کربلا کی پہچان

کالم نگار  |  طیبہ ضیاءچیمہ ....(نیویارک(

جس طرح ہمارے دور میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے عوام سے ووٹ لینے کا طریقہ رائج ہے اسی طرح حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے دور میں معاشرے کے پڑھے لکھے لوگوں سے بیعت لینے یعنی ان سے یہ عہد لینا کہ وہ آپ کی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں کا رواج تھا۔

جس طرح آج کے سیاستدان جمہوریت کی آڑ میں ووٹ خریدتے ہیں اور ہر جائز و نا جائز حربہ استعمال کرتے ہیں اسی طرح اس دور میں یزید نے سوچا کہ جب تک میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں لے لیتا تب تک میری حکومت کو مقبولیت نہیں ملے گی لیکن یہ اس کی کم بختی تھی کہ اس نے یہ سوچا ہی نہیں کہ وہ کس سے بیعت لینے کا سوچ رہا ہے ۔

اس سے جو اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جان مال اولاد سب کچھ قربان کرسکتا ہے۔ بمع اہل و اعیال مکہ کی جانب رخ کیا اور مدینہ سے مکہ کا 451 کلومیٹر کا یہ سفر چار یا پانچ دن میں مکمل کیا لیکن جب آپ کو وہاں بھی قتل کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں تو آپ نے حج کو چھوڑ کر 3 ذوالحج 60 ہجری کو مکہ سے کوفہ جانے کا ارادہ فرمایا۔

اب بھی آپ کی نیت وہی تھی کہ اس مقدس شہر کو خون خرابہ سے پاک رکھا جائے۔ آپ کو یقین تھا کہ یہ ظالم لوگ میری زبردستی بیعت لینے کے لیے میرا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ مکہ سے کوفہ جاتے ہوئے کربلا کے مقام پر آپ کو روک لیا گیا۔ مکہ سے کربلا کا 1840 کلومیٹر کا یہ سفر آپ نے 23 دن میںطے کیا اور 2 محرم 61 ہجری بمطابق 2 اکتوبر 680ءکو کربلا پہنچے۔

7 محرم کو آپ اور آپ کے گھر والوں حتٰی کہ معصوم بچوں کے لیے بھی پانی کی فراہمی روک دی گئی۔ بچوں کو پیاسا دیکھ کر حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ جب پانی لینے کے لیے آگے بڑھے تو آپ پے در پے تیر کے وار برداشت نہ کر سکے اور گھوڑے سے گر گئے۔ دس محرم کو امام حسین رضی اللہ عنہ جب اپنے چھ ماہ کے بیٹے حضرت علی اصغر بن رباب رضی اللہ عنہ کو ہاتھوں میں اٹھا کر خون کے پیاسوں سے کہنے لگے کہ تمہاری لڑائی مجھ سے ہے اس ننھے علی اصغر سے تمھاری کیا لڑائی ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی یہ تین دن سے پیاسا ہے ہمارے لیے نہیں تو اس ننھے بچے کےلئے ہی پانی دے دو لیکن ایک تیر آیا اور ننھے سے بچے کی گردن پر جا لگا ایسے کہ بچے کا سر تن سے جدا ہو گیا اور پھر وہ قیامت خیز گھڑی بھی آن پہنچی جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر تن سے جدا کردیا گیا۔

آپ کے جسم پر گھوڑے دوڑائے گئے۔ شِمر سر مبارک کاٹنے کے بعد خیموں کو آگ لگانے کی طرف دوڑا۔ زمانے کے ان جلادوں اور دہشت گردوں سے جو ظلم بن پڑا انہوں نے کیا۔ گیارہ محرم کو ان ظالموں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کا جسم مبارک کربلا میں بغیر تدفین کے چھوڑ کر خواتین کربلا اور حضرت امام علی اوسط امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو ابنِ زیاد کے دربار میں کوفہ جانے کے لیے مجبور کیا۔ 80 کلو میٹر کا یہ فاصلہ طے کرنے کے بعد یہ قافلہ کوفہ پہنچا۔ اب وہاں کے الگ مظالم ہیں۔ وہاں سے یہ لٹا ہوا قافلہ 923 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے کوفہ سے دمشق پہنچا۔

یہاں ایک سال قید و بند کی صعوبتوں میں گزارنے کے بعد بالآخر یہ قافلہ واپس مدینہ پہنچا۔ اور سب سے پہلے روضہ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر حاضری دی اپنے مظالم رو رو کر بیان فرمائے۔ ہر طرف یزیدیوں کے خلاف بغاوت کی فضا قائم ہو چکی تھی۔ اہل مدینہ نے اموی حکام کو مدینہ سے نکال دیا اور حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ بنا کر ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی لیکن ان یزیدیوں نے پھر وہی مظالم شروع کر دیے۔مدینہ اور مکہ میں ظالمانہ قتلِ عام کیا گیا۔

مسجدِ نبوی میں تین دن تک کوئی اذان نہ دی جا سکی۔خانہ کعبہ میں آگ لگا دی۔ بے شمار لوگوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ 63 اور 64 ہجری میں پیش آنے والا یہ واقعہ حرہ ایک الگ داستان ہے لیکن وہ کیا ہے کہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔ان یزیدیوں کے انجام کی بھی ایک الگ ہی داستان ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ خواتین کو ساتھ لے کر کیوں گئے تو کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ مدینہ اور مکہ آپ کے خاندان کے لیے غیر محفوظ ہو چکے تھے۔ اور دوسرا یہ کہ یہ خواتین کوئی عام خواتین نہیں تھیں یہ اللہ کی رضا کی خاطر ظلم و ستم کے آگے چپ ہو کر گھر بیٹھنے والی خواتین نہیں تھیں۔ جانتے نہیں کہ کربلا کے بعد حضرت بی بی زینب رضی اللہ عنہا کے دلیرانہ خطبات نے امت کے اندر ایک نئی روح بیدار کر دی تھی اور یہی خواتین تو تھیں جو کہ کربلا کی صحیح عینی شاہد تھیں۔ لہو لہان تاریخ کربلا رقم کرنے کا بندوبست حکمت خداوندی تھا تاکہ منافقین و مومنین میں تمیز و تفریق کا پیمانہ قائم کیا جا سکے۔

 واقعہ کربلا کے بعد نفاق اور ایمان میں واضح لکیر کھینچ دی گئی۔ نفاق جہاں ہے وہاں ایمان بیعت کرتا نہ ووٹ دیتا ہے اور نہ جھک سکتا ہے۔ جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق شہدائے کربلا کی شان اور پہچان ہے۔ دور حاضر کے یزیدوں کی پہچان نفاق اور مفاد ہے۔

بشکریہ:۔http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/30-Sep-2017/670903


افکار و نظریات: کربلا کی پہچان