✏ ​تحریر . کامران کورائی​

​پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچنا کوئی نئی بات نہیں ۔ الیکشن کا وقت نزدیک آتے ہی حالات کجھ یوں بدل جاتے ہیں کہ سب حیران  رہ جاتے ہیں اور منفرد طرح کی باتیں سنائے دینی لگتی ہیں ، پاکستان کے 70 سالہ دور میں ملک کو سیاست دانوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا کہ ان گزشتہ 11 سالہ دور میں ۔

 ان ۱۱ سالوں میں دیگر علاقوں کی طرح سندھ میں بھی  وڈیروں  کے مخالفین کو روزگار کا لالچ دیکر اپنے پیچھے لگانا حکمرانوں کا وطیرہ رہا ہے۔

​خیر یہ تو وہ بات ہے جو سب جانتے ہیں مگر اب اک بات اور کہی جا رہی ہے کہ اچانک سے پاناما  کیس سے نواز شریف کی شرافت کو کورٹ کے دہلیز پر قربان کردیا گیا  اور نواز شریف کے اقتدار کی  قربانی کو عمران خان کا صدقہ سمجھا گیا۔

 پھر یہ بھی سننے میں آیا کہ ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف جو کہ قومی سلامتی کہ سربراہ چنے گئے تھے انہوں نے اس اتنی بڑے اعزازی عہدے سے کم وقت میں استعفیٰ دیدیا ۔

 ​پھر سندھ کی مہا دیو ایر مہا رانی یعنی وڈیرے آصف زرداری اور وڈیری فریال ٹالپور کا قصہ شروع ہوتا ہے۔

 ​لیاری گینگ کے گرفتار انٹرنیشنل دہشتگرد عزیر بلوچ کے بیانات نے آصف زرداری کی بولتی بند کردی ہے۔

​اس پورے کھیل کے دوراں پرویز مشرف کے بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں ۔

​اس وقت  ایسا لگ رہا ہے  کہ  پاک سرزمین سے مرجھائی ہوئی فصل کو اکھاڑ کر نئی فصل بوئی جانے والی ہے ،جس کے بعد ہر طرف سرسبز کھیت لہلہاتے ہونگے۔

​یعنی کوئی تو ہے جو نظام ئے سیاست  کوبدل رہا ہے اور کوئی تو ہے جو اب 70 سالہ ملک کے تقدیر کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے​۔

​بہرحال اب پاکستان کا بچہ بچہ یہ چاہتا ہے کہ پاکستان اقبال اور قائداعظم کے خوابوں کی تعبیر بنے اور اس میں سب کو تعلیم صحت اور روزگار کے مواقع فراہم ہوں۔

 ​اگر ایسا ہوجائے تو گویا ایک طویل کالی رات کے بعد عوام کو سویرا نصیب ہوجائے گا۔


افکار و نظریات: ​کوئے تو ہی جو نظام سیاست بدل رہا ہے​