نذر حافی

ماسٹر جی بھی مولوی جی سے کچھ کم نہیں تھے،خوبصورت داڑھی، سر پرکسی نہ کسی طرح کی ٹوپی،  کلاس میں داخل ہوتے ہی ، سب سے پہلے پوچھتے جنہوں نے صبح کی نماز نہیں پڑھی وہ  کلاس سے باہر نکلیں، اسی طرح ہفتے کے دن نماز جمعہ کی پوچھتے اور نماز نہ پڑھنے والوں کو  کلاس سے باہر نکال کر خوب چھترول کرتے۔

وقتا فوقتا سب سے نماز اور چھ کلمے سنتے، مہینے میں  دو تین مرتبہ چندہ جمع کرتے۔ کبھی کہتے آپ لوگوں کے لئے نئے ٹاٹ خریدنے ہیں لہذا سب دو دو روپے جمع کروائیں، اس زمانے میں دو روپے بڑی رقم تھی، کبھی کہتے سکول کو پینٹ کروانا ہے ،سب ایک ایک روپیہ جمع کروائیں، کبھی کہتے سکول میں درخت لگوانے ہیں ڈیڑھ ڈیڑھ روپیہ لائیں۔

ہر مہینے میں بار بار چندہ مانگنے کی وجہ سے گھر والوں سے ڈانٹ پڑتی ، کبھی کبھی پھینٹی بھی لگ جاتی اور اگر چندہ جمع کرانے میں دیر ہوجائے تو پھر ماسٹر صاحب تو سخت پھینٹی لگاتے تھے۔

اللہ اللہ کر کے ، پرائمری سے جان چھوٹی اور مڈل سکول میں داخل ہوئے، وہاں بھی اسی طرح کے ایک نیک ، متقی، اور پرہیزگار استاد صاحب ملے، وہ پڑھاتے وڑھاتے کچھ نہیں تھے، نماز روزے کی تاکید کے بعد بچوں کو کھڑا کر کے ان کی تعریف کرتے تھے کہ یہ اتنا اچھا بچہ ہے اس نے پچھلی عید پر مجھے  گھڑی تحفے میں دی تھی، یہ اتنا اچھا بچہ ہے یہ ہر ہفتے ایک دیسی مرغی میرے گھر دے جاتا ہے۔۔۔

آج جب میں مختلف جگہوں پر نمازیوں ،پرہیز گاروں، ریش دار اور روزہ داروں کو رشوت لیتے ہوئے دیکھتا ہوں تو فوراً سمجھ جاتا ہوں کہ انہوں نے یہ سب مہارتیں کہاں سے سیکھی ہیں۔

اپنے بچوں کو سکولوں کی رنگ برنگی عمارتیں اور موٹی موٹی کتابیں دیکھ کر سکولوں میں داخل نہ کروائیں بلکہ ان کے اساتذہ کا کردار دیکھ کر بچوں کو داخل کروائیں۔

کتابیں تو فقط الفاظ سکھاتی ہیں، انسان تو استاد بناتے ہیں۔


افکار و نظریات: کتابیں تو الفاظ سکھاتی ہیں