*تحریر: سید کامران عابد بخاری*

صحافت کا مطلب معاشرتی اہم مسائل یا معاملات کو تحقیق کے بعد مختلف زرائع سے قارئین، سامعین یا ناظرین تک پہنچانا ہے۔ صحافی یقیناً معاشرے کی آنکھ کے مترادف بھی ہوتے ہیں جو معاشرتی مسائل ہوں یا ناانصافی و حق تلفی کے معاملات یا پھر ارباب اختیار کی توجہ دلانا مقصود ہو تو اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر کے معاشرے کی آواز ثابت ہوتے ہیں۔

 صحافت چونکہ ایک مقدس پیشہ بھی ہے اس لئے اس پیشے کیساتھ منسلک ہونے والے لوگوں پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہیکہ وہ اس پیشہ کے ساتھ مکمل انصاف کریں اور حق و سچ کی آواز بن کر عدل و انصاف کی راہ ہموار کریں لیکن اس محنت طلب اور عظیم  پیشے سے منسلک ہونے کے لئیے انتہائی  ذمہ داری، سنجیدگی  اور اعلی  تعلیم ہونا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ آپ معاشرے کے مسائل پر آواز حق بن کر بہتر کردار ادا کرسکیں۔

صحافت کے پیشے سے جڑی ایک اہم بات اور بڑا مسئلہ جو عام مشاہدہ میں آتا ہے وہ کم تعلیم یافتہ صحافی ہیں، جنہیں صحافت کے پیشے سے وابستگی کا شوق ہوتا ہے اور وہ کسی نا کسی طرح سے صحافت سے وابستہ ہو کر خود کو معاشرے کا اہم رُکن ثابت کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسی مثالیں اکثر پاکستانی صحافت میں دیکھنے کو ملتی ہیں، پاکستانی صحافی دُنیا کے کسی بھی مُلک یا شہر میں ہوں وہاں پر کم از کم ایک پریس کلب تو ضرور ہوگا جسے آزادی صحافت، صحافیوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئیے قائم کیا گیا ہو گا  تاکہ صحافیوں کیساتھ ہونے والی نا انصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف آواز اُٹھائی جا سکے۔

 اسی طرح آج برطانیہ میں بھی صحافیوں کے درجنوں پریس کلب قائم ہو چکے ہیں، جہاں پر تنظیموں کے دستور تو بنائے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل دیوانے کے خواب جیسا ہے۔ ان صحافتی تنظیموں میں اگر گریجویٹ یا زیادہ تعلیم یافتہ صحافی تلاش کریں تو وہ گنتی کے چند لوگ ہی ہونگے، جبکہ اکثریت کا معیار تعلیم میٹرک یا اس سے کم ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں پاکستانی صحافتی تنظیموں میں اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح اور صحافیوں کے تحفظ پر کام  دکھاوے اور صحافتی سیاست کے سواء کچھ نہیں !

بیشمار ایسے لوگ صحافی ہیں اور صحافتی تنظیموں کا حصہ بلکہ بڑے عہدوں پر براجمان  ہیں جو میٹرک پاس بھی نہیں اور ان سے برطانیہ میں رہتے انگریزی بولنا تو بہت دُور ان سے اردو ٹھیک سے نہیں بولی جاتی  اور نہ ہی انہیں اتنا علم ہے کہ صحافت کیسے کرنی ہے بلکہ دوست احباب کی محبتوں اور عنایات کی وجہ سے صحافتی تنظیموں سے وابستہ ہو جاتے ہیں تاکہ صحافتی تنظیموں کے انتخابات میں ووٹ بینک بن سکے لیکن اس ووٹ بینک کے چکر میں ایسے صحافی کہلائے جانے والے لوگ ناصرف صحافت سے ناانصافی کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ دیگر اعلی صحافیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی بنتے ہیں کیونکہ انُکی وجہ سے کہنہ مشق صحافیوں پر بھی تہمتیں لگتی ہیں۔ آسان زبان میں بات کروں تو ایسے لوگ ایک خبر لکھنے سے قاصر ہوتے ہیں، شرم کی بات تو ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ کئی صحافی واقعی ان پڑھ ہیں،  اور گروہ کی شکل میں کام کرتے ہیں۔

 ایک خبر لکھتا ہے اور باقی گُروپ خبر کو اپنا اپنا نام لگا کر اپنے اپنے اخبارات یا اداروں کو بھیج دیتے ہیں۔ میں خود ایسے صحافیوں کو جانتا ہوں جو ان پڑھ تو ہیں ہی لیکن ان کا کردار بھی مشکوک ہے، چند ایک تو ایسے بھی ہیں جو کبھی صحافی ہونے کی دھونس جما کر مفت میں کھانا کھانے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی عزت دار افراد سے جمع تفریق کا مطالبہ کرتے ہیں جو کہ صحافی برادری کا نام بدنام کرنے کی سب سے بڑی اور اہم وجہ ہے۔

 اس طرح کی بہت سی مثالیں برطانوی صحافت میں عام ملتی ہیں  جنہوں نے  صحافتی تنظیموں کو صرف اور صرف اپنے ووٹ بینک کے چکر میں لوگوں سے ذاتی مفادات حاصل کر کے صحافی بنانے کی فیکٹریاں بنا ڈالا اور آج یہی نااہل لوگ معاشرے کی آنکھ بننے کی بجائے ناسور بن کر قابل اور محنتی صحافیوں اور صحافت کو بھی بدنام کرتے ہیں اور دوسری طرف گروپس کی شکل میں محنتی اور قابل صحافیوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر ان لوگوں کو صحافت لکھنے کو کہا جائے تو یہ سہافت لکھتے ہیں یا پھر اگر ان کو اردو بولتا سُنیں تو واقعی زبان کوئلے کی دوکان کا پتہ دیتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ آخر کار ایسے عناصر کی پشت پناہی بھی چند صحافی  ہی کرتے  ہیں ! 

*میری اس تحریر کے ذریعہ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن سے درخواست ہیکہ صحافت کے پیشے کا معیار بہتر بنانے کے لئے*

برطانیہ میں پاکستانی صحافتی اداروں اور تنظیموں میں پڑھے لکھے قابل لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں نئی تعلیم یافتہ پڑھی لکھی نسل کو صحافت کے پیشے سے منسلک کرنے کے لئے کاوش کریں اور اس پیشے کو باقاعدہ روزگار کا ذریعہ بنانے میں بھی کردار ادا کریں تاکہ  ہماری نئی نسل کے پڑھے لکھے قابل لوگ اس پیشہ سے منسلک ہونے میں فخر کریں اور ہمارے مُلک کے لئے نیک نامی کا باعث ہو ۔ اس تحریر کے زریعہ  تمام صحافتی اداروں سے بھی درخواست ہیکہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہونے والے افراد کے لئیے کم از کم تعلیمی معیار اگر بی اے کے برابر ہونا چاہئیے  تاکہ پڑھے لکھے قابل لوگ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہو کر صحافت کے معیار کو بہتر بنائیں اور صحافتی اداروں کا نام پیدا کریں۔

 صحافت سے منسلک جن لوگوں کے پاس تعلیم کی کمی ہے اُنہیں بھی مجبور کیا جائے کہ وہ تعلیم حاصل کریں آج کل تو اوپن یونیورسٹیاں بھی آسانی سے گھر بیٹھے تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات میسر کرتی ہیں۔


افکار و نظریات: برطانیہ میں اردو صحافت کا نوحہ