محبوب اسلم

جی یہ ھے وہ سوال جس کا جواب ھم میں سے بہت سارے واضح طو پر جانتے ھیں۔ لیکن پھر بھی اگر یاد دھانی کے طور پر اس کا اعادہ کر لیا جاۓ تو کوئی مضائقہ نہیں ھے ۔ تو جناب اس سوال کا جواب ھے کہ نہیں وطن ایک زمین کے ٹکڑے کا نام ھرگز نہیں ھے۔ ھاں وطن کیلۓ ایک سرزمین ضرور درکار ھے لیکن وطن کیلیۓ افراد کا ھونا ایک بنیادی عنصر ھے۔ اور یہ افراد اگر باھمی طور پر ھم آھنگ ھو تو ایک قوم بنتی ھے اور پھر یہ زمین کا ٹکڑا اس قوم کے مرھون منت وطن کا درجہ پاتا ھے۔

اب سوال یہ اٹھتا ھے کہ آج اچانک میں یہ سوال کیوں اٹھا رھاھوں ؟ تو اھل وطن میں محسوس کرتا ھوں کہ آج ھمارا وطن چاروں طرف سے دشمنوں کی سازشوں میں گھر چکا ھے۔ آج میرا وطن اندرونی اور بیرونی سازشوں کی آماجگاہ بن چکا ھے۔ اور یہ صورتحال اچانک یکایک نمودار نہیں ھوئی۔۔۔پچھلے چند سالوں سے یہ دیمaک کیطرح اس ملک کی جڑیں کھانے میں لگے ھوۓ ھیں۔ لیکن آج کی عالمی جیو پالیٹیکز کے تناظر میں پاکستان کے دشمن اسکی طرف ایک نئے شیطانی جذبے کے تحت متحد ھو رھے ھیں۔

اسی تناظر میں یہ کہنا چاھونگاکہ جب سقوط ڈھاکہ کا اندوھناک حادثہ پیش آیاتو میں بمشکل تین سال کا تھا۔۔۔لیکن آج بھی سینتالیس سال بعد جب بھی بنگلہ دیش کانام سنتا ھوں ایک عجیب سا درد دل میں اٹھتا محسوس کرتا ھوں۔ اور میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ھوں کہ میرے بیشترھمعصر اس درد کو شاید مجھ سے بھی زیادہ محسوس کرتے ھو۔ اور اسی بنیاد پر مجھے پورا بھروسہ ھے کہ میری نسل کے پاکستانی ھمارے والدین کی نسل کے برعکس عملی طور پر آج کے پاکستان کو کل والا بنگلہ دیش بننے سےروکیں گے۔ ان شااللہ!

تاریخ بنگلہ دیش کے تناظر میں مجھ جیسے اسوقت کے تین سالہ بچے کو تو شاید معاف کر دے لیکن آج مجھ جیسے پچاس سالہ اور میرے جیسے دوسرے کروڑوں بالغ پاکستانیوں کو کسی نئے بنگلہ دیش کی صورت میں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ تو یوں میرا سوال بہت بروقت ھے۔ اس سے پہلے کہ ھم سب اھل وطن اس ملک کو اپنی آنکھوں کے سامنے ایکبار پھر کٹتا پھٹتادیکھیں ھمیں آگے بڑھکر سچائی اور حق کیلئے کھڑا ھونا ھے۔ ھمیں اندرونی اور بیرونی سازشوں کامقابہ کرنا ھے اور بہت سمجھ اور برد باری سے ان گھمبیر حالات کا مقابلہ کرنا ھے۔

مثال کے طور پر آج کون بالغ پاکستانی یہ نہیں جانتا کہ پاک چائنہ کاریڈور ھمارے وطن کی ترقی کیلئے کلیدی حثیت رکھتا ھے۔ جبکہ انڈیا، اسرائیل اور امریکہ اپنے اپنے مفادات کے تناظر میں اس پراجیکٹ کی مخالفت کر رھے ھیں۔

یہی نہیں چند ایک بظاھر دوست ممالک جیسے سعودی عرب، افغانستان اور ایران بھی اس سلسلے میں تحفظات رکھتے ھیں۔ لیکن امریکہ اور انڈیا کا گٹھ جوڑ وہ شیطانی اتحاد ھے جو اب صاف نظر آرھا ھے۔ ابھی کچھ روز پہلے امریکی ڈیفنس سیکریٹری جنرل میٹس نے انڈیاکے دورے کے دوران انڈیا سے نہ صرف دوررس دفاعی معاھدوں کی بنیاد رکھی بلکہ انڈیا کی بلوچستان اور کشمیر  میں پاکستان کیخلاف ھرزہ سرائی کو سراھا۔ امریکہ انڈیا کو چین اور پاکستان کے خلاف کھڑا کر رھا ھے اور انڈیا کی موجودہ ھندونسل پرست حکومت بھی یہ نقصان کا سودا کرنے پر تیار ھے جس کے منفی اثرات دیر بعد ظاھر ھونگے۔

لیکن جو بات طے ھے وہ یہ ھے کہ پاکستان کو ستر کی دھائی میں جس طرح نہ چاھتے ھوۓ بھی افغانستان میں روسی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ کا ساتھ دینا پڑا کہ ھمارے اپنے مفادات زد میں تھے۔ بالکل اس طرح آج ھمیں چین کیساتھ ملکر اپنے مفادات کا دفاع انڈیا اور امریکہ کے شیطانی ٹولے کیخلاف کرناھی ھوگا۔ تو اھل وطن آنے والے دن پاکستان کیلئے بہت کٹھن ھیں۔ اور آپ سب کو اسکا ٹھیک ٹھیک ادراک ھونا چاھئے۔

اب یہاں سوال یہ اٹھتا ھے کہ ھم بحثیت پاکستانی اندرونی خطرات کی حدتک کیا رول ادا کر رھے ھیں؟ ھم سب جانتے ھیں کہ بیرونی طاقتیں اپنے ایجنٹوں اور لوکل آلہ کاروں کے ھاتھوں ھمیں اندر سے کھوکھلہ کرنے کیلئے سالوں سے مصروف ھیں اور موجودہ حالات کے تناظر میں اپنی کوششوں کو مزید تیز کر چکے ھیں۔ لیکن آخر ھمارا کیا رول ھے۔ کیا ھم آج اپنی والدین کی نسل کیطرح ایکبار پھر اس وطن عزیز کو کٹتا پھٹتادیکھتے رھینگے یا آگے بڑھکر اپنی ذمہ داریاں پوری کرینگے؟؟؟

ھم میں سے کون یہ بات نہیں جانتا کہ بلوچستان میں عمومی طور پر عوام کیلئے سہولیات کی کمی ھے۔ کون نہیں جانتا کہ جنوبی پنجاب میں بھی یہی حالات ھیں۔

دوسری طرف کون نہیں جانتا کہ ھم کوئٹہ میں خاص طور پر اور پاکستان میں عمومی طور پر اپنے شیعہ بھائی بہنوں پر تشدت سے آگاہ ھیں۔ یہ وہ دو بنیادی عوامل ھیں یعنی وسائل کی بانٹ اور مذھبی تفرقہ بندی جو باھر کی دشمن طاقتوں کو ھمارے اندر آلہ کار بنانے میں مددگار ثابت ھو رھے ھیں۔ کیا ھم بحثیت قوم ان دو عوامل کے ضمن میں حق اور سچ کا ساتھ نہیں دے سکتے؟؟؟

مثال کے طور پر  ھمیں سول سوسائٹی کے طور پر منظم ھو کر حکومتی ارباب اختیار پر دباٶ ڈالنا چاھئے کہ وہ بلوچستان میں گولی کے علاوہ دوسرے متبادل حل پر بھی توجہ دے۔ مانا کہ بلوچ لبریشن آرمی نے تشدت کی راہ اپنائی ھوئی ھے اور انڈیا کے ھاتھوں استعمال ھو رھی ھے لیکن کیاھر بلوچ بلوچستان لبریشن آرمی کا حصہ ھے؟؟؟ ھرگز نہیں!!! یہ وہ بلوچی بھائی ھیں جن کے روز مرہ کے مسائل کے حل کیلئے ھنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ھے۔

ابھی کل ھی میری ایک قریبی بلوچ دوست سے بات ھو رھی تھی۔ بقول ان کے بلوچستان کی سیاسی قیادت پر عوام کو اعتماد نہیں ھے اور عملاٌ بلوچستان میں کنٹرول آرمی کا ھی ھے۔ چلیئے موجودہ عالمی جغرافیائی سیاسی حالات کےتحت ھم مان لیتے ھیں کہ آرمی کا کنٹرول ناگزیر ھے۔ لیکن پھر بھی موجودہ سٹیٹس کو پالیسیاں بلوچی بہن بھائیوں میں مایوسی پھیلا رھی ھیں۔ اور ان موجودہ پالیسیوں کو بدلنے کی اشد ضرورت ھے۔

 آپ بے شک بلوچ لبریشن آرمی کا قلع قمع کریں لیکن خدارا عام بلوچی فیملی کو بنیادی سہولیات کی رسائی یقینی بنائیں اور ان کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔ آپ کی چیک پوسٹیں فلسطین میں اسرائیلی چیک پوسٹوں کی یاد بہرحال تازہ نہ کروایں۔ یاد رکھئے  یہ ھمارے اپنے ھموطن غیور بلوچ بھائی ھیں!!!

میری تجویز ھے کہ اول تو بلوچستان میں عوامی منتخب شدہ حکومت کو مکمل بااختیار بنایا جاۓ اور پھر ان کا کڑا احتساب بھی کیا جاۓ کہ وہ عوام کوریلیف دینے میں کسی قسم کی ڈنڈی نہ ماریں۔ انکو وسائل اور اختیار دیں اوراس کی خوب تشہیر کریں تانکہ بلوچ عوام کو پتہ ھو کہ اگر وسائل اور اختیارات کا صحیح استعمال نہیں ھو رھا تو وہ کون سے عناصر ھیں جو اس کوتاھی کے ذمہدار ھیں۔ پھر کڑے احتساب کے نافذ کا عمل صاف اور شفاف بنائیں۔

مزید جیسا کہ اوپر ذکر ھو چکا کہ بلوچستان کے موجودہ نازک عالمی جغرافیائی سیاسی حالات کے تناظر میں بلوچستان میں پاک آرمی کا دخل لازمی ھے۔ لیکن ا سکا یہ مطلب ھرگز نہیں ھے کہ آرمی ھر بلوچ کو شک کی نظر سے دیکھے اور ھر بلوچ کو دوسرے کی مخبری پر لگا دے۔

اسطرح کا طرز عمل صرف منفی اثرات پیدا کریگا۔ میری تجویز ھے کہ آرمی سول حکومت کیساتھ ملکر میمورنڈم آف انڈراسٹڈینگ سائین کرے اور اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں کا واضح طور پر احاطہ کرے۔ ھمیں پاک فوج کی قربانیوں پر فخر ھے اور ھم سمجھتے ھیں کہ پاک فوج بلوچستان میں سول حکومت کیساتھ ملکر بلوچستان کی ترقی اور بلوچ عوام کی خدمت کیلئے ایک کلیدی کردار ادا کر سکتی ھے۔ بلوچستان میں پرتشدت علحیدگی پسند ٹولے کا مقابلہ گولی سےاور اٹیلیکچوئیل ٹولے کا مقابلہ انکی جائز ڈیمانڈز کا مطالبہ سول۔ملٹری اشتراک سے پورا کرنے ھی سے ممکن ھے۔  

دوسری طرف پہلے تو ملک میں مالی وسائل کی کمی نہیں ھے، کرپشن کی لعنت پر قابو پا کر بلوچستان اور دوسرے پس ماندہ علاقوں میں ترقی کی رفتار بڑھائی جا سکتی ھے۔ مزید براں وسائل کی منصافانہ تقسیم بھی اشد ضروری ھے۔ لیکن پھر بھی اگر وسائل کی کمی کا رونا ھےتو سول اور ملٹری اشتراک ھم پاکستانیوں کو صاف اور شفاف احتساب کا یقین دلواۓ اور زمینی نتائج کا مظاھرہ کرےتو کوئی وجہ نہیں کہ ھم پاکستانی اپنے بلوچ بھائیوں کیلئے اپنے زیور تک نہ بیچ دیں۔

 میری تجویز ھے ملٹری اور سول حکومت کی مشترکہ نگرانی میں ایک قومی فنڈ قائم کیا جاۓ اور ایسے عوامی بھلائی کے پراجیکٹز پر کام شروع کیا جاۓ جو ایک مخصوص مدت میں نہ صرف مکمل ھو بلکہ ان پر اٹھنےوالےاخراجات رئیل ٹائم کے اصول کے تحت ویب پر دستیاب ھو تانکہ عوام کا اعتماد بحال ھو اور اسطرح کے مزید پراجیکٹز لانچ کئے جاسکیں۔

دوسری طرف اس محرم الحرام کے محترم مہینے میں کیا ھم پاکستانی یہ عہد نہیں کرسکتے کہ ھم صرف اور صرف اپنے اعمال کی ذمہ داری اٹھائیں اور دوسروں کے منصف نہ بنیں۔ھم اللہ تعالی کو  یوم دین کا مالک دل سے تسلیم کریں۔ اللہ کو ھمارے اعمال اور ھمارے نظریات کا اصل جج مقرر کریں۔

یہ شیعہ سنی فساد جو قیامت لیبیا، عراق، یمن اور سریا میں ڈھا رھا ھے اس سے عبرت حاصل کریں۔ خدارا اس بات کو سمجھیں کہ دشمن ھمیں ایکدوسرے کے خلاف استعمال کر رھا ھے۔ اور ھم کیسے مسلمان ھے کی اللہ کے واضح حکم کو بھی نہیں سمجھتے؟؟میرے رب نے سورہ المائدہ میں فرمایا ھے:

”اور ہم نے تیری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے اُس کی تصدیق کرتی ہوئی جو کتاب میں سے اس کے سامنے ہے اور اس پر نگران کے طور پر۔ پس ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کر جو اللہ نے اتارا ہے۔ اور جو تیرے پاس حق آیا ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر۔ تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک مسلک اور ایک مذہب بنایا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ اس کے ذریعہ جو اس نے تمہیں دیا تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔ پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کا لَوٹ کر جانا ہے۔ پس وہ تمہیں ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کرے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔“ سورہ المائدہ۔آیت ٤٨

ذرا غور تو کریں۔ کہ یہ مسلک اور مذھبی  تفریق میرے رب کی اپنی مرضی کے نتیجہ میں ظہور پذیر ھے تو پھر آپ اور میں کون ھیں کہ ایکدوسرے پر کفر کے فتوے صادر فرماۓ؟؟؟جب میرا رب فرماتا ھے کہ وہ ھمیں ھمارے مسلک اور مذھب میں آزمانا چاھتا ھے تو پھر ھم کون ھوتے ھیں اسکی مرضی کے سامنے بغاوت کرنے والے؟؟؟

اور ذرا غورکریں کہ میرا رب فرماتا ھے کہ پس تم نیکیوں میں ایکدوسرے سے سبقت لے جاٶ۔ یعنی اگر ان مذاھب اور مسلکوں کے ماننے والوں مءں اگر کوئی مقابلہ ھےتو وہ ھے کہ نیکیوں میں کون کتنی سبقت لے جاتا ھے۔ اللہ اکبر۔۔۔کیا اب بھی ھماری آنکھیں نہیں کھلتیں؟؟؟ شیعہ اور سنی کا اصل مقابلہ ھے تو نیکیوں میں سبقت لے جانے پر نہ کہ ایکدوسرے کو کافر ثابت کرنے پر اور ایکدوسرے کی گردن مارنے پر!!!

اور مزید سن لیں کہ جو اختلاف ھمارے بیچ ھیں اس کیلئے میرا رب فرماتا ھے تمھیں اللہ کیطرف لوٹ کر جاناھے اور اسوقت میرا رب ان باتوں کی حقیقت واضح کریگا جن میں ھم اختلاف رکھتےھیں۔۔۔

خدارا قرآن کے اس واضح پیغام کو سمجھئے اور اسے آگے شئیر بھی کریں۔ خبردار کسی سنی عالم یا شیعہ عالم کو قرآن کےاس واضح پیغام کیخلاف آپکو ایکدوسرےکے خلاف تعصب اور نفرت کا درس دینے کی اجازت نہ دیں۔

آئیے اس ملک خداداد کو حقیقی معنوں میں وطن بنائیں اور اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ھم پر ھماری پچھلی نسلوں کا قرض بھی ھے۔ اور آنےوالی نسلوں کی ذمہداری بھی۔۔۔آئیۓ ایک سول سوسائٹی تحریک کا آغاز کریں اور ارباب اختیار پر دباٶ ڈالیں کہ وہ مسائل کا صحیح حل نکالیں۔

آئیے حق اور سچ کیلئے کھڑیں ھو۔۔۔آئیے اپنی حصے کا نہ صرف دیا جلائیں بلکہ ایکدوسرے سے باھم ملکر ان دیوں سے روشنی کا ایک الاٶ پیدا کریں جو ھم سب کیلۓ نجات کا باعث بنے۔۔۔ ان شا اللہ!!!


افکار و نظریات: کیا وطن صرف ایک زمین کے ٹکڑے کا نام ھے