ڈاکٹر حفیظ ارحمان

سن انیس سو اسّی میں خیبر میڈیکل کالج کی یونین میں بطور لیئٹرئری سیکریٹری دو ھزار طلبا میں پیپلز سسٹوٹنٹ فیڈریشن پینل کی جانب سے انتخاب کے بعد جب ھم منتخب ھوے اور پھر “سینا “ میگزین کی بطور ایڈیٹر ان چیف خدمت بھی انجام دی تو ھمارے یونین کے صدر ایک مرتبہ ضیاالحق کے دور کے کے پی کے گورنر فضل حق سے ملاقات کے لیے لے گے ۔

یہ ملاقات گورنر ھاوس میں ھوی اور ھمارے قابل احترام پرنسپل جناب پروفیسر رضا خان بھی ھمارے ھمراہ تھے ،گورنر فضل حق کا رویہ پرنسپل صاحب کے ساتھ کچھ ھتک آمیز تھا اور وہ یونین صدر کو بے جا اہمیت دے رہے تھے ،شاہد سٹوڈنٹ پالیٹیکس کو استعمال کرنا چاہتے تھے ۔

ھمارے جرنیلوں کا المیہ رہا ھے کے یہ فوجی کم اور سیاستدان زیادہ ھوتے ہیں بلکے کچھ بہت ھی زیادہ ھوتے ہیں ۔

کالج یونین کی جانب سے اکثر دورے رہتے ،ایک مرتبہ یونین صدر کو کسی کام سے ایک فوجی مییس کےاحاطے میں رکنا پڑا ،ھم طالبعلم بس میں بھیٹے صدر صاحب کا انتظار کر رہے تھے کے ھماری بس کے قریب ھی ایک نوجوان فوجی آفیسر کسی خاتون کے ھمراہ کھڑے تھے کے اس خاتون نے اس آفیسر سے پوچھا کے یہ بس میں کون لوگ ہیں تو آفیسر نے جواب دیا کے یہ “سٹوپڈ  سویلین “ہیں ۔

وہ آفیسر یقینن اب تک ریٹایرڈ ھو کر واپس سٹوپڈ  سویلین میں لوٹ آیا ھو گا لیکن جب تک وہ وردی میں رہا وہ اپنے لوگوں کو کے جہاں سے اس نے جنم لیا ،انھیں سٹوپڈ  ھی سمجتھا رہا ۔

یہ ایک مائینڈ سیٹ ھے ،اور یہ مائینڈ سیٹ گورے فوجیوں نے کالے فوجیوں  کو دیا ھے لیکن کالے فوجی بھول گیے ہیں کے گورے ھمارے آقا تھے اور ھم  انکے غلام ۔

شاہد یہ ھی نقطہ سمجھانا ھو گا ۔

اکیس اکتوبر ،سترہ


افکار و نظریات: سٹوپڈ سیویلین