نذر حافی

ہمارے ہاں دولت ہی سب کچھ ہے۔   والدین اُسی بچے کو لائق اور قابل کہتے ہیں جو زیادہ کما کر لائے، لوگ اُسی کو رشتہ دیتے ہیں جس کے پاس پیسہ ہو،  پیسے کی وجہ سے سرکاری سکولوں کے بجائے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھائی اچھی ہوتی ہے، اساتذہ  کالجوں اور سکولوں  کے بجائے ٹیویشن سنٹروں میں  دل لگا کر پڑھاتے ہیں،  ڈاکٹر حضرات  سرکاری ہسپتالوں کے بجائے اپنے پرائیویٹ کلینکس پر مریضوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرتے ہیں۔ 

ماں باپ، دوست ، عزیز رشتے دار، اساتذہ ،  سب کے دل و دماغ پر پیسہ چھا یا ہوا ہے۔ جب لوگ صرف پیسے کی پرستش میں مصروف ہوں ، پیسہ ہی معبود و مطلوب ہو ، پیسہ ہی معیار اور رشتے دار ہوتو  ایسے ماحول میں اگر کوئی بچہ ڈاکٹر بن جائے اور پھر پیسے کے لئے لوگوں کے گردے نکال کر بیچ دے تو اِس میں تعجب کی کیا بات ہے۔


افکار و نظریات: پیسہ اور تعجب