نذر حافی

بھولے شاہ کو  بیرونِ ملک سے واپس  آئے ہوئے دس دن ہو چکے تھے، اس کے گرد مسلسل عزیزوں اور رشتے داروں کا جھرمٹ تھا، وہ بہت خوش تھا کہ اب اسے  کوئی اسے گھٹیا ، زلیل، لوفر اور لفنگا نہیں سمجھتا اور  سب اس کی عزت کر رہے ہیں۔

ایک دن اس نے ایک عزیز سے کہا کہ مجھے گاڑی خریدنی ہے۔ عزیز صاحب خوشی سے اچھل گئے ، وہ گویا اسی انتظار میں تھے، بولے بابا خریدنے کی کیا ضرورت ہے۔یہ میرے پاس گاڑی موجود ہے ، آپ ہی رکھ لیں۔

وہ بہت خوش ہوا کہ کتنے اچھے عزیز ہیں ، قیمت پوچھی تو عزیز صاحب نے کہا کہ یہی کچھ چھ لاکھ روپے قیمت ہے لیکن آپ سے قیمت تھوڑی لینی ہے، آپ ویسے ہی رکھ لیں۔ اس نے کچھ تامل کیا تو عزیز صاحب بولے چلیں آپ پانچ لاکھ دے دیں۔ اس نے پانچ لاکھ دئیے اور عزیز صاحب چلتے بنے۔

اس نے بعد ازاں اِدھر اُدھر پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ ناکارہ گاڑی کوئی ساٹھ ہزار میں بھی خریدنے پر راضی نہیں۔ بہرحال اس نے دل پر پتھر رکھ کر ایک اور عزیز سے دل کا راز کہا کہ میرے ساتھ فراڈ تو ہو گیا ہے اب مجھے اس گاڑی کو ہنکانے کے لئے ایک ڈرائیور چاہیے۔

دوسرے عزیز  نے فوراً ہمدردی سے کہا کہ یہ دنیا بڑی فراڈی ہے ، کسی اور سے نہیں کہنا میرا بھتیجا موجود ہے وہی ڈرائیوری کرے گا۔بس جی کچھ ہی دیر میں بھتیجا صاحب  نے آکر سلام کیا اور گاڑی لے کر نکل گیا۔اب ڈرائیور کمانے کے بجائے روزانہ شام کو ایک دو ہزار روپے کا نسخہ بنوا کر لے آتا کہ آج گاڑی میں یہ خراب تھا اور آج یہ۔

گاڑی اور ڈرائیور سے دل کھٹا ہونے کے بعد اس نے موٹر سائیکل خریدنے کا فیصلہ کیا۔اس نے ایک بہت ہی عزیز شخصیت سے جب اس فیصلے کا ذکر کیا تو اس شخصیت نے کمالِ ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  اپنے موٹر سائیکل کی چابی اسے تھما دی۔  موٹر کی منہ مانگی قیمت  وصول کی اور اپنی راہ لی۔

ایک دون میں ہی پتہ چلا کہ یہ موٹر سائیکل چلانے کے نہیں بلکہ پھینکنے کے قابل ہے۔ بھولے بادشاہ  نے موٹر سائیکل کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور دونوں کو ایک کمرے میں لاک کرکے اپنی شادی کی فکر کرنے لگا۔

اس کے عزیزوں نے کہا کہ شرم کرو اورلڑکی والوں پر بوجھ نہ بنو  اور اپنا جہیز خود خریدو، جہیز خریدنے کے لئے اسی سے پیسے لئے گئے اور جہیز خرید کر  گاڑی اور موٹر سائیکل کے کمرے میں لا کر رکھ دیا گیا۔

شادی کے روز نیندرہ کی رسم کے مطابق لوگوں نے بھولے شاہ کو پیسے دئیے جو بھولے کے  سسرال والوں نے یہ کہہ کر اس سےلے لئے کہ ان پیسوں پر تو ہمارا بھی حق بنتا ہے۔

اگلے روز بھولے شاہ نے دیکھا کہ وہ کنگال ہو چکا ہے۔ اس نے جلد ہی بیوی کو جہیز اور گاڑی نیز موٹر سائیکل والے کمرے کی چابی دی اور بھاگ کر  بیرونِ ملک واپس اپنی نوکری پر حاضر ہو گیا۔

ابھی وہ اپنے دفتر میں اپنا پسینہ بھی صاف نہیں کرنے پایا تھا کہ گھر سے اس کی بیگم کا فون آگیا۔۔۔:::۔۔۔۔

ہیلو ہیلو!۔۔۔ میں نے تمہاری گاڑی موٹر سائیکل اور جہیز دیکھ لیا ہے۔لعنت ہے  اس کباڑ خانے پر۔۔۔

میں جا رہی ہوں ، جب تک میرے لئے نیا گھر نہیں بنواو گئے میں واپس نہیں آوں گی۔

بھولے شاہ  کی زندگی ایک مرتبہ پھر وہیں سے شروع ہوگئی جہاں پر بیرونِ مُلک جانے سے پہلے تھی۔ اسے اب پھر سب  نکمّا، لوفر اور لفنگا کہہ رہے تھے۔

اب اگلے پانچ سال کے بعد  پھر جب وہ پیسے کما کر ائیر پورٹ پر پہنچے گا تو رشتے داروں کا جلوس اسے رسیو کرنے باہر کھڑا ہوگا اور مختلف طریقوں سےاس سے پیسے انیٹھنے کے بعد پھر سے  اسے دھکا دے کر بیرونِ ملک بھیج دیا جائے گا۔


افکار و نظریات: بیرونِ ملک رہنے والوں کا پاکستان