہ جانچنا چاہیے کہ کیا موجودہ مغرب کا "ترقی" کا تصور ہماری تہذیب سے ہم آہنگ ہے؟ اسی طرح کیا "سائنس و ٹیکنالوجی" کو صرف مادی ترقی کا ذریعہ اور آلہ بنا دینا درست ہے؟ نیز کیا تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم اور "آزادی" کا مطلب صرف فرد کی خواہشات کی پیروی ہے، یا اس کی کوئی اخلاقی و تہذیبی حد بھی ہے؟ نصاب تعلیم چاہے دینی ہو یا عصری یہ نصابِ تعلیم نے ہی قوموں کو دوسروں کے بیانیوں کے زیر اثر رہنے کے بجائے اپنی تشریح، تنقید اور تشکیل کا شعور دینا ہوتا ہے۔
جس طرح مغرب نے اپنے عہدِ روشن خیالی کے بعد اپنے تعلیمی نظام کو معلومات کی ترسیل کا ذریعہ بنانے کے بجائے اپنے سائنسی، سوشیالوجیکل (معاشرتی) اور پولیٹیکل (سیاسی) نظریات کی اشاعت و استحکام کے ایک فعال آلے کے طور پر استعمال کیا، ویسے ہی مسلم دنیا کو بھی چاہیے کہ وہ تعلیم کو صرف پیشہ ورانہ مہارت یا حفظ و نقل کا عمل سمجھنے کے بجائے اس کے ذریعے اپنی تنقیدی فکر ، تحقیقی سوچ اور فکری و تہذیبی وراثت کو دنیا کے سامنے لائے۔ مغربی دنیا کے تعلیمی نظام میں سرمایہ دارانہ نظام، انفرادی آزادی، سیکولرازم اور لادینیت کو بنیادی اصول مانا جاتا ہے۔ اگر مسلم دنیا انہی تصورات کو بلا تنقید قبول کرے تو وہ اپنی نظریاتی شناخت اور خودی سے محروم ہو جائے گی۔ لہٰذا مسلم ماہرینِ تعلیم کو چاہیے کہ وہ دینی و عصری تعلیم کے میدان میں روشن خیالی اور علمی نقد کا دروازہ کھولیں تاکہ نصاب تعلیم کا بامقصد ہونا معاشرے میں نظر آئے۔ نصابِ تعلیم کا بامقصد ہونا اُس وقت نمایاں ہوتا ہے جب وہ محض تقلید نہیں بلکہ اجتہاد کے ساتھ جڑا ہُوا ہو۔ تعلیم اجتہاد کے ساتھ مربوط ہے یا نہیں اس کی پیمائش کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ دیکھیں کہ کیا ہمارا نصابِ تعلیم کتابوں اور قدیمی نظریات کو صرف رٹنے اور حفظ کرنے تک محدود ہے یا یہ طلبا کے اندر انکار کرنے کی جرائت، علمی نقد کرنے کی صلاحیّت، سوال اٹھانے کی سوچ ، تحقیق کرنے کا شوق ، اور زمانے کے مطابق علمی تعبیرات کو بدلنے کی فکر بھی پیدا کر رہا ہے؟۔کیا ہمارا نصاب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم کیوں جیتے ہیں؟ اور کیا ہمارا استاد ہمیں یہ شعور دیتا ہے کہ ہماری زندگی کسی بڑے مقصد سے جڑی ہوئی ہے؟
یہ سب تبھی ممکن ہے کہ جب ہمارے تعلیمی پالیسی میکرز یہ جانتے ہوں کہ تعلیمی نظام وہ بنیاد ہے جو قوم کو جڑ سے جوڑتی ہے نہ کہ اکھاڑتی ہے یا نقّال بناتی ہے۔ تعلیم محض اخلاقیات کی تدریس یا حب الوطنی کے نعرے نہیں سکھاتی بلکہ یہ اقدار کے ساتھ شعوری وابستگی کی وہ تعمیر ہے جو فرد کو مہذّب اور متمدّن شہری بناتی ہے۔ اس زاویے سے فلسفہ ہو یا منطق، تصوف ہو یا شریعت ، سائنس ہو یا ٹیکنالوجی اگر اس میں میں شعورِ خودی اور شعورِ نقد و مزاحمت ہی نہیں تو ایسی تعلیم کسی کو مہذب، متمدّن اور باہدف جینا نہیں سکھا سکتی۔ ہمیں آج ہی یہ سمجھنا چاہیے کہ تعلیم چاہے دینی ہو یا عصری ، اُسے معاشی آلہ بنانے سے مستقبل کا انسان فکری، تہذیبی اور اخلاقی تحریک سے عاری ہو جائے گا۔ لہذا محتاط رہیں کہ اگر تعلیم قومی و تعلیمی اقدار ونظریات کو نئی نسل کے شعور میں نہیں انڈیلتی تو نہ وہ کارآمد ہے اور نہ ہی قابلِ اعتنا۔ کسی بھی قوم اور ریاست کو آپ صرف اسلحے سے زیادہ دیر تک باقی نہیں رکھ سکتے۔ اقوام و ملل کی بقاء کا راز "صرف فوجی اسلحے" میں پنہاں نہیں بلکہ اس کیلئے "ہر فوجی کا نظریاتی ہونا" بھی ضروری ہے۔ وہ فوجی چاہے کسی عسکری محاز پر کھڑا ہو یا تعلیم، صحت اور سائنس کی دنیا کا فوجی ہو۔ یہ فراموش نہ کریں کہ آج کی جدید دنیا میں صرف تعلیم ہی وہ اسلحہ ہے جو بغیر خون بہائے نسلوں کی حفاظت کرتا ہے۔ آج جب دنیا بھر میں نصابِ تعلیم کی اصلاحات پر بحث جاری ہے، تو ہمارے لئے بھی سب سے اہم سوال یہی ہے کہ ہم اگلی نسل میں کس قسم کے انسان تیار کرناچاہتے ہیں؟ کیا ہم صرف ہنرمند، معلومات یافتہ اور روزگار کے قابل پیسے کمانے والے "مشین نما افراد" چاہتے ہیں، یا ایسی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں کہ جو اپنی زندگی کو حقیقی معنوں میں انسان بننے اور انسانوں کی خدمت کرنے کیلئے صرف کرے؟ اگر ہماری تعلیم صرف ہمارے بچوں کا پیٹ بھرنے اور ان کی شہوت کی آگ بجھانے کے کام آئے اور انہیں مفید و معتدل انسان بننا نہ سکھائے تو کیا ایسے بچے اس کُرّہ ارض کو خود ہی تباہ نہیں کر دیں گے؟۔ لہذا ہمارے ملک میں اس سچائی پر نظامِ تعلیم کو استوار ہونا چاہیے کہ نصاب تعلیم ہمیں صرف زندہ رہنے اور زندگی بسر کرنے کیلئے روزگار فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ نصاب تعلیم وہ ہے جو ہمیں مفید سرگرمیوں اور معتدل رویّوں کے ساتھ بامقصد اور باوقار زندگی بسر کرنا سکھاتا ہے۔


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly