اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات تحریر : محمد حسن جمالی دینِ اسلام ، انسان پر ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد مسلمانوں پر دوطرح کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، انفرادی ذمہ داریاں اور اجتماعی ذمہ داریاں۔ جب تک انسان ان دونوں ذمہ داریوں کو بخوبی انجام نہیں دیتا وہ حقیقی مسلمان نہیں کہلا سکتا، اپنی اہمیت کے اعتبار سے ساری ذمہ داریاں بھی یکساں نہیں ہیں، کچھ ذمہ داریاں اہم ہیں تو کچھ مہم، ان اہم ذمہ داریوں میں سے ایک مظلوم کا دفاع کرنا بھی ہے- اگر انسانی معاشرے میں کسی انسان پر ظلم اور ستم ہورہا ہو، ظلم کرنے والا چاہے کوئی بھی ہو ، ظالم کے خلاف اور مظلوم انسان کے دفاع میں آواز بلند کرنا ہر مسلمان پرواجب ہے ۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ مظلوم مسلمان ہو یا غیر مسلم، اگر وہ مسلمان ہو تو پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس فقہ،مسلک یا مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے، وہ خواہ شیعہ ہو یاسنی بریلوی ہو یا ... نیز مظلوم کا دفاع کرنا ضروری ہونے میں اسلام جغرافیائی، لسانی، رنگ، حسب ونسب کی تفریق اور امتیازات کا بھی قائل نہیں ہے ،بلکہ اسلام کی عالی تعلیمات کے مطابق مظلوم کا ہر حال میں دفاع کرنا ضروری ہے خواہ مظلوم واقع ہونے والا انسان مشرق کا رہنے والا ہو یا مغرب کا ۔ اس سلسلے میں بانی اسلام حضرت محمد (ص) کے اس ارشاد گرامی پر توجہ دینا ضروری ہے کہ آنحضرت( ص) نے فرمایا : جو مسلمانوں کے امور کے بارے میں اہتمام کئے بغیر صبح کرے وہ مسلمان نہیں - ہمارا ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا - بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح (رح) اور ان کے فداکار و مخلص ہمفکر افراد نے ہندووں اور انگریزوں کے ریاستی ظلم وجبر سے مسلمانوں کو نکال کر اسلامی مملکت میں اسلام کے زرین اصول اور قوانین کے زیر سایہ مسلمانوں کو سکھ کی زندگی فراہم کرنے کے لئے شب وروز محنت اور کوشش کرکے پاکستان کو وجود بخشا – مسلمانوں کو ہندووں اور انگریزوں کی غلامی سے نجات دلائی، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی رحلت کے بعد اقتدار پر آنے والے حکمرانوں نے پاکستانی مسلمانوں کو دوبارہ غلامانہ اور ظلم وستم کی تاریک دنیا میں بے بس ہوکر زندگی گزارنے پر مجبور کردیا ہے، زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں حکمران ظالم تر اور عوام مظلوم سے مظلوم تر ہوتے جارہے ہیں، روز بروز ہمارے ملک میں انصاف ناپید اور ظلم وناانصافی عام ہو رہی ہے،آئے روز ہمارے ملک میں طبقاتی تفریق کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے، امیر امیرتر اور غریب لوگ غریب تر ہوتے جارہے ہیں، تمام شعبہ ہائے زندگی میں انصاف ناپید دکهائی دیتا ہے ، تمام اداروں میں قابلیت کا معیار دفن ہوکر رشوت اور سفارش ہی اصلی معیار کے طور پر متعارف ہیں - جس کا افسوسناک نتیجہ نکل رہا ہے- مثال کے طور پر تعلیمی میدان میں جو ذہین وباصلاحیت طلباء اپنی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی چھوڑ دیتے ہیں ،چونکہ انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ، وہ یہی سوچتے ہیں کہ پڑھ کر کیا کرنا ہے، فارغ التحصیل ہونے کے بعد کہیں ملازمت تو ملنی نہیں کیونکہ ہمارے ہاں اب ملازمت اور روزگار ملنے کا معیار قابلیت اور باصلاحیت ہونا نہیں رہا، اور رشوت کے پیسے ہیں نہیں یا دین اجازت نہیں دیتا، اسی طرح بڑی سفارش بھی ہمارے پاس نہیں , یوں وہ اپنی آئندہ کی زندگی سے مایوس ہوکر تعلیم کو خیرباد کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کیا یہ ذہین طلبامظلوم نہیں؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں ناانصافی کی حکمرانی کا سبب کیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آج وطن عزیز میں جگہ جگہ ناانصافی کا بول بالا ہونے کی اساسی وجہ سرکاری اداروں اور پوسٹوں پر ناہل اور کرپٹ افراد کا وجود ہے۔ بدون تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں اعلی حکام سے لے کر نیچے چھوٹے موٹے ملازمین تک اکثریت تعلیم و تجربے کے بجائے رشوت اور سفارش کے بل بوتے پر اداروں میں گھسی ہوئی ہے، ایسے گھس بیٹھیوں سے معاشرتی عدل وانصاف کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی البتہ اس کا مطلب یہ بھی ہرگز نہیں کہ ہمیں اس ظلم عظیم پر خاموشی کے بت بنے رہنا چاہیے بلکہ باشعور اور پڑھے لکھے طبقوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو اس حوالے سے شعور دیں ، اداروں میں بھرتی کے لئے بنائے ہوئے اس ظلم پر مبنی غلط معیار کو ختم کرکے ہر جگہ قابلیت کو معیار بنانے کے لئے آواز بلند کرنے کی ترغیب دلائیں- یقین کیجئے جس دن سرکاری اداروں میں قابلیت اور صلاحیت کے معیار پر افراد کو پہنچانے میں عوام کامیاب ہوئے ہماری قوم کی تقدیر سنور جائے گی، ظلم کا خاتمہ ہوگا، لوگوں کو انصاف ملے گا اور ہماری عوام کو عزت وسکون کی زندگی میسر آئے گی- اگر آج وطن عزیز پاکستان داخلی اور خارجی دشمنوں کےنرغے میں پھنسا ہوا ہے تو یہ سب ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسوں کا نتیجہ ہے اور غلط پالیسیاں مرتب کرنے کا سبب ان کی جہالت ہے – آج ہم دیکھتے ہیں کہ ملک پر چند اشرافیہ خاندان کا قبضہ ہے، جو باری باری آتے ہیں، ملک کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں ،عیش ونوش کرتے ہیں، بینک بیلنس بناتے ہیں پھر دوسرا آتا ہے وہ بھی پہلے والے کی سیرت پر چلتے ہے، سب اپنی اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ مگر بے چارے عوام ان چند اشرافیہ خاندانوں کی مدح سرائی کرنے، ان کے جلسے جلوسوں میں شرکت کرکے رونق بخشنے اور انہیں ووٹ دینے کے بعداپنی غربت سے بھرپور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں – اس کے عوض میں ہمارے حکمرانوں نے پاکستانی قوم کو کیا دیا؟ دہشتگردی، فلاکت وغربت، عدم مساوات و فرقہ واریت ، نفاق، عریانیت، فحاشی،فسادات، بے روزگاری ،خودکشی، طالبان، داعش القائدہ و... آج ہمارے حکمرانوں کی بے بصیرتی اور ان کی غلط منصوبہ بندیوں کی وجہ سے ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے- عوام، امن و امان کو ترس رہے ہیں – غریب لوگ دووقت کی روٹی کے لئے فکر مند رہتے ہیں- نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب پاکستان کے اندر رہتے ہوئے پاکستان کے غریب طبقوں کو پاکستانی فضا میں چلنے پھرنے سے بھی ڈر لگتا ہے – شہروں میں آزادانہ رفت وآمد سےبھی خوف محسوس ہوتا ہے، کوئی پتہ نہیں کہ کس کو کب طالبان یا حکومتی ایجنسیاں اغوا کرلیں۔ سرکاری ایجنسیوں نے بھی دہشت گردوں کی طرح دہشت گردی شروع کر دی ہے، آج پاکستان کے بہت سارے غریب والدین اپنے بیٹوں کے اچانک لاپتہ ہونے پر مغموم ہیں- والدین کی فریاد کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہورہی،اب کچھ مخلص وزندہ ضمیر افراد نے مظلوم والدین کی مدد کے لئے جیلیں بھرو تحریک کا آغازکیا ہے، اس سلسلے میں کراچی کے ایک شجاع عالم دین علامہ حسن ظفر صاحب احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کو اپنی گرفتاری دے چکے ہیں – انہوں نے میدان میں آکر حکومت وقت سے یہ مطالبہ کیا ہےکہ حکومت لاپتہ غریبوں کو بازیاب کرائے، انہیں غائب کرکے رکھنے کے بجائے عدالت میں پیش کرے، انہیں قانون اور انصاف کے دائرے میں لاکر قانون کے مطابق ان کے بارے میں فیصلہ کرے، بصورت دیگر خود ہمیں بھی گرفتار کرکے ان مظلوم و لاپتہ افراد کے پاس لے جایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم میں مزید غریب والدین کی فریاد سننے کی سکت نہیں رہی، ہماری قوت برداشت جواب دے چکی ہے- چنانچہ مولانا حسن ظفر نے سب سے پہلے دن دہاڑے کھلے عام اپنی گرفتاری پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ جیل بھرو تحریک فقط نعرہ بازی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں مظلوموں کے دفاع کے لئے اٹھایا جانے والا قدم ہے۔ ان کے ساتھ اور ان کے بعد بھی بہت سوں نے اپنی گرفتاری پیش کردی ہے اور یہ سلسلہ بڑھتا جارہا ہے ، لیکن افسوس؛ ہم پاکستانی مسلمانوں کی یہ کمزوری شروع سے چلتی آرہی ہے کہ ملک میں جب بھی اس طرح عوام کے نفع میں غریب اور کمزور طبقوں کے دفاع میں کوئی تحریک یا مہم چلتی ہے توہم اس کے اہداف اور مقاصد کو دیکھ کر ساتھ دینے اور نہ دینے کا فیصلہ کرنے کے بجائے ہم اسے فرقہ واریت کا رنگ چڑھا کر متنازعہ بنانے کی کوشیش کرتے ہیں۔ ہماری نگاہ سب سے پہلے اس تحریک کو وجود میں لانے والے افراد کی طرف ہوتی ہے ہم دیکھتے ہیں ان افراد کا تعلق کس مسلک سے ہے اس کے بعد ہی اس تحریک کا ساتھ دینے اور نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں- یعنی انہیں اگر اپنا ہم مسلک پائیں تو ساتھ دیتے ہیں اگر وہ ہم مکتب وہم مذہب نہ ہوں تو خواہ ان کا اقدام حق اور حقیقت پرمبنی ہی کیوں نہ ہو ان کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے – ہماری اسی غلط روش اور سوچ کی وجہ سے ہم مختلف مظالم کے شکار ہوتے رہتے ہیں، جبکہ عقل سلیم اور دین کا حکم یہ ہے کہ حق اور باطل کا معیار افراد نہیں تم افراد کو دیکھنے کے بجائے یہ دیکھو کہ ان کا یہ اقدام اسلامی اور قرآنی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں اگر ہے تو ان کا ساتھ دو نہ ہونے کی صورت میں ساتھ نہ دو – پاکستان کی زمین پر حالیہ جیل بهرو تحریک کے نام پر جو مہم چل رہی ہے یہ کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ انسانی آزادی کی بحالی اور بے گناہ اسیروں کی نجات اور عرصہ دراز سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اٹھی ہوئی ایک تحریک ہے اور لاپتہ افراد صرف ایک خاص فرقے یا گروہ سے تعلق رکھنے والے پانچ دس نفر نہیں بلکہ مختلف مکاتب فکر کے بہت سارے افراد لاپتہ ہیں- پس ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جس لباس میں بھی ہو، جس مکتب سے تعلق رکھتا ہو اور جس شعبہ زندگی سے منسلک ہو وہ جیل بھرو تحریک کی حمایت کرے ،مظلوم اسیروں کی بازیابی کے لئے اس تحریک کا ساتھ دے- لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کرے، اس لیے کہ «من اصبح و لایهتم بامور المسلمین فلیس بمسلم»، جو صبح کرے اس حال میں کہ مسلمانوں کے امور کے سلسلے میں کوئی اہتمام نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ جیل بھرو تحریک والوں کے ساتھ تعاون کریں چونکہ اسلام یہی ہے کہ «کونا للمظلوم عونا و للظالم خصما» مظلوم کے لیے مددگار اورظالم کے لیے دشمن بنو۔ بے شک جیل بھرو تحریک مظلوموں کے دفاع میں اٹھی ہوئی تحریک ہے ، ہم سب کو مل کر اس تحریک کو کامیاب بنانا ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: جیلیں بھرو تحریک۔۔۔ ہماری بھی کچھ ذمہ داری بنتی ہے
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں