*✍جمالی*

 انکل اختر کے دو بیٹے تھے- دونوں ذہین تھے -ایک  میڈیکل سائنس کا طالب علم تھا دوسرا ماس کمیونیکیشن کا ، دیگر والدین کی طرح  انکل بھی اپنے بچوں کو نصیحت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، ایک دن انہوں نے صحافت سے وابستہ بیٹے سے کہا، میرے لال صحافت کا شعبہ انتہائی حساس شعبہ ہے اس میں قانون کا احترام کرنا نہایت ضروری ہے، صداقت تمہاری پہچان ہونی چاہئے اور ہمیشہ  استدلال کے ساتھ منطقی بات کرنے کا نام صحافت ہے۔-

 ایک ہفتے کے بعد صحافی بیٹے نے چند اخبار لاکر  والد صاحب کے سامنے میز پر پھیلا دئیے ، لیجئے ابوجان ! اب آپ خود دیکھئے جس ملک میں لوگوں کے بچوں کو سرکار ادارے  لاپتہ کر دیتے ہوں بغیر کسی قانونی کارروائی کے ، کیا اس ملک کے عام لوگوں سے قانون کے احترام کی امید کی جاسکتی ہے!؟

انکل نے کچھ دیر سوچا اور پھر بولے،  بیٹا قانون کا احترام اور منطقی راہ وہ لوگ اپناتے ہیں جو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ  تربیت یافتہ اور مہذب  بھی ہوں ، بد قسمتی سے ہم لوگ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ تو بناتے ہیں لیکن مہذب نہیں بناتے اور پھر ہمارے ہی یہ غیر مہذب بچے ملک کی اہم پوسٹوں پر بیٹھ کر قانون سے کھیلتے ہیں۔

میرے بیٹے !تعلیم وتربیت آسمان سعادت کی طرف پرواز کرنے کے لئے انسان کے دوپر ہیں - " پاکستانی قوم کے مسائل کا راہِ حل یہ ہے کہ  جوانوں کو تعلیم  کے ساتھ ساتھ مہذب بھی بنائیں اور انہیں قانون کا احترام بھی سکھائیں۔


افکار و نظریات: بچے بھی اپنے ہیں اور قوم بھی اپنی