وہ کون ہے!

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

بچہ ابھی آغوشِ مادر میں ہی ہوتا ہے،وہ ماں کا دودھ پی کر  تھوڑی دیر بعد سوجاتا ہے، لیکن کوئی ہے جو اس کے حقوق کے لئے جاگتا رہتا ہے، جو آج کے اس ظالم سماج میں بچوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتا ہے ، جو معاشرے میں یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آخر کیوں ایک گھر کا بچہ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتا ہے اور دوسرے گھر کا بچہ ننگے پاوں چلتا ہے۔

کچھ سالوں بعد بچہ سکول میں داخل ہوجاتا ہے لیکن کوئی ہے جو اس بچے کے لئے معیاری تعلیم کا مسئلہ اٹھاتا ہے،  جو سارے بچوں کے لئے یکساں نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتا ہے، پھر بچہ کالج میں داخل ہوجاتا ہے، محنت کے باوجود اسے میرٹ پر نوکری نہیں ملتی، بچہ رشوت دے کر نوکری حاصل کر لیتا ہے لیکن کوئی ہے جو میرٹ کے استحصال کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اور میرٹ کو پامال کرنے والوں کو للکارتا ہے۔

معاشرے میں عملی زندگی کا حصہ بننے کے بعد کل کے بچے اور آج کے نوجوان کو یقین ہوجاتا ہے کہ  اس ملک میں کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوسکتا لیکن کوئی ہے جو  رشوت کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اور رشوت خوروں کے سکینڈل سامنے لاتا ہے۔

یہ نوجوان چند سالوں کے اندر اس حقیقت کو درک کرتا ہے کہ ہماری اس دنیا میں رشوت ، سفارش اور دھونس کے بغیر پولیس بھی کسی کے کام نہیں آتی، لیکن کوئی ہے جو رشوت ، سفارش اور دھونس والوں کو بے نقاب کرتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے دھمکیاں دی جاتی ہیں، قتل کروایا جاتا ہے اور اس پر مقدمات قائم کئے جاتے ہیں۔

نسل در نسل کتنے ہی بچے اس دنیا میں جنم لیتے ہیں، پروان چڑھتے ہیں، تعلیم حاصل کرتے ہیں نوکریاں کرتے ہیں لیکن وہ اس سے بے خبر رہتے ہیں کہ کوئی ہر لمحے ان کے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہا ہے ، کوئی ان کے حقوق کے لئے دھمکیاں برداشت کر رہا ہے ، کوئی ان کی فلاح و بہبود کے لئے راتوں کو جاگ رہا ہے۔۔۔

جی ہاں ! وہ مسلسل جاگنے والا، جدوجہد کرنے والا ، دھمکیاں اور الزامات برداشت کرنے والا،ظالموں کو للکارنے والا، رشوت خوروں کو بے نقاب کرنے والا، منہ زور سیاستدانوں اور اداروں سے ٹکر لینے والا کوئی اور نہیں اس ملک کا  ہر دیانتدار ، باشعور اور مخلص صحافی ہے۔

دنیا میں بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ صحافت ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک مشن ہے اور قلم لکھنے کا آلہ نہیں بلکہ انسانیت کی آبرو ہے۔ 


افکار و نظریات: اُسے صحافی کہتے ہیں