کل روز عاشور تھا، ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل سوگوار تھا، کوئی مسجد میں امام عالی مقام کے لئے قرآن خوانی کر رہاتھا ، کوئی سبیلیں لگا رہاتھا، کوئی عزاداری کر رہاتھا، کوئی سینہ زنی میں مصروف تھا، کوئی مجلس پڑھ رہاتھا ، کوئی سیکورٹی کے انتظامات سنبھالے ہوئے تھا اور کوئی جلسے جلوسوں کی رپورٹنگ کر رہاتھا۔

مسلمان تو مسلمان ،غیرمسلم بھی اس حزن و غم میں برابر کے شریک تھے، ایسے میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو عاشور کے دن بھی  ، انسانیت، شرافت اور  اخلاقی اقدار سے کٹ کر مسلسل جھوٹ بولنے میں مصروف رہے۔ یہ جھوٹ کئی طرح کا تھا مثلا کچھ لوگوں نے حجر اسود کے سامنے خون کے دھبوں کی ویڈیو بنا کر وائرل کی کہ یہ دیکھو خانہ کعبہ میں معجزہ ہوگیا ہے، کچھ نے مسجد نبوی کے گنبد پر سرخی کی ویڈیو وائرل کی کہ یہ لو جی ادھر بھی معجزہ ہوگیا ہے ،   اسی طرح کچھ لوگوں نے  ماتم اور عزاداری کے خلاف جھوٹی پوسٹیں بناکر شئیر کیں  تاکہ لوگوں کو عزاداری سے متنفر کیا جاسکے، حتی کہ خود سے اشعارگھڑ کر کہا کہ یہ علامہ اقبال کے اشعارہیں مثلا  اسی پوسٹ کو ہی لیجئے کہ جس میں “ہم زندہ جاوید کا ماتم نہیں کرتے” کو اقبال کا شعر کہا گیا ہے،  اسی طرح  سال ۲۰۱۳ کے عاشور کے دن جھوٹ اور مکاری کی انتہا کرتے ہوئے راولپنڈی میں ایک فرقے کے لوگوں نے عزاداری کے جلوس کو رکوانے کے لئے اپنے ہی مدرسے پر حملہ کر کے اسے آگ لگا دی تھی اور مدرسے کے اندر بے گناہ لوگوں کو قتل کردیاتھا۔

کتنے پست ہیں یہ لوگ جو عاشور کے دن بھی نواسہ رسولﷺ سے حق اور سچ سیکھنے کے بجائے جھوٹ اور مکاری کی تبلیغ کرتے ہیں جبکہ کتنے عظیم ہیں وہ  پولیس اور فوج کے جوان جو اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر اس روز پورے ملک کی حفاظت کرتے ہیں، اس کے علاوہ  قابلِ فخر ہیں وہ صحافی اور دانشور جوبے باکانہ  عاشور کے روز کی کوریج کرتے ہیں اورڈنکے کی چوٹ پر  حق و سچ کی تبلیغ کرتے ہیں۔

کل بظاہر عاشور کا سورج ڈھل گیا لیکن عاشور کا دن ہمارے لئے یہ پیغام چھوڑ گیا کہ  اگر آپ حق اور سچ پر کاربند ہیں تو آپ حسینی ہیں بصورت دیگر آپ کا حسینیت سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ کہہ کر ڈوب گیا آفتاب عاشورہ                                                                                                                                                          تا حشر رہے گی حسینؑ  کی روشنی باقی


افکار و نظریات: جھوٹ کے بیوپاری اور عاشور