نذر حافی

فرائض ادا کرنے سے حقوق جنم لیتے ہیں، اگر ایک سرکاری ملازم اپنا فریضہ انجام نہ دے تو اس کا یہ حق نہیں بنتا کہ وہ جا کر سرکار سے کسی قسم کی تنخواہ کا مطالبہ کرے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی فریضہ نماز کو ادا نہیں کرتا تو وہ اس نماز کے صلے اور اجروثواب پر بھی اپنا کوئی حق نہیں جتا سکتا۔

لیکن ہمارے معاشرے میں حقوق و فرائض کے نام پر عجب ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ ایک وڈیرہ ، لٹیرہ اور بدمعاش لوگوں پر حکومت کرنے کو اپنا حق سمجھتا ہے، لوگوں کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ یہ لٹیرے  اپنے فرائض ادا کریں یا نہ کریں لیکن یہ ان کا حق ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے۔

اسی طرح بغیر اپنا فریضہ ادا کئے لوگوں کی گردنوں پر اپنا حق جتانے کے لئے نوسر بازوں نے اپنے ناموں کے ساتھ خوبصورت لیبل لگا رکھے ہیں، ایسے لیبل جو صرف لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

مثلا ً: ایک شخص محکمہ تعلیم کا ملازم تھا، وہ بطورِ ٹیچر تنخواہ لیتا رہا لیکن  اپنا فریضہ انجام دینے کے بجائےبچوں سے اپنے گھر کے کام کرواتا رہا اور مال مویشی چرواتا رہا ، اب اس نے بھی اپنے نام کے ساتھ ماسٹر یا استاد کا کلمہ تھوپ رکھا ہے اور ریٹائر منٹ کے بعد وہ معاشرے سے اس احترام کا متقاضی ہے جو اس کا حق نہیں بنتا، اسی طرح  ڈاکٹروں کا پیشہ بہت مقدس ہے لیکن لوگوں کی کھال اتارنے والے اور گردے بیچنے والوں کے نام کے ساتھ بھی ڈاکٹر لکھا ہوتا ہے ، یعنی وہ  اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھ کر اس سوسائٹی سے وہ حق مانگ رہے ہیں جو مخلص اور دیانتدار ڈاکٹروں کا ہے۔یہی حال مولانا، علامہ، صحافی اور دیگر خطابات کا بھی ہے۔

کیا ناموں کے ساتھ لگے ہوئے ان لیبلوں اور  بغیر اپنا فریضہ اداکئے لوگوں پر اپنی تعظیم کا حق جتانے والوں سے گلوخلاصی کے لئے بھی کبھی ہم نے سوچا ہے۔


افکار و نظریات: ناموں کے ساتھ لگی ہوئی دُمیں