امریکن میوزیم

(ڈاکٹر حفیظ ارحمان ۔

انیس سو بانوے میں جب امریکہ جانے کا اتفاق ہوا تو واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل میوزیم آف ہسٹری جانے کا بھی موقع ملا ۔اس میوزیم میں ایک مخصوص ہال ہے ،اس کی طوالت تقریبا ڈیڑھ سو فٹ ہو گی اور چوڑائی چالیس سے پچاس فٹ ہو گی ۔

اس ہال میں کسی قسم کی کو ئی نشست نہیں ،ہال کے مین دروازے سے داخل ہوں دائیں جانب موڑنا پڑتا ہے چونکہ لو ہے کی پائپ کی باڑھ لگی ہے  جو دیوار سے ڈہائی سے تین فٹ کے فاصلے پہ ہو گی ،اس طرح ایک راہداری سی بنتی ہے اور آپ ہال میں ادہر ادہر حر کت نہیں کر سکتے ۔

اس پایپ بند راہداری میں جب اپ آگے بڑھتے ہیں تو ہال کے اختتام پہ یہ  راستہ بائیں ہاتھ کو مڑتا ہے تو آپ کا سامنا ایک سیکورٹی گارڈ سے ہوتا ہے اور سیکورٹی گارڈ کو کراس کرتے ہوے تقریبا تین فٹ کا ایک سٹینڈ ہے جس پہ شاہد تین بائی دو فٹ کی شیشہ بند شو کیس ہے۔

جب آپ کی نظر اس شیشہ بند شو کیس سے گزرتی ہے تو ایک ہاتھ سے لکھی ہوی دستاویز دکہائی دیتی ہے  اور دستاویز کے آخر میں کسی کےدستخط دکھائی دیتے ہیں ،جب اس شو کیس کو کراس کریں تو ایک اور گارڈ کھڑا دکھای دیتا ہے یعنی دو گارڈ وں کے درمیان ایک شو کیس میں ایک دستاویز ہے ،دوسرے گارڈ کو کراس کرتے ہو اسی پایپ والی راہداری سے ہوتے ہوے دیوار کے ساتھ چلتے ہوے میں دروازے سے نکل جاتے ہیں اور ہال کے وسط میں کوئی نہیں جا پاتا ۔

اس سارے ہال میں دو گارڈ اور ان کے درمیان ایک دستاویز اور کچھ بہی نہیں

یہ امریکہ کا آئین ہے ۔


افکار و نظریات: امریکن میوزیم