نذر حافی

میں اس ساری فیملی کو قریب سے جانتا ہوں، وہ بچوں کی تربیت میں مشہور تھے، پانچ چھ سال کی عمر سے ہی بچوں کو نماز شب کے وقت جگا دیتے تھے، بچوں کے لئے ضروری تھا کہ قبل از اذان ورزش کریں، غسل کریں، نماز شب پڑھیں، پھر ازان کے وقت نماز صبح کے لئے محلے کی مسجد میں حاضر ہوں، نماز صبح کے بعد مسجد میں مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھیں ، پھر بھاگتے ہوئے گھر آئیں، کھڑے کھڑے ناشتہ کریں اور سکول چلے جائیں، سکول سے واپسی پر ماں باپ ان کے منتظر ہوتے تھے، بچوں کو کھانا کھلاتے، نماز پڑھاتے ، پھر ہوم ورک رواتے ، اتنے میں  شام ہو جاتی ، پھر نماز مغرب و عشا پڑھی جاتی جس کے بعد ترجمے کے ساتھ قرآن مجید کے ایک صفحے کی تلاوت کی جاتی  اور پھر رات کا کھانا کھا کر  سب سوجاتے چونکہ تھوڑی دیر بعد جاگنا ہوتا تھا۔

خیرسے آج اس فیملی کے سارے بچے بے نمازی ہیں، ماں باپ کو  دن رات جوتے مارتے ہیں،طبیعتوں میں چڑا چڑاپن اور مزاج میں کرختگی اور غصہ  ان سب کی خاندانی شناخت ہے،  دوسری طرف ماں باپ کا گلہ ہے کہ ہم نے تربیت تو بہت اچھی کی تھی لیکن نتیجہ یہ نکلا۔۔۔

اب ایسے سیانے لوگوں کو کون سمجھائے کہ تربیت فقط نماز روزے کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے ساتھ محبت ، ان کی نیند اور کھیل کود  کا مناسب انتظام اور ان کے لئے ہنسی خوشی اور تفریح   کے مواقع بھی ضروری ہیں۔

جن بچوں سے بچپن میں  ان کا بچپن چھین لیا جاتا ہے ان کی جوانیاں بڑی عبرتناک ہوتی ہیں۔وہ خود نشانِ عبرت بن جاتے ہیں یا دوسروں کو بنا دیتے ہیں۔

 

 


افکار و نظریات: عبرتناک جوانیاں