نذر حافی

آپ کے محلے میں بھی ایک جمیلو رہتا ہے، وہ صبح سویرے اٹھتا ہے،شہر جا کر باپ کی دکان لگاتا ہے، پھر سکول جاتا ہے، چھٹی کے وقت دوبارہ سیدھا دکان پر پہنچتا ہے،  وہ دکان پر بیٹھتا ہے اور اس کا باپ قیلولہ کرتا ہے، وہ پھر گھر کے لئے سودا سلف خریدتا ہے، سارا سودا سلف گدھے کی طرح اس کی پشت پر دونوں طرف لاد دیا جاتا ہے ، پھر وہ چلتے چلتے شام کے قریب گھر پہنچتا ہے، جہاں اس کے آگے  بچی کچھی روٹی کے ٹکڑے  ڈالے جاتے ہیں جنہیں وہ چبا کر سوجاتا ہے۔

اگلے دن پھر اعلی الصبح اٹھتا ہے، منہ اندھیرے دوڑ کر دکان پر جاتا ہے۔۔۔ پھر کچھ عرصے میں وہ سکول میں فیل ہوجاتا ہے، گھر گھر میں اس کی نالائقی کے چرچے ہوتے ہیں، رشتے دار اسے نکما ، ان پڑھ  اور نالا ئق کہتے ہیں،  کچھ سالوں میں اسے کوئی گھر میں بھی داخل نہیں ہونے دیتا۔

اسی دوران اللہ کی کرنی سے کوئی اس کے لئے باہر کا ویزہ بھیج دیتا ہے ، اب  وہ جمیلو کے بجائے نوابزادہ جمیل الدّین ہمایوں بن جاتا ہے۔ رشتے دار گاڑیاں لے کر  اسے ائیر پورٹ تک چھوڑنے اور رسیو کرنے جاتے ہیں۔اب اسے رشتہ دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں، لیکن جمیلو یہ نہیں جانتا کہ جو لوگ پیسے کی چمک دمک دیکھ کر رشتے داریاں کرتے ہیں ، ان کے ساتھ ساری زندگی منافقانہ ریاکاری کرکے گزارنی پڑتی ہے۔

اب کوئی اسے فون کرتا ہے کہ مجھے قرض دو کہ میں نے تمہارے لئے بہت زبردست زمین خریدنی ہے، کوئی کہتا ہے مجھے پیسے بھیجو میں نے تمہارے لئے کوٹھی بنوانی ہے ، کوئی کہتا ہے یار  دوچار مہینوں کے اندر اندر میرے لئے ویزہ بھیجو ، بس اب جمیلو ہے اور اس کے پیسے کے رشتے دار۔

اس معاشرے میں جب تک پیسے کو معیار آدمیت سمجھا جاتا رہے گا اور پیسہ دیکھ کر رشتے ناتے کئے جاتے رہیں گے تب تک یہاں جمیلو ہی پیدا ہوتے رہیں گے  اور جمیلو صاحب نوابزادہ  جمیل الدین ہمایوں بننے کے بعد بھی لٹتے ہی رہیں گے۔

کوئی منافقت سکھاوٴ مجھے

رشتے نبھا سکوں میں بھی


افکار و نظریات: پیسہ اور رشتے