عبدالوحید از اوکاڑہ

 

جرمنی کے سابق راہنما ہٹلر کا نام سامنے آتے ہیں ایک ولن کا کردار ابھرتا ہے،  اس کی زندگی کے بارے معلومات ہوں نہ ہوں لیکن ظالم کاروپ اوجھل نہیں ہوپاتااس کردار کے وہ خود ہی ذمہ دار ہیں وہ جرمن قوم کے علاوہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتے تھے حتیٰ کہ جس کے جین جرمن قوم سے نہ ہو ں ا س کو بھی اپنی قوم کو حصہ ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے اس کٹر نیشلسٹ نے اس کو فاشسٹ کے مقام پر لا کھڑا کیا تھا دوسری قوموں سے محاذ آرائی اور ان کو کیڑے مکوڑے سمجھنے کے جنون کی وجہ سے ہی وہ یہودیوں کا سخت ترین مخالف تھا اس ایک مخالفت بلکہ دشمنی نے اس کو دنیا بھر میں رسوا کرنے میں اہم کردار ادا کیا دنیا میں کئی ایک نیشلسٹ پیدا ہوئے اور انہوں نے ہٹلر سے بڑھ کی ظلم بھی کئے لیکن ان کے ہاتھوں یہودیوں کا خون دیکھنے کو نہ مل سکا ا س لئے وہ ظلم کی دنیا میں نام بھی پیدا کرنے سے قاصر رہے

ہٹلر کو اپنی قوم کی ترقی کا جنون تھا اس کے لئے اس نے ایک کانفرس طلب کی جس میں ماہرین کو دعوت دی گئی تھی ان کے سامنے صرف ایک ہی سوال رکھا گیاکہ جرمن قوم کی ترقی کے لئے کیا کیا جانا چاہیے اس پر مختلف آراء سامنے آر ہی تھیں کہ ایک صاحب نے اپنے سمیت سب کو ذلت اور کسی سزاسے محفوظ رکھنے کے لئے اظہار خیال کرتے ہوئے ایک یونیورسٹی کی نشاندہی کی اور کہا کہ اس میں ایک پروفیسر صاحب ایک طویل عرصہ سے معیشت اور ترقی کے حوالہ سے تعلیم دے رہے ہیں کچھ عرصہ بعد ریٹائر ڈ بھی ہونے والے ہیں ان سے ان کی زندگی کا نچوڑ پوچھاجائے اوران سے مشورہ کیا جائے ہٹلر کو رائے پسند آئی اور پروفیسر صاحب کو ہٹلر کے ہاں طلب کرلیا گیاہٹلر نے پروفیسر کی تعیناتی اور اس کے علوم کے بارے اپنے خیالات کا ذکر کرنے کے بعد کہا کہ مجھے جرمنی کی ترقی عزیز ہے تم مجھے اس کے بارے تحریری طورپر آگاہ کرو اور یاد رکھواس میں ناکامی کی صورت میں تمہیں پتا ہونا چاہئے میں تمہیں کس انجام تک پہنچا سکتاہوں

پروفیسر صاحب پریشانی کی حالت میں گھر پہنچے تو بیوی نے ہٹلر کی طلبی کے بارے پوچھا اور چہرے اڑنے والی ہوائیوں کے بارے بھی سوال کر دیا جس پر پروفیسر صاحب گویا ہوئے کہ میں نے عملی زندگی میں کبھی کچھ نہیں کیا اگر میں ہٹلر کو ترقی کے راز کے حوالہ سے کچھ نہ بتا سکا تو آپ جانتی ہوکیا حشر ہوگا جس پر بیوی نے اطمینان دلایا اور کہا کہ جب جانا ہومجھے بتا دینا میں تحریر تیار کر رکھوں گی آپ بے فکر ہوجائے موصوفہ بھی تعلیم کے شعبہ سے ہی وابستہ تھی.

وقت مقررہ پر پروفیسر صاحب کو اس کی بیوی نے ایک لفافہ دیا اور کہا کہ ہٹلر کو تھما آؤ پروفیسر صاحب ہٹلر کے ہاں حاضر ہوئے اور لفافہ دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی کی ترقی کا راز اس میں پنہاں ہے ہٹلر ترقی کے طویل منصوبوں کی امید پر بھاری بھر کم مسودہ کی توقع رکھتا تھا لیکن اس کو ایک لفافہ تھما دیا گیا تھا اس نے لفافہ کھولا تحریر پڑھی اور ماہرین کو طلب کرکے اس تحریر کو ان کے سامنے رکھ دیا تما م ماہرین نے اس تحریر پر اتفاق کیا اور ہٹلر نے اس تحریر کے مطابق جرمنی میں کام کا آغاز کر دیا اور ملک حقیقی معنوں میں ترقی کرکے ایک عظیم ملک و قوم بن گیا جس نے عالمی جنگ میں بھی خوب مقابلہ بھی کیا

اس تحریر میں صرف اتنا لکھا گیا تھا کہ ملک کے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک سڑکوں کا جال بچھا دیا جائے ملک و قوم ترقی کے تمام زینے طے کر لے گی سو ایسا ہی ہوا

میاں نواز شریف نے پاکستان کی ترقی کے لئے اس کافر ہٹلر کے نقش قدم پر چلنے کا ارادہ ہی نہی کیا بلکہ چین کو ساتھ ملا کر عملی کام بھی شروع کر دیا اور تو اور چین نے بھی پوری دنیا پر اپنا سکہ جمانے کے لئے ہٹلر کے راستے کوہی اپنا لیا ہے اور ون روڈ ون بیلٹ پر کام کا آغاز کر دیا ہے جس کے ثمرات سے امریکہ آگاہ ہے اس لئے اس نے ون روڈ ون بیلٹ کو سپوتاژ کرنے کے لئے اپنے طورپر کوششیں شروع کردی ہے

ہم اگر صرف اپنی بات کریں تو کیا میاں نواز شریف کو ہٹلر کے نقش قدم پر چلنے کے لئے سزا نہیں دی جانی چاہئے ۔


افکار و نظریات: نواز شریف اور ہٹلر