تحریر۔ سجاد احمد مستوئی

گرمیوں کا موسم تھا,گندم کے کھیت مکمل طور پر زرد ہو چکے تھے, دور دور تک پھیلے کھیت ایک سنہری سمندر کا منظر پیش کر رہے تھے، جب ہوا چلتی تھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سونے کے سمندر میں ایک لہر سی اٹھ رہی ہو ،انہیں سنہری کھیتوں سے ایک پگڈنڈی گزرتی ہوئی سڑک پر جا چڑھتی تھی، اسی پگڈنڈی کے دونوں کناروں پر سبز گھاس کا ڈیرہ تھااور دور تک ایک کچی سڑک بچھی ہوئی تھی۔

میری عمر یہی کوئی  سات آٹھ سال کی  تھی،میں ہمیشہ اسی سڑک سے گزر کرہی  سکول جاتاتھا،آج سکول میں تو چھٹی تھی لیکن کسی اور کام سے ماں جی نے مجھے شہر میں بھیجنا ضروری سمجھا،  جب میں سڑک پر چڑھا تو دیکھا کہ سڑک  پر لوگوں کا ایک ہجوم ہے اور اس ہجوم میں خواتین کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے اور تو اور بچے بھی ہیں، میں نے سوالیہ انداز میں  اپنے ہم سِن بچوں سے پوچھا کہ  آج خیر تو ہے یہ سب لوگ کہاں جارہے ہیں۔

 یہ بات قریب کھڑے ایک شخص نے سُن لی اور پیار سے مجھے چمکارتے ہوئے بولا کہ تمہیں پتہ نہیں ہے آج دس محرم ہے ،آج عاشورہ کا دن ہے، اور یہ سب لوگ عاشور کےجلوس میں شریک ہونے کیلئے جا رہے ہیں۔

اسی اثنا میں  ایک جوان نے اپنے دائیں کندھے پر رکھے ہوئے کالے کپڑے کو اٹھا کر بائیں کندھے پر رکھتے ہوئے کہا کہ نواسہ رسولﷺ امام حسینؑ کو آج کے دن شہید کیا گیا تھا ،میں تعجب،حیرانگی اور دوسروں کی دیکھا دیکھی کے عالم میں اس جلوس کے ساتھ ہولیا۔

چلتے چلتے  جب شہر کے دروازے پر پہنچے تو  دیکھا کہ لوگوں کی تلاشی لی جارہی ہے، میں بھی تلاشی دینے کےلیے قطار میں لگ گیا ،تلاشی کے بعد میں بھی شہر کے اندر داخل ہو گیا ،جونہی شہر کے اندر داخل ہوا تو میری نظر سُرخ اور سیاہ رنگ کےفلک شگاف پرچموں پر  پڑی، میں  نے جلوس میں ایک چھوٹا سا جھولا بھی دیکھا کہ جس میں تقریباً چھ ماہ کے بچے کا کرتہ رکھا ہوا تھا اور کچھ خواتین اپنے ننھے بچوں کو بڑی عقیدت کے ساتھ اس جھولے کے پاس لے کر آتی تھیں۔

 اسی جھولے کے ساتھ ہی ایک  مزار سا بنا ہوا تھا،جس کو مختلف رنگوں کے کپڑوں اور مصنوعی پھولوں سے سجایا گیاتھا، ساتھ ہی کچھ بندوں نے اپنے کندھوں پر کسی ولی اللہ کے روضے کی شبیہ اٹھائی ہوئی تھی، لوگ دیوانہ وار اس شبیہ کو چوم رہے تھے۔

 میں ان کی عقیدت کا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ میری نظر ایک گھوڑے پر پڑی جو اس شبیہ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور اس کے جسم پہ ایک سفید رنگ کی چادر تھی، جس پر سرخ رنگ کے خون کی طرح کے دھبے تھے،شاید کسی نے رنگ وغیرہ کے چھینٹے اس پر ڈالے تھے، اسی چادر پرخالی زین بھی رکھی گئی تھی،میں نے دیکھا کہ جلوس  میں کچھ جوان کالے کپڑے پہنے ہوئے اورسر وں پر پٹیاں باندھے صف آرا ہیں اور بڑے زور سے سینہ کوبی کررہے ہیں،۔

انہیں صفوں کے سامنے پانچ چھ  جوانوں کا ایک  حلقہ تھاجوایک دائرے میں کھڑے ہوکر ترنّم کے ساتھ کچھ  پڑھ رہے تھے۔

 پڑھنے والوں کی آواز اتنی پرسوز تھی کہ درودیوار غم  میں ڈوب گئے تھے۔

اسی اثنا میں سارا ہجوم آہستہ آہستہ ایک چوک تک پہنچا، ایک دم اذان کی آواز آنے لگی ،صفیں بننے لگیں سارے کا سارا ہجوم صفوں میں سما گیا ،خاص قسم کا لباس پہنے ایک مولانا صاحب کہیں سے نمودار ہوئے شاید اسی جلوس کے ساتھ تھے، نماز شروع ہوئی  توکچھ لوگ نماز کے بجائے اردگرد بیٹھے رہے ،جونہی نماز ختم ہوئی ، چوک کے کونے پر لگے ہوئے مائیک سے کسی نے  سب سے بیٹھ جانے کی اپیل کی،دیکھتے  ہی دیکھتے سارے لوگ چوک میں ہی بیٹھ گے ،مائیک کے سامنے ایک میز تھی،  میں اسی میز کو دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک بندہ مائیک کے سامنے کھٹرا ہوگیا،اس نے کچھ دیر عربی میں کچھ پڑھا اور پھر کہنے لگا کہ آج  حق و باطل کی پہچان کا دن ہے ، آپ لوگوں کا گھروں سے نکل کر اس ہجوم میں شریک ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ لوگ آج اس سخت ترین دور میں بھی حق کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ

کچھ دیر بعداس پڑھنے والے نے کچھ ایسا پڑھا کہ لوگ زاروقطار رونے لگے ،رونے کے بعد پھر ماتم  شروع ہوا،اب مجھے زور کی بھوک محسوس ہوئی لیکن میں  اب اس جلوس کے سحر میں گرفتار ہوچکاتھا،دل کسی طور بھی جلوس سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھا،  جونہی یہ ماتمی جلوس چوک سے تھوڑا آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ہجوم کے ایک کنارے پر پانی اور دوسری طرف کھانا تقسیم ہورہاہے،میں نے بھی دوسرے لوگوں کے ہمراہ کچھ کھایاپیا اور پھراسی جلوس کے ہمراہ  مختلف گلیوں سے ہوتا ہوا شام کے وقت ایک بہت ہی بڑے ہال میں داخل ہوگیا، لوگ اس ہال میں بیٹھ گے ،ہال کے دروازے کے سامنے کی طرف ایک میز رکھی ہوئی تھی، جس پر کالے رنگ کا کپڑا پڑا  ہواتھا، ابھی میں یہ منظر دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک بندہ کرسی کو ہٹا کر لوگوں  کے سامنے  کھڑا ہوگیا ،اس کے کھڑے ہوتے  ہی لوگ رونے لگے اس نے درد بھری آواز میں کچھ پڑھا ،گریے میں اور اضافہ ہوا ،اس نے کربلا کی داستان کو شعروں کی صورت میں پڑھنا شروع کیا ،اس وقت یوں لگ رہاتھا  کہ ان لوگوں  کا سب کچھ لٹ چکا ہے، جیسے انہی کے جوان مار گے ہوں او رانہی کے گھروں کو آگ لگائی گی ہو اور انہی کی خواتین کو قیدی بنایا گیا ہو۔

  مجلس کے ختم ہوتے ہی میں بھی دیگر لوگوں کی طرح اپنے کام کو نکلا اور رات گئے  گھر کو لوٹا۔

چند دن بڑے جوش و خروش سے اس جلوس کی روداد سب کوسناتارہا،ایک دن شام کو محلے والی مسجد میں مولوی صاحب  نے نماز کے بعد مجھے اپنے خصوصی حجرے میں  آنے کو کہا،میں نے  مسجد سے متصل حجرے میں بڑے احترام سے حاضری دی اور بلانے کا سبب پوچھا۔

اس پر وہ بولے کہ سنا ہے کہ تم کسی جلوس وغیرہ میں گئے تھے۔میں نے کہا قبلہ میں کسی جلوس وغیرہ میں تو نہیں گیاالبتہ بازار جاتے ہوئے جلوس ازراہ تفاق میرے راستے میں آگیاتھا۔

اس کے بعد میں نے سارا احوال مولوی صاحب کو سنا دیا۔مجھے امید تھی کہ مولوی صاحب بھی دیگر لوگوں کی طرح بہت محظوظ ہوئے ہوں گے لیکن میری بات ختم ہوتے ہی مولوی صاحب نے آستینیں چڑھا لیں اور گرجدار آواز میں بولے !!!

 اوئے نکمّے تو اس جلوس کے ساتھ کیوں چلتا رہا،اس جلوس کو دیکھنے سے ہی  نکاح ٹوٹ جاتاہے۔

میں بہت پریشان ہوا کہ ابھی تو میرا نکاح ہی نہیں ہوا،دور دور تک اس کے کوئی امکانات بھی نہیں اور پھر نکاح سے پہلے ہی اگر  نکاح ٹوٹ گیا تو گھر والوں کو کیا منہ دکھاوں گا۔

میں نے اس کے بعد نکاح سے پہلے ہی نکاح ٹوٹ جانے کے خوف سے اس جلوس کا ذکر کرنا ہی چھوڑدیا۔

اب چند سالوں بعد جب میں گاوں گیا تو اتفاق سے اسی روڈ پر پھر وہی جلوس تھا،میں نکاح ٹوٹنے والی بات سوچ کر مسکرادیا اور پھر بے ساختہ اس جلوس کے ساتھ چلنا شروع ہوگیا۔

کچھ ہی دیر بعد میری نگاہ انہی مولاناصاحب پر پڑی ،وہ بھی جلوس کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے،میں انہیں پہچانتے ہی ان کے قریب چلا گیا،جیسے ہی میں نے سلام کیا توانہوں نے بھی فوراً مجھے پہچان لیا،میں نے فورا کہا مولوی صاحب  میرا نکاح تو بچپن میں ہی ٹوٹ گیا تھا،آپ کا  نکاح  کب۔۔۔!؟

پھر ہم دونوں ہنس پڑے اور پرانی یادوں میں کھو گئے۔


افکار و نظریات: اور میرا نکاح ٹوٹ گیا