ڈاکٹر حفیظ ارحمان

سیاسی جماعتیں اپنے ہی بنائے ہوے آئین کی کبھی پاسداری نہیں کرتیں ،سیاسی ورکر کی تربیت ہی اس طرح سے کی جاتی ہے کہ جماعت کو شخصیات کے اردگرد رکھا جاتا ہے اور شخصیات کا حکم ہی آئین ہے ۔آج ابھی کسی بھی سیاسی ورکر سے پوچھا جاۓ کہ پارٹی  کا آئین پڑھا ہے تو جواب نفی  میں ہو گا ۔

اکثر اوقات یہ آئین معطل رہتے ہیں اور آئین  کو معطل رکھنے کی شق بھی آئین میں اسی لیے رکھی جاتی ہے کہ  پارٹی رہنماؤں کو کلی اختیار دے دیا جاۓ ۔

پاکستان تحریک انصاف کا آئین آج بھی معطل ہے اور قومی سطح کی جماعت بے آئین صرف شخصیات کے حکم پہ چل رہی ہے ۔

آئین کی بے توقیری اس لیے کی جاتی ہے  چونکہ  سیاسی اخلاقیات کا فقدان ہے ۔جن معاشروں میں انسانی قدروں کی اہمیت نہیں ہوتی وہاں سیاسی اخلاقیات پروان نہیں چڑھتیں۔

ہمارے سیاست دان سیاسی و  اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔اس سیاسی و  اخلاقی پس ماندگی کے شکار صرف سیاست دان ہی نہیں ،زندگی کے شعبے سے وابسطہ تقریبا سب ادارے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کے سیاست میں اصول نام کے کسی وجود کا کوئی ذکر نہیں ۔بس ایک ہی اصول ہے کہ مخالفین کی ہر بات کو غلط اور اپنی ہر بات کو صحیح ماننا ہے ۔

افسوس ناک پہلو یہ ہے کے میڈیا اس بے اصولی اورسیاسی و  اخلاقی بے راہروی میں پیش پیش ہے ۔

یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ اگر سیاست دان اور سیاسی جماعتں سیاسی اخلاقی پسماندگی اور آئین کی بے توقیری کی ذمہ دار ہیں تو سیاسی جہالت ،تربیت اور تعلیم کی کمی ہے لیکن فوج اور عدلیہ کی آئین کے حوالے سے آئین کی بے توقیری کی وجہ کا پتا نہیں چلتا ۔

فوج اور عدلیہ ہمیشہ اپنے اندرونی معاملات ضابطوں اور اصولوں کے تحت گزارتے ہیں لیکن جب بات آئین کی  آتی ہے ،جس میں عوام کا تحفظ اور فائدہ ہے تو سب کو اصول  اورقاعدے بھول جاتے ہیں ۔یہ ہی پاکستان کی بد قسمتی ہے ۔

 


افکار و نظریات: پاسداری آئین