*تحریر: محمد حسن جمالی*

ممالک میں ریاستی طاقت ہی اصل طاقت ہوتی ہے، کسی بھی ملک میں ریاست کی طاقت بہت بڑی طاقت شمار ہوتی ہے اگر یہ طاقت صالح اور باشعور افراد کے ہاتھوں میں آجائے تو وہ اس کے ذریعے اپنی مملکت کو ترقی کی منزل پر پہنچادیتے ہیں، اہلیان مملکت کو عزت اور سکون سے معمور زندگی فراہم کرتے ہیں اور اپنے ملک کو مثالی بنادیتے ہیں -

 مثالی مملکت وہ ہے جس میں لوگ سب سے زیادہ احترام آدمیت و انسانیت کا خیال رکهتے ہوں، جس میں ایسا نظام حاکم ہو جس کی بنیاد انصاف  پر ہو،  جس میں برسر اقتدار ایسے افراد ہوں جو تعلیم، سیاست اور مدیریت کے میدان میں مہارت رکھتے ہوئے انسان کی عظمت ،منزلت اور مقام کے قائل ہوں ،جس میں  حکمران ریاست کی طاقت اپنی مملکت کے استحکام اور دفاع میں استعمال کرتے ہوں ،جس کے صاحبان منصب اور عوام اپنی مملکت کی ترقی میں بھر پور کردار ادا کرتے ہوں-

 اگر کوئی مملکت مذکورہ خصوصیات کی حامل ہو تو بلا تردید اسے مثالی مملکت  کہا جا سکتا ہے - لیکن ریاست کی طاقت اگر ناصالح ونااہل افراد کے ہاتھوں میں آجائے تو وہ اس عظیم طاقت کو ملک کی ترقی کے بجائے اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں،  اورریاست کی طاقت سے سوء استفادہ کرتے ہوئے عوام کی زندگی کو اجیرن بنادیتے ہیں -

 جب ہم اپنی مملکت خدادا پاکستان پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہماری مملکت میں یکسر طور پر مذکورہ خصوصیات کا فقدان دکھائی  دیتا ہے- ہماری مملکت میں تو آج سب سے ذیادہ ارزان چیز انسان کی زندگی ہے - ہمارے وطن میں انسان کی انسانیت اور احترام آدمیت کی کوئی قیمت باقی نہیں رہی ہے , بلکہ یوں لکھنا بجا ہوگا کہ وطن عزیز پاکستان میں سیاستمداروں کی سیاست کی بنیاد ہی انسانیت کو بازیچہ اطفال بنانے پر استوار ہے –

پاکستان میں کچھ افراد مادی طاقت کے بل بوتے پر ریاست کے منصب پر قابض ہوتے ہیں، پھر ریاست کی طاقت کو ملک کی ترقی واستحکام اور پاکستان کے دشمنوں کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے خود اپنے مفادات کے حصول کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ان کے مفادات کی راہ میں مانع بننے والے اپنے محب وطن انصاف پسند شہریوں کو کچلنے کے لئے استعمال کرتے ہیں, یہ اب معمول بنتا جارہا ہے کہ جس کسی نے بھی حکمرانوں کے کرتوت پر انگلی اٹھائی، ان کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی، اسے ریاست کی طاقت دبوچ لیتی ہے -

 

 کسی بهی جمہوری ملک کے آیین اور قانون میں شفاف طور پر یہ نکتے مرقوم ہوتے ہیں کہ ریاست کی ذمہ داری اپنے وطن کے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے، عوام کو بنیادی ضروریات زندگی جیسے تعلیم صحت ،پانی، بجلی، امن وامان .. فراہم کرنا ہے- عوام کو بولنے اور لکھنے میں آذاد رکھنا ہے –

عوام کو اقتدار پر براجمان حکمرانوں کے کردار، گفتار اور رفتار پر اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے، انہیں نظام حکومت کے نقاط ضعف کی نشاندہی کرانے کی کھلی اجازت ہونی چاہیے- اس لئے کہ جمہوری حکومت میں عوام اپنی مرضی سے اپنی مملکت کے لئے حکمران منتخب کرتے ہیں، وہ ایک دوسرے سے گفت وشنید کرکے آپس کے مشورے سے مملکت کے حکمرانوں کے لئے ضابطہ اور قانون طے کرتے ہیں، حکمرانوں کے منصبی فرائض تعین کرتے ہیں، ان کے لئے خاص شرائط وضع کرتے ہیں پھر نظام مملکت کی زمام ان کے ہاتهوں میں تھما دیتے ہیں اور حکمران منتخب ہوکر میدان عمل میں اگر اپنے فرائض کو انجام نہ سکیں یا وہ مقررہ قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوجائیں تو عوام کو نہ صرف ان پر اعتراض کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے بلکہ عوام ان کو منصب سے ہٹانے کا اختیار بھی رکهتے ہیں۔

 اب  پاکستانی عوام میں موجود شعور کی کمی سے سوء استفادہ کرتے ہوئے حکمران اپنے عمل کے ذریعے یہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں کہ ہم جیسے منتخب ہوئے سو ہوئے ابھی ہم نے ہر حال میں اپنے مخالفین پر ریاستی طاقت  کو کسی تودے کی طرح گرانا ہے، حکمران ریاستی طاقت کے ذریعے اپنے مخالفین کو لاپتہ بھی کروا دیتے ہیں، جیل کی تاریک کو ٹھڑیوں میں بند کروانا تو ان کے لئے معمولی سی بات ہے اور یہ لوگ اپنے مخالفین کی زندگی کا چراغ گل بھی کر سکتے ہیں، جس کی حالیہ مثال پاکستان کی سرزمین سے بغیر کسی اطلاع کے محب وطن شہریوں کو لاپتہ کروانا  اور حق گو صحافیوں ڈاکٹروں وکیلوں کو قتل کروانا ہے، پاکستان میں اب تک بے شمار صحافیوں کو حقائق لکھنے اور بولنے کے جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیا  گیاہے ، بہت سارے وکیلوں کو حق کی حمایت اور وکالت کرنے کی وجہ سے ابدی نیند سلادیا  گیاہے، بہت سوں کو لاپتہ کرواکر ان کے اہلِ خانہ کو شدید پریشانی میں مبتلا کیا ہوا ہے- ان لاپتہ ہونے والوں میں سے ایک ایڈوکیٹ ناصر شیرازی  بھی ہیں، جنہیں  پنجاب حکومت نے لاہور سے اغوا کروایا ہے اور دو ہفتے ہونے والے ہیں مگر ابھی تک ان کی بازیابی کی کوئی خبر نہیں ملی - یہ بلا شبہ ریاست کی طاقت سے سوء استفادہ اور سراسر ظلم  ہے- اور یہ حقیقت طے ہے کہ ظلم جب بڑھتا ہے تو ظالم مٹ جاتا ہے  ۔

 

پاکستان میں ریاست کی طاقت سے غلط استفادہ کرنے کی سنت قبیحہ نے جنرل ضیاءالحق کے دور اقتدار میں عروج پائی اور اس سنت قبیحہ کا سلسلہ توقف کے بغیر آج تک چلا آرہا ہے-

نظام قیومی صاحب نقل کرتے ہیں کہ عالمی شہرت یافتہ مورخ آئن ٹالبوٹ اپنی کتاب ’’پاکستان نیو ہسٹری‘‘ میں لکھتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے افغان جہاد کے لیے امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں سے اسی ہزار مجاہدین تیار کیے، ہزاروں ’’نرسریاں‘‘ قائم کیں یہی مجاہدین آج القاعدہ، داعش اور طالبان کے نام سے پاکستان کی سلامتی کے درپے ہیں اور پاک فوج ان سے برسرپیکار ہے۔

ضیاء الحق نے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے قائداعظم اور علامہ اقبال کے فکری بیانیے کو تبدیل کیا اور ’’سیاسی اسلام‘‘ کے نام پر جس بیانیے کو مستحکم بنایا آج وہی بیانیہ ستر ہزار معصوم شہریوں کا قاتل بن چکا ہے اور قتل و غارت گری کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ موجودہ حکومت نے پاکستان کے اساسی بیانیہ کی تشکیل نو کے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔

1973ء کا متفقہ آئین عوام کا سماجی معاہدہ تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے نہ صرف اسے توڑا بلکہ اس میں ’’آمرانہ ملاوٹ‘‘کی۔ آئین کو بارہ صفحے کا کتابچہ قراردیا جسے کسی وقت بھی پھاڑا جاسکتا تھا۔ وزیراعظم نواز شریف بھی عملی طور پر آئین کو بارہ صفحات کا کتابچہ ہی سمجھتے ہیں اور اس میں خلافت کے نام پر نئی ترمیم شامل کرکے آمر مطلق بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

 یہ حقیقت قابل انکار نہیں کہ ریاست کی طاقت صالح افراد کے ہاتھوں میں آجائے تو یہ ملک کی ترقی کا سبب بنتی ہے، اگر ریاست کی طاقت نااہل ونادانوں کے ہاتھوں میں آجائے تو یہ ملک وعوام دونوں  کےتنزلی میں جاگرنے کا باعث بن جاتی ہے -


افکار و نظریات: مثالی مملکت اور ریاستی طاقت