سانحہ راولپنڈی

 

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

چھٹی کی خوشی کوئی طالب علموں سے پوچھے، ہمیں  آج بھی سکول کی چھٹیوں  کا لطف نہیں بھولا، چھٹی کے دن بازار جانا ہماراپسندیدہ مشغلہ تھا، ایک دن کسی نے یہ خبر سنائی کہ اس ہفتے دو چھٹیاں اکٹھی آرہی ہیں، بس پھر کیا تھا ہم نے دونوں دن بازار جانے کا پروگرام بنا لیا۔

ہمارا ایک کلاس فیلو ہمارے اس منصوبے سے آگاہ ہوگیا، اس نے کہا بھائی یہ نو محرم اور دس محرم کی چھٹیاں ہیں، ان میں ہر گز بازار نہیں جانا، ہم چونک گئے بھائی کیوں!؟

اس نے بڑی رازداری سے بتایا کہ ہماری دادی اماں کہتی ہیں کہ اس دن شیعہ لوگ بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور انہیں ذبح کرکے ان کا خون چاولوں پر ڈال کر کھاتے ہیں، ساتھ بیٹھے ہوئے دوسرے دوست نے مزید مصالحہ لگاتے ہوئے کہا کہ میری نانی کہتی ہیں کہ  شیعہ حضرات بچوں کو لے جاکر چاولوں کی دیگوں پر الٹا لٹکا دیتے ہیں اور پھر ان کے جسموں میں زنجیروں سے چھید کرکے خون نکالتے ہیں ، وہ خون چاولوں پر گرتا ہے اور وہ اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔

بس یہ سننا تھا کہ ہمارے تو ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گئے، بازار جانے کا ساراشوق کافور ہوگیا، دونوں چھٹیاں ہم نے گھر میں دبک کر گزار دیں، وقت پر لگا کر اڑتا رہا اور ہم ایک کلاس سے دوسری کلاس میں جاتے رہے ، اس دوران اہلِ تشیع کے بارے میں ہمارے علم میں مزید اضافہ ہوتا گیا کہ ان کے جلوس کو دیکھنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ، ان کی مجالس سننے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے اور یہ لوگ ۔۔۔

ایک دن نو محرم الحرام کو  مسجد میں یسّرنالقرآن اور قرآن مجید پڑھانے والے مولوی صاحب نے  بچوں کو جمع کیا، جمع کرنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ کل شیعوں کا جلوس ہے، خبردار کوئی ان کا جلوس دیکھنے گیا، شیعہ دس محرم کو اکٹھے ہوکر اجتماعی زنا کرتے ہیں اورشام غریباں کا جشن مناتے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیعہ نماز جنازہ کی پانچ تکبیریں پڑھتے ہیں اور پانچویں تکبیر میں مردے پر لعنت بھیجتے ہیں، اور۔۔ اور۔۔ اور۔۔۔

تقریبا ساتویں کلاس میں پہلی مرتبہ مولانا مودودی کی کتاب رسائل و مسائل کہیں سے ہمارے ہاتھ لگ گئی، چونکہ اس میں سوالات و جوابات تھے اور ہمارے دماغ میں بھی ان گنت سوالات تھے ، چنانچہ ہم نے بڑے شوق سے اس کا مطالعہ کیا! ادھر مطالعہ ختم ہوا اور ادھر ہم پر یہ واضح ہوگیا کہ دین نانی امّاں اور دادی امّاں کی کہانیوں کا نام نہیں ہے  بلکہ تحقیق اور جستجو کا ماحصل ہے۔

رسائل و مسائل کے ایک حصے میں اہل تشیع کے بارے میں بھی سوالات و جوابات موجود ہیں، وہ پڑھے تو مجھے سمجھ آئی کہ اہلِ تشیع ایک مستقل فرقہ ہے لیکن میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ نانی امّاں ، دادی امّاں اور مولوی صاحب کی کہانیوں میں اہلِ تشیع کے بارے میں جھوٹ کیوں  بولا جاتا ہے!؟

 کچھ عرصے کے بعد میں بازار سے گزر رہاتھا کہ اتفاق سے میرے سامنے ایک ماتمی جلوس آگیا۔میں نے چونک کر کسی سے پوچھا کہ کیا آج نو یا دس محرم ہے؟ 

اس نے کہا نہیں ، میں نے کہا یہ جلوس کیسا ہے؟ اس نے کہا یہ امام حسینؑ کے چہلم کا جلوس ہے، میں نے کہا اچھا تو یہ لوگ ماتم کیوں کر رہے ہیں؟

اس نے کہا یہ امام حسینؑ کی مظلومیت  کا ماتم کررہے ہیں  چونکہ امام ؑ کو یزید نے شہید کروادیاتھا۔ میں نے کہا جنگ کس بات پر تھی؟

اس نے کہا اسلام پر!

مجھے تعجب ہوا!!!

 بھئی اگر جنگ اسلام پر تھی تو رسولﷺ کے زمانے میں ہونی چاہیے تھی؟!

اس پر وہ صاحب بولے ہاں یہ  جنگ رسول کے زمانے سے ہی جاری  تھی، رسولﷺ کے زمانے میں یزید کے داداے نے حسینؑ کے نانا کے ساتھ جنگیں لڑیں، پھر یزید کے باپ نے حسینؑ کے باپ سے جنگیں لڑیں اور اب یزید نے امام حسینؑ سے جنگ لڑی۔

میں نے پوچھا اچھا تو یہ جلوس بازاروں اور گلیوں میں کیوں نکالتے ہیں!؟

اُن صاحب نے جواب دیا اس لئے تاکہ مسلمان نسل در نسل اس جلوس کو دیکھ کر یہ سوال کریں کہ یہ ماتم کیوں ہو رہاہے؟

حسینؑ کون تھے؟

حسینؑ کا خاندان کونسا تھا؟

یزید کون تھا؟

 یزید کا خاندان کونسا تھا؟

یہ جنگ کب سے جاری تھی؟ ۔۔۔

المختصر یہ کہ وقت گزرتا گیا اور ۳۰۱۳ میں دس محرم الحرام کے روز  سانحہ راولپنڈی پیش آیا۔ چار سال تک  نماز جمعہ کے خطبات اور مولویوں کی پریس کانفرنسز میں مسلسل یہی کہا گیا کہ یہ حملہ ایرانی کمانڈوز نے کیا، خمینی انقلاب کے تربیت یافتہ غنڈوں نے کیا، کالے کافروں نے کیا۔۔۔۔

یاد رہے کہ اس سانحے میں ایک دینی مدرسے پر حملہ کرکے متعدد بے گناہ انسانوں کو قتل کر دیا گیا تھا، ہر پاکستانی کی طرح مجھے بھی اس سانحے کا بہت دکھ ہوا۔

لیکن ۲۰۱۷ میں یہ دکھ اس وقت اور بھی بڑھ گیا کہ جب ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اس راز کو افشا کیا کہ سانحہ راولپنڈی کے ذمہ دار خود اسی فرقے کے لوگ تھے جن کا مدرسہ تھا۔

مجھے کتنے سالوں کے بعد یہ احساس ہوا کہ صرف نانی اماں اور دادی اماں کی کہانیوں میں جھوٹ نہیں ہوتا بلکہ انسان جب حسد اور کینے میں حد سے زیادہ گر جاتا ہے تو پھر وہ کسی بھی دوسرے فرقے کے خلاف جھوٹ پھیلانے کے لئے اپنے ہی فرقے اور مکتب کے لوگوں کے خون میں بھی ہاتھ رنگنے پر تیار ہو جاتا ہے۔

جس معاشرے میں آج بھی اپنے آپ کو دیندار کہنے والے  اور دین کے ٹھیکیدار کہلانے والےلوگ دوسروں کی مخالفت  اور حسد میں اپنے ہی بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیں اس معاشرے میں دادی امّاں اور نانی اماں سے کیا گلہ کیا جا سکتا ہے۔

 

 


افکار و نظریات: سانحہ راولپنڈی