نذر حافی

ہمارے ہاں آنکھیں ، کان، زبان، ہاتھ پاوں، تعلیم ڈگریاں اور نام و شہرت سب کچھ ہے، لیکن اس کے باوجود ہم لوگ  ٹیڑھی دیوار کے اوپر اینٹیں رکھتے جا رہے ہیں،  ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ سماجی  دیوار اگر آسمان تک بھی اونچی ہو جائے تو  پھر بھی ٹیڑھی ہی رہے گی چونکہ نیچے بنیاد میں ایک اینٹ ٹیڑھی لگی ہوئی ہے۔

ہم لوگ پوری دیوار ٹیڑھی بنا دیں گے لیکن  بنیاد میں لگی اس ایک ٹیڑھی اینٹ کو ٹھیک نہیں کریں گے چونکہ وہ ہمارے بزرگوں ، اجداد اور بڑوں کی رکھی ہوئی اینٹ ہے۔ اب جو بھی ہو جائے اُسے سیدھا نہیں کیا جائے گا۔

جہاں پر ٹیڑھی اینٹ کے ٹیڑھے پن کو دیکھتے ہوئے بھی سیدھا نہ کیا جائے وہاں دیوار سیدھی نہیں ہو سکتی۔ اگر  معاشرتی دیوار کو سیدھا کرنا ہے، ظلم ، نا انصافی ، رشوت اور دھونس کا خاتمہ چاہتے ہیں تو  پہلے اس ٹیڑھی اینٹ کو سیدھا کیجئے جو ہماری تعلیم، دل ، دماغ یا عقیدے کی بنیادوں میں رکھی گئی ہے۔

اجمالیہ۔۔۔


افکار و نظریات: ٹیڑھی اینٹ