وفاقی حکومت کے نام ایک طالب علم کا کھلا خط

مکرمی السلامُ علیکم!

میں ایک طالب علم ہوں، کسی وزیر، مشیر یا وفاقی حکومت کو اس لئے خط نہیں لکھ رہا کہ مجھے ایڈمیشن فیس چاہیے یا کتابوں کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے۔ کہنے کو تو میں ایک چھوٹا سا طالب علم ہوں لیکن سوچنے کو میرے پاس بھی ایک دماغ اور محسوس کرنے کو ایک دل موجود ہے۔

مجھے عرصہ دراز سے یہ محسوس ہورہا ہے کہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ عملا حکومت پاکستان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے، یہاں پر قبائلی علاقوں کی طرح مختلف قبائل، گینگز اور مافیا کے ٹولے حکومت کرتے ہیں۔ افسوس صد افسوس یہ  ہے کہ یہ  سب کچھ سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔

آئے روز کشت و خون اپنی جگہ لیکن عوام کی سماجی زندگی بھی دوبھر ہو چکی ہے۔ گزشتہ دنوں مجھے کوئٹہ سے تفتان سفر کرنے کا اتفاق پیش آیا،  کوئٹہ سے تفتان کا کرایہ ایک ہزارو روپے ہے جبکہ سدا بہار ٹرانسپورٹ والے طالب علموں کے ساتھ رعایت کرنے کے بجائے طالب علموں سے  ساڑھے چار ہزار روپے وصول کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم سے راستے میں پولیس اور ایف سی والے بھتہ لیتے ہیں۔

اسی طرح ولی ٹرانسپورٹ والے دو ہزار وصول کرتےہیں اور ان کا بھی یہ دعوی ہے کہ سرکاری کارندوں کو بھتہ دینا پڑتا ہے۔

جس ملک کے وزیراعظم کو کرپشن کے الزام میں برطرف کیا جاتا ہے اسی ملک کے ایک صوبے میں کرپشن کے بے تاج بادشاہ حکومت کر رہے ہیں۔

اگر ٹرانسپورٹرز کی اس لوٹ کھسوٹ  سے خفیہ ایجنسیاں لا علم ہیں تو یہ ان کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اگر انہیں اس کا پتہ ہے تو پھر ٹرانسپورٹرز سچ کہتے ہیں کہ سرکاری اہلکار ان سے بھتہ لیتے ہیں۔

میری  وفاقی حکومت سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی کوئٹہ میں حکومت اپنی رٹ قائم کرے اور کرپٹ عناصر خصوصا ٹرانسپورٹرز اور بھتہ خور سرکاری اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

عثمان سعید 


افکار و نظریات: وفاقی حکومت کے نام ایک طالب علم کا کھلا خط