اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات محبوب اسلم جی یہ ھے وہ سوال جس کا جواب ھم میں سے بہت سارے واضح طو پر جانتے ھیں۔ لیکن پھر بھی اگر یاد دھانی کے طور پر اس کا اعادہ کر لیا جاۓ تو کوئی مضائقہ نہیں ھے ۔ تو جناب اس سوال کا جواب ھے کہ نہیں وطن ایک زمین کے ٹکڑے کا نام ھرگز نہیں ھے۔ ھاں وطن کیلۓ ایک سرزمین ضرور درکار ھے لیکن وطن کیلیۓ افراد کا ھونا ایک بنیادی عنصر ھے۔ اور یہ افراد اگر باھمی طور پر ھم آھنگ ھو تو ایک قوم بنتی ھے اور پھر یہ زمین کا ٹکڑا اس قوم کے مرھون منت وطن کا درجہ پاتا ھے۔ اب سوال یہ اٹھتا ھے کہ آج اچانک میں یہ سوال کیوں اٹھا رھاھوں ؟ تو اھل وطن میں محسوس کرتا ھوں کہ آج ھمارا وطن چاروں طرف سے دشمنوں کی سازشوں میں گھر چکا ھے۔ آج میرا وطن اندرونی اور بیرونی سازشوں کی آماجگاہ بن چکا ھے۔ اور یہ صورتحال اچانک یکایک نمودار نہیں ھوئی۔۔۔پچھلے چند سالوں سے یہ دیمaک کیطرح اس ملک کی جڑیں کھانے میں لگے ھوۓ ھیں۔ لیکن آج کی عالمی جیو پالیٹیکز کے تناظر میں پاکستان کے دشمن اسکی طرف ایک نئے شیطانی جذبے کے تحت متحد ھو رھے ھیں۔ اسی تناظر میں یہ کہنا چاھونگاکہ جب سقوط ڈھاکہ کا اندوھناک حادثہ پیش آیاتو میں بمشکل تین سال کا تھا۔۔۔لیکن آج بھی سینتالیس سال بعد جب بھی بنگلہ دیش کانام سنتا ھوں ایک عجیب سا درد دل میں اٹھتا محسوس کرتا ھوں۔ اور میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ھوں کہ میرے بیشترھمعصر اس درد کو شاید مجھ سے بھی زیادہ محسوس کرتے ھو۔ اور اسی بنیاد پر مجھے پورا بھروسہ ھے کہ میری نسل کے پاکستانی ھمارے والدین کی نسل کے برعکس عملی طور پر آج کے پاکستان کو کل والا بنگلہ دیش بننے سےروکیں گے۔ ان شااللہ! تاریخ بنگلہ دیش کے تناظر میں مجھ جیسے اسوقت کے تین سالہ بچے کو تو شاید معاف کر دے لیکن آج مجھ جیسے پچاس سالہ اور میرے جیسے دوسرے کروڑوں بالغ پاکستانیوں کو کسی نئے بنگلہ دیش کی صورت میں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ تو یوں میرا سوال بہت بروقت ھے۔ اس سے پہلے کہ ھم سب اھل وطن اس ملک کو اپنی آنکھوں کے سامنے ایکبار پھر کٹتا پھٹتادیکھیں ھمیں آگے بڑھکر سچائی اور حق کیلئے کھڑا ھونا ھے۔ ھمیں اندرونی اور بیرونی سازشوں کامقابہ کرنا ھے اور بہت سمجھ اور برد باری سے ان گھمبیر حالات کا مقابلہ کرنا ھے۔ مثال کے طور پر آج کون بالغ پاکستانی یہ نہیں جانتا کہ پاک چائنہ کاریڈور ھمارے وطن کی ترقی کیلئے کلیدی حثیت رکھتا ھے۔ جبکہ انڈیا، اسرائیل اور امریکہ اپنے اپنے مفادات کے تناظر میں اس پراجیکٹ کی مخالفت کر رھے ھیں۔ یہی نہیں چند ایک بظاھر دوست ممالک جیسے سعودی عرب، افغانستان اور ایران بھی اس سلسلے میں تحفظات رکھتے ھیں۔ لیکن امریکہ اور انڈیا کا گٹھ جوڑ وہ شیطانی اتحاد ھے جو اب صاف نظر آرھا ھے۔ ابھی کچھ روز پہلے امریکی ڈیفنس سیکریٹری جنرل میٹس نے انڈیاکے دورے کے دوران انڈیا سے نہ صرف دوررس دفاعی معاھدوں کی بنیاد رکھی بلکہ انڈیا کی بلوچستان اور کشمیر میں پاکستان کیخلاف ھرزہ سرائی کو سراھا۔ امریکہ انڈیا کو چین اور پاکستان کے خلاف کھڑا کر رھا ھے اور انڈیا کی موجودہ ھندونسل پرست حکومت بھی یہ نقصان کا سودا کرنے پر تیار ھے جس کے منفی اثرات دیر بعد ظاھر ھونگے۔ لیکن جو بات طے ھے وہ یہ ھے کہ پاکستان کو ستر کی دھائی میں جس طرح نہ چاھتے ھوۓ بھی افغانستان میں روسی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ کا ساتھ دینا پڑا کہ ھمارے اپنے مفادات زد میں تھے۔ بالکل اس طرح آج ھمیں چین کیساتھ ملکر اپنے مفادات کا دفاع انڈیا اور امریکہ کے شیطانی ٹولے کیخلاف کرناھی ھوگا۔ تو اھل وطن آنے والے دن پاکستان کیلئے بہت کٹھن ھیں۔ اور آپ سب کو اسکا ٹھیک ٹھیک ادراک ھونا چاھئے۔ اب یہاں سوال یہ اٹھتا ھے کہ ھم بحثیت پاکستانی اندرونی خطرات کی حدتک کیا رول ادا کر رھے ھیں؟ ھم سب جانتے ھیں کہ بیرونی طاقتیں اپنے ایجنٹوں اور لوکل آلہ کاروں کے ھاتھوں ھمیں اندر سے کھوکھلہ کرنے کیلئے سالوں سے مصروف ھیں اور موجودہ حالات کے تناظر میں اپنی کوششوں کو مزید تیز کر چکے ھیں۔ لیکن آخر ھمارا کیا رول ھے۔ کیا ھم آج اپنی والدین کی نسل کیطرح ایکبار پھر اس وطن عزیز کو کٹتا پھٹتادیکھتے رھینگے یا آگے بڑھکر اپنی ذمہ داریاں پوری کرینگے؟؟؟ ھم میں سے کون یہ بات نہیں جانتا کہ بلوچستان میں عمومی طور پر عوام کیلئے سہولیات کی کمی ھے۔ کون نہیں جانتا کہ جنوبی پنجاب میں بھی یہی حالات ھیں۔ دوسری طرف کون نہیں جانتا کہ ھم کوئٹہ میں خاص طور پر اور پاکستان میں عمومی طور پر اپنے شیعہ بھائی بہنوں پر تشدت سے آگاہ ھیں۔ یہ وہ دو بنیادی عوامل ھیں یعنی وسائل کی بانٹ اور مذھبی تفرقہ بندی جو باھر کی دشمن طاقتوں کو ھمارے اندر آلہ کار بنانے میں مددگار ثابت ھو رھے ھیں۔ کیا ھم بحثیت قوم ان دو عوامل کے ضمن میں حق اور سچ کا ساتھ نہیں دے سکتے؟؟؟ مثال کے طور پر ھمیں سول سوسائٹی کے طور پر منظم ھو کر حکومتی ارباب اختیار پر دباٶ ڈالنا چاھئے کہ وہ بلوچستان میں گولی کے علاوہ دوسرے متبادل حل پر بھی توجہ دے۔ مانا کہ بلوچ لبریشن آرمی نے تشدت کی راہ اپنائی ھوئی ھے اور انڈیا کے ھاتھوں استعمال ھو رھی ھے لیکن کیاھر بلوچ بلوچستان لبریشن آرمی کا حصہ ھے؟؟؟ ھرگز نہیں!!! یہ وہ بلوچی بھائی ھیں جن کے روز مرہ کے مسائل کے حل کیلئے ھنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ھے۔ ابھی کل ھی میری ایک قریبی بلوچ دوست سے بات ھو رھی تھی۔ بقول ان کے بلوچستان کی سیاسی قیادت پر عوام کو اعتماد نہیں ھے اور عملاٌ بلوچستان میں کنٹرول آرمی کا ھی ھے۔ چلیئے موجودہ عالمی جغرافیائی سیاسی حالات کےتحت ھم مان لیتے ھیں کہ آرمی کا کنٹرول ناگزیر ھے۔ لیکن پھر بھی موجودہ سٹیٹس کو پالیسیاں بلوچی بہن بھائیوں میں مایوسی پھیلا رھی ھیں۔ اور ان موجودہ پالیسیوں کو بدلنے کی اشد ضرورت ھے۔ آپ بے شک بلوچ لبریشن آرمی کا قلع قمع کریں لیکن خدارا عام بلوچی فیملی کو بنیادی سہولیات کی رسائی یقینی بنائیں اور ان کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔ آپ کی چیک پوسٹیں فلسطین میں اسرائیلی چیک پوسٹوں کی یاد بہرحال تازہ نہ کروایں۔ یاد رکھئے یہ ھمارے اپنے ھموطن غیور بلوچ بھائی ھیں!!! میری تجویز ھے کہ اول تو بلوچستان میں عوامی منتخب شدہ حکومت کو مکمل بااختیار بنایا جاۓ اور پھر ان کا کڑا احتساب بھی کیا جاۓ کہ وہ عوام کوریلیف دینے میں کسی قسم کی ڈنڈی نہ ماریں۔ انکو وسائل اور اختیار دیں اوراس کی خوب تشہیر کریں تانکہ بلوچ عوام کو پتہ ھو کہ اگر وسائل اور اختیارات کا صحیح استعمال نہیں ھو رھا تو وہ کون سے عناصر ھیں جو اس کوتاھی کے ذمہدار ھیں۔ پھر کڑے احتساب کے نافذ کا عمل صاف اور شفاف بنائیں۔ مزید جیسا کہ اوپر ذکر ھو چکا کہ بلوچستان کے موجودہ نازک عالمی جغرافیائی سیاسی حالات کے تناظر میں بلوچستان میں پاک آرمی کا دخل لازمی ھے۔ لیکن ا سکا یہ مطلب ھرگز نہیں ھے کہ آرمی ھر بلوچ کو شک کی نظر سے دیکھے اور ھر بلوچ کو دوسرے کی مخبری پر لگا دے۔ اسطرح کا طرز عمل صرف منفی اثرات پیدا کریگا۔ میری تجویز ھے کہ آرمی سول حکومت کیساتھ ملکر میمورنڈم آف انڈراسٹڈینگ سائین کرے اور اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں کا واضح طور پر احاطہ کرے۔ ھمیں پاک فوج کی قربانیوں پر فخر ھے اور ھم سمجھتے ھیں کہ پاک فوج بلوچستان میں سول حکومت کیساتھ ملکر بلوچستان کی ترقی اور بلوچ عوام کی خدمت کیلئے ایک کلیدی کردار ادا کر سکتی ھے۔ بلوچستان میں پرتشدت علحیدگی پسند ٹولے کا مقابلہ گولی سےاور اٹیلیکچوئیل ٹولے کا مقابلہ انکی جائز ڈیمانڈز کا مطالبہ سول۔ملٹری اشتراک سے پورا کرنے ھی سے ممکن ھے۔ دوسری طرف پہلے تو ملک میں مالی وسائل کی کمی نہیں ھے، کرپشن کی لعنت پر قابو پا کر بلوچستان اور دوسرے پس ماندہ علاقوں میں ترقی کی رفتار بڑھائی جا سکتی ھے۔ مزید براں وسائل کی منصافانہ تقسیم بھی اشد ضروری ھے۔ لیکن پھر بھی اگر وسائل کی کمی کا رونا ھےتو سول اور ملٹری اشتراک ھم پاکستانیوں کو صاف اور شفاف احتساب کا یقین دلواۓ اور زمینی نتائج کا مظاھرہ کرےتو کوئی وجہ نہیں کہ ھم پاکستانی اپنے بلوچ بھائیوں کیلئے اپنے زیور تک نہ بیچ دیں۔ میری تجویز ھے ملٹری اور سول حکومت کی مشترکہ نگرانی میں ایک قومی فنڈ قائم کیا جاۓ اور ایسے عوامی بھلائی کے پراجیکٹز پر کام شروع کیا جاۓ جو ایک مخصوص مدت میں نہ صرف مکمل ھو بلکہ ان پر اٹھنےوالےاخراجات رئیل ٹائم کے اصول کے تحت ویب پر دستیاب ھو تانکہ عوام کا اعتماد بحال ھو اور اسطرح کے مزید پراجیکٹز لانچ کئے جاسکیں۔ دوسری طرف اس محرم الحرام کے محترم مہینے میں کیا ھم پاکستانی یہ عہد نہیں کرسکتے کہ ھم صرف اور صرف اپنے اعمال کی ذمہ داری اٹھائیں اور دوسروں کے منصف نہ بنیں۔ھم اللہ تعالی کو یوم دین کا مالک دل سے تسلیم کریں۔ اللہ کو ھمارے اعمال اور ھمارے نظریات کا اصل جج مقرر کریں۔ یہ شیعہ سنی فساد جو قیامت لیبیا، عراق، یمن اور سریا میں ڈھا رھا ھے اس سے عبرت حاصل کریں۔ خدارا اس بات کو سمجھیں کہ دشمن ھمیں ایکدوسرے کے خلاف استعمال کر رھا ھے۔ اور ھم کیسے مسلمان ھے کی اللہ کے واضح حکم کو بھی نہیں سمجھتے؟؟میرے رب نے سورہ المائدہ میں فرمایا ھے: ”اور ہم نے تیری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے اُس کی تصدیق کرتی ہوئی جو کتاب میں سے اس کے سامنے ہے اور اس پر نگران کے طور پر۔ پس ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کر جو اللہ نے اتارا ہے۔ اور جو تیرے پاس حق آیا ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر۔ تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک مسلک اور ایک مذہب بنایا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ اس کے ذریعہ جو اس نے تمہیں دیا تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔ پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کا لَوٹ کر جانا ہے۔ پس وہ تمہیں ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کرے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔“ سورہ المائدہ۔آیت ٤٨ ذرا غور تو کریں۔ کہ یہ مسلک اور مذھبی تفریق میرے رب کی اپنی مرضی کے نتیجہ میں ظہور پذیر ھے تو پھر آپ اور میں کون ھیں کہ ایکدوسرے پر کفر کے فتوے صادر فرماۓ؟؟؟جب میرا رب فرماتا ھے کہ وہ ھمیں ھمارے مسلک اور مذھب میں آزمانا چاھتا ھے تو پھر ھم کون ھوتے ھیں اسکی مرضی کے سامنے بغاوت کرنے والے؟؟؟ اور ذرا غورکریں کہ میرا رب فرماتا ھے کہ پس تم نیکیوں میں ایکدوسرے سے سبقت لے جاٶ۔ یعنی اگر ان مذاھب اور مسلکوں کے ماننے والوں مءں اگر کوئی مقابلہ ھےتو وہ ھے کہ نیکیوں میں کون کتنی سبقت لے جاتا ھے۔ اللہ اکبر۔۔۔کیا اب بھی ھماری آنکھیں نہیں کھلتیں؟؟؟ شیعہ اور سنی کا اصل مقابلہ ھے تو نیکیوں میں سبقت لے جانے پر نہ کہ ایکدوسرے کو کافر ثابت کرنے پر اور ایکدوسرے کی گردن مارنے پر!!! اور مزید سن لیں کہ جو اختلاف ھمارے بیچ ھیں اس کیلئے میرا رب فرماتا ھے تمھیں اللہ کیطرف لوٹ کر جاناھے اور اسوقت میرا رب ان باتوں کی حقیقت واضح کریگا جن میں ھم اختلاف رکھتےھیں۔۔۔ خدارا قرآن کے اس واضح پیغام کو سمجھئے اور اسے آگے شئیر بھی کریں۔ خبردار کسی سنی عالم یا شیعہ عالم کو قرآن کےاس واضح پیغام کیخلاف آپکو ایکدوسرےکے خلاف تعصب اور نفرت کا درس دینے کی اجازت نہ دیں۔ آئیے اس ملک خداداد کو حقیقی معنوں میں وطن بنائیں اور اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ھم پر ھماری پچھلی نسلوں کا قرض بھی ھے۔ اور آنےوالی نسلوں کی ذمہداری بھی۔۔۔آئیۓ ایک سول سوسائٹی تحریک کا آغاز کریں اور ارباب اختیار پر دباٶ ڈالیں کہ وہ مسائل کا صحیح حل نکالیں۔ آئیے حق اور سچ کیلئے کھڑیں ھو۔۔۔آئیے اپنی حصے کا نہ صرف دیا جلائیں بلکہ ایکدوسرے سے باھم ملکر ان دیوں سے روشنی کا ایک الاٶ پیدا کریں جو ھم سب کیلۓ نجات کا باعث بنے۔۔۔ ان شا اللہ!!!
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

افکار و نظریات: کیا وطن صرف ایک زمین کے ٹکڑے کا نام ھے
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں