زاہد حامد ہی کیوں ؟ پورا نظام کیوں نہیں ؟

*ضرب_تحریر*

الیکشن ایکٹ 2017 کو ڈرافٹ صرف وزیر قانون زاہد حامد نے نہیں کیا . الیکشن ایکٹ کے حوالے سے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی جس میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کے اراکین شامل تھے سب کی اراء شامل تھیں اور جب یہ مکمل ہوا تو سب جماعتوں کا اس بل پر مکمل اتفاق تھا اور صرف نااہل شخص کو پارٹی صدر بنانے والی شق پر اختلاف تھا جس کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیوں نے اس پورے ایکٹ کی مخالفت کی تھی.

یہ بل جب سینٹ سے پاس ہوا تو تب بھی صرف ایک شق  نااہل شخص کو پارٹی صدر بنانا ہی موضوع بحث تھی بل سینٹ سے پاس ہوا ایک ہفتہ تک کہیں ِ بھی ختم نبوت پر بات نہیں ہوئی صرف ایک پارٹی صدر کے حوالے سے متنازعہ شق ہی موضوع بحث تھی . جب یہ بل قومی اسمبلی میں پاس ہوا شیخ رشید نے توجہ دلائی پھر جاکر یہ متنازعہ ہوا .اور سب کو معلوم ہوا کہ ختم نبوت کے حوالے سے الیکشن پراسسز میں حلف ناموں کو کمپلسری سے ختم کرکے ثانوی کردیا گیا ہے.

اب سوال ہے کہ جب یہ بل ڈرافٹ ہوکر پارلیمانی کمیٹی میں پیش ہوا تب اسکی نشاندہی کیوں نہیں ہوسکی ؟ سب اس پر.متفق تھے کیا پارلیمانی کمیٹی مجرم نہیں ؟ سینٹ میں بل پاس ہوا تب نشاندہی کیوں نہیں ہوئی کیا تب سب مجرم نہیں ؟   جس جس نے ووٹ دیا کیا انہوں نے پڑھے بغیر ووٹ دے دیا ؟

بل ڈرافٹ ہونے پر نشاندہی نہیں ہوئی ؟ بل سینٹ پر پیش ہوا نشاندہی نہیں ہوئی ؟ بل سینٹ میں پاس ہوا نشاندہی نہیں ہوئی بل ایک ہفتے بعد قومی اسمبلی میں پیش ہوا نشاندہی نہیں ہوئی ؟

کیوں ؟ اتنا حساس معاملہ کیوں نہیں کسی پارلیمانی جماعت کی نظر کے سامنے سے گزرا ؟ کیا اس نظام کی نااہلیت نہیں ؟ ایک وزیر قانون زاہد حامد کو نشانہ بنا کر پورا نظام کو بچانا اصل میں اصل مجرم کو بچانے کے مترادف ہے . کیونکہ مجرم پورا نظام ہے صرف زاہد حامد نہیں .


افکار و نظریات: زاہد حامد ہی کیوں, پورا نظام کیوں نہیں