نذر حافی

ہم دونوں سے ڈرتے تھے، ہمارے ڈر کا تعلق روشنی یا تاریکی، دن یارات اور بارش یا دھوپ سے نہیں تھا، ہمیں ڈرانے کے لئے کسی لمبی چوڑی کہانی یا افسانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی تھی، بس اتنا کہہ دینا ہی کافی تھا کہ  “ جِن”   کو یا  استاد صاحب کو پتہ چل جائے گا۔

استادوں نے ہمیں انسان بنانے کے بجائے بزدل بنایا ، اور کتابیں سمجھانے کے بجائے خوف ، ڈر ،مار پیٹ اور ٹارچر کے استعارے سمجھائے۔جس سوسائٹی میں استاد اور جن کا خوف ایک جیسا ہو وہاں  سکھائے جانے والا علم کتنا خطرناک  ہوگا اس کا اندازہ اُن ڈاکٹروں سے کیجئے جو لوگوں کے گردے نکال کر بیچ دیتے ہیں۔

کسی بھی قوم کے استاد ہی معمار، استاد ہی ذمہ دار اور استاد ہی معیار ہوتے ہیں۔ اگر آج ہمارے ہاں ہر طرف بے حسی، تشدد، رشوت، عدمِ برداشت اور لوٹ کھسوٹ کا دور دورہ ہے تو ایک نظر ہمیں اپنے ہاں پائے جانے والے اساتذہ کے عمل و کردار کو بھی دیکھنا چاہیے۔

کسی نے کہا تھا کہ میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا تھا اور میرے استاد نے مجھے زمین سے آسمان تک پہنچا دیا ، جی ہاں ! اگر استاد باشعور،با عمل  اور با کردار ہو تو وہ انسان کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیتا ہے اور اگر استاد بے شعور، بے عمل اور بے کردار ہوتو وہ انسان کی صلاحیتوں کو  زمین میں دفن کر دیتا ہے۔

بس  اپنے بچوں کو کسی سکول یا مدرسے میں داخل کراتے ہوئے اتنا خیال ضرور رکھیں کہ کہیں کوئی نگینہ خاک میں دفن نہ ہو جائے۔

اجمالیہ۔۔۔


افکار و نظریات: نگینے خاک میں