خود دار اور خود غرض

نذر حافی

ٹوٹتے سبھی ہیں،کچھ جلدی اور کچھ دیر سے،   انسان امیر ہوں یا غریب ہوں کسی کو محبت ، کسی کو نفرت ،کسی کو غربت،کسی کو حادثہ  اور کسی کو بیماری توڑ  کر کرکھ دیتی ہے۔ ٹوٹتا خود دار بھی ہے اور خود غرض بھی، امیر بھی ہے اور غریب بھی۔

 خود دار کی شخصیت ، گلاب کی طرح ہوتی ہے ، وہ ٹوٹتا ہے تو دور تک اس کی مہک بکھر جاتی ہے جبکہ خود غرض،  گندے انڈے کی مانند ہوتا ہے، جب ٹوٹتا ہے تو  ہر طرف گندگی اور بدبو پھیلاتا ہے۔

خوددار ٹوٹنے کے بعد عفو و درگزر سے  اِک نیاجہان آباد کرتا ہے اور خود غرض ٹوٹنے کے بعد  انتقام کے نام پر سارے جہاں کو خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔


افکار و نظریات: خود دار اور خود غرض