کشمیر اور قادیانی

تقسیم ہند کے وقت باﺅنڈری کمیشن کے سامنے قادیانیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دے کر ہندوستان سے الحاق پسند کیا ضلع گورد اسپوراسی وجہ سے ہندوستان میں ضم ہو گیا۔

مگر مسلمانوں میں ریشہ دوانیاں اور سازشیں جاری رکھنے کیلئے قادیانیوں نے پاکستان کا رخ کیا اور دریائے چناب کے کنارے چنیوٹ کے قریب ”ربوہ“ کو مرکز بنایا۔

پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ ظفر اللہ قادیانی تھے انہوں نے اس فتنہ کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروایا اور پھر 1970ئ کے انتخابات میں چند نشستوں پر قادیانی امیدوار منتخب ہو گئے اور اس کامیابی نے انہیں دیوانہ کر دیا اور وہ اقتدار پر قبضہ کے طریقے سوچنے لگے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 07ستمبر 1974ئ کا دن تاریخی اہمیت کا حامل روشن ترین دن ہے کہ اس دن وطن عزیز کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، کرہ ارض پر اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے واحد ملک پاکستان کی اسمبلی کے تمام ممبران نے متفقہ طور پر منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو ملت اسلامیہ سے خارج کر کے غیر مسلم اقلیت کی فہرست میں شامل کرنے کیلئے آئینی ترمیم کی اور مسلمانوں کے نوے سالہ دیرینہ مطالبہ کو کامیابی حاصل ہوئی جس کے لیے شمع رسالت کے پروانوں نے بیشمار قربانیاں دیں۔

 سرور کائنات حضرت محمد مصطفےٰ کی ختم نبوت کا اعجازتھا کہ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں نے متحد ہو کر ایک ہی نعرہ بلند کیا کہ مرزائیت کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔

 یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کیلئے سب سے پہلی آواز آزاد کشمیر سے بلند ہوئی۔

 عظیم صوفی بزرگ حضرت پیر صادق حسین قریشی گلہار شریف نے آزاد کشمیر میں مرزائیوں کے ہیڈکوارٹر کوٹلی میں ڈیرہ لگا کر خاموش و منظم و تبلیغ سے راہ حق سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو عقیدہ ختم نبوت و اسلام کی اصل روح سے آگاہ کیا جبکہ حکومتی سطح پر اس وقت کے صدرا ٓزاد کشمیر سردار عبدالقیوم کا مجاہدانہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/09-Sep-2017/659679

 


افکار و نظریات: کشمیر اور قادیانی