✏تحریر ۔ کامران کورائی

سندھ  میں کس چیز کی کمی ہے، تمام  قدرتی وسائل سے مالا مال  ہونے کے باوجود، یہاں غربت نے کیوں ڈیرے ڈال رکھے ہیں،

تعلیمی پسماندگی، سیاسی عقب ماندگی، بیماریوں اور بے روزگاری کا دوردورہ ہے، یہاں پر سیاستدان ووٹ لینے کے بعد حکمران اور عوام غلام بن جاتے ہیں، اس دھرتی پر نسل در نسل غلام ابن غلام پیدا ہو رہے ہیں۔

سندھ کے جوانوں کے لئے سندھ حکومت کے پاس کوئی پروگرام اور منصوبہ نہیں، لوگوں کے بچے یا تو ناخواندہ رہ جاتے ہیں اور یا پھر پڑھ لکھ کر بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کرتے ہیں۔

تیل، کوئلے اور گیس کے ذخائر سے مالامال یہ صوبہ صحت اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے، انسانی حقوق تو دور کی بات ہے۔

اس صوبے کی حالت کو بدلنے کے لئے ضروری ہے کہ جوان اپنی محنت اور تعلیم و تربیت کے ساتھ سیاست سمیت تمام شعبوں میں حصہ لیں اور جی ایم سید، ذوالفقار علی بھٹو اور مرتضی بھٹو کے خلا کو پر کریں۔

غلامی، بدحالی اور پسماندگی کی زنجیروں کو بیدار اور تعلیم یافتہ جوان ہی توڑ سکتے ہیں۔نوجوان طبقے سے ہی سندھ میں تبدیلی کی امید رکھی جا سکتی ہے۔


افکار و نظریات: سندھ میں تبدیلی کی امید