بھارت اور طالبان کے تعلقات

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے اعتراف کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی” را“ اور طالبان کے آپس میں گہرے تعلقات ہیں معروف بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے انکشاف کیا بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مابین گہرے تعلقات ہیں جس پر امریکہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے بھارتی خفیہ ایجنسی اور ٹی ٹی پی کے تعلقات کم کرنے کے لئے بھارت پر دباﺅ بڑھانا شروع کردیا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق ٹی ٹی پی اور را کے تعلقات کا انکشاف پہلی بار طالبان کمانڈر احسان اللہ احسان کی گرفتاری کے بعد ہوا اور امریکا نے بھی اس معاملے پر پاکستان کے موقف کو تسلیم کرلیا اور کہا ہے کہ افغانستان کے قیام امن میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیردفاع جیمز میٹس آج(پیر) سے دورہ بھارت کا آغاز کریں گے جس میں وہ بھارتی عسکری و سیاسی قیادت سے ٹی ٹی پی اور را کے معاملے پر گفتگو کریں گے اور پیغام دیں گے کہ بھارتی ایجنسی را اور ٹی ٹی پی کے مابین تعلقات کو کم کیا جائے اور اگر ایسا نہ ہوا تو یہ خود بھارت کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

اخبار نے مزید لکھا ہے بھارت دنیا بھر کی مسلسل مخالفتوں کے باوجود دہشتگرد کالعدم تنظیموں سے اپنا تعلق ختم نہیں کررہا جو اس کے لئے مستقبل میں نقصان دہ ہوگا۔ اخبار کا کہنا تھا بھارت اور کالعدم تنظیموں کے درمیان تعلق اس وقت سامنے آیا جب طالبان رہنما احسان اللہ احسان گرفتاری کے بعد پہلی بار منظر عام پر آیا اور اس نے اپنے ویڈیو پیغام میں اس بات کا اعتراف کیا تھا وہ پاکستان میں دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔

آئی این پی کے مطابق وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان برجیس طاہر نے کہا ہے معروف بھارتی اخبار کی جانب سے طالبان اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے مابین رابطوں کا اعتراف پاکستان کے اس موقف کی تصدیق ہے جس کے تحت بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

 انہوں نے کہا پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے درجنوں واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے ہیں۔ بھارت کے اسی منفی کردار کی وجہ سے پاکستان بھارت کے افغانستان میں کسی بھی قسم کے رول کے مخالف ہے جس کا واضح اظہار وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کیا۔

انہوں نے کہا بھارت کا افغانستان میں منفی کردار پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرناک ہے اور بھارت کے ان مذموم ہتکھنڈوں اور ارادوں کا خود بھارت کے ایک بڑے اور معروف اخبار نے اعتراف کیا ہے۔ افغانستان اور خطے میں قیام امن کے لئے ضروری ہے بھارت اور دہشت گرد تنظیموں کے گٹھ جوڑ کو ختم کیا جائے۔ بھارت کا تحریک طالبان پاکستان سے گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا۔ بھارتی اخبار کے مطابق امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس دورہ بھارت میں معاملہ اٹھائیں گے اور بھارت سے ٹی ٹی پی کی مدد بند کرنے کا کہیں گے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ مطالبہ ماننا بھارت کیلئے مشکل ہوگا۔ ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف اہم مہرہ ہے۔ جیمز میٹس طالبان کی حمایت کم کرنے پر زور دیں گے، تعلقات کم نہ کرنا بھارت کیلئے خطرناک ہوگا۔

بشکریہ نوائے وقت

http://www.nawaiwaqt.com.pk/national/25-Sep-2017/668025

 


افکار و نظریات: بھارت اور طالبان کے تعلقات