ادویات کی قیمتیں کم کرنے کا نسخہ

عبدالوحید

فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے ) نے تحقیقات شروع کی ہیں جس کے مطابق ادویہ ساز کمپنیوں نے از خود ادویات کی قیمتوں میں سو گنا اضافہ کر دیا ہے اس ضمن میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان سے ریکارڈ طلب کرلیا ہے ہفتہ رفتہ میں شائع ہونے والی اس خبر کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے فرائض میں شامل تھا کہ وہ ایوانوں کے اندر اور باہرحکومت کی اس ناکامی کا منظر عام پر لاتے اور اس قدر دباؤ ڈالتے کہ حکومت ذمہ داروں کے تعین اور سزاد ینے پر مجبور ہوجاتی لیکن بغض نواز شریف اور حب نوازشریف میں بٹی اس قوم اور اس کے لیڈروں کو کرپشن اگر نظر آتی ہے تو صرف سیاستدانوں میں جہاں ایک گروہ کے لئے کوئی لیڈر فرشتہ صفات کو مالک ہے تو دوسرے گروہ کے لئے یہی لیڈر شیطان سے کم درجہ پرفائز ہوہی نہیں سکتا

ادویہ ساز ی کے اس دھندہ میں اگر چہ سب سے زیادہ مال پوری دنیاسے اگر کوئی سمیٹ رہا ہے تو وہ امریکہ ہے اس کے بعد چین کا نام آتا ہے امریکہ اپنی دریافتوں اور ایجادات کی وجہ سے اور چین کم پیداواری لاگت کی وجہ سے اربوں ڈالر اپنے خزانوں میں جمع کر لیتے ہیں جس کو کوئی روک بھی نہیں سکتا اس کی تفصیل پھر کبھی سہی تاہم پاکستان میں یہ دھندہ بھی کسی طور کم نہیں ہے مشرف دور میں ادویات سے متعلق ایک صاحب سے پتہ چلا تھا کہ ادویات کے دھندہ میں راتوں رات ارب پتی بننے امکانات ہیں اور بہت سارے لوگ بن بھی گئے ہیں اس صاحب کے مطابق آپ کوئی گولی تیار کرتے ہیںیاچین سے درآمد کرتے ہیں جس کی لاگت ایک روپیہ ہے اس کی قیمت کا تعین ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے کرانا ہوتا ہے اس دور میں ایک کروڑ روپیہ خرچ کیا جاتا تھا تو اس ایک روپیہ والی گولی کی قیمت ایک سو سے زائد کی حاصل کی جا سکتی تھی اب کے سرکار ی اہلکاروں کے ریٹ کیا ہے تاہم یہ دھندہ آج بھی جاری و ساری ہے

اس کے بعد بات آتی ہے مارکیٹنگ کی اس کے لئے بھی کوئی جوئے شیر نہیں لاناپڑتا بس مختلف علاقہ جات میں اپنی کمپنی اور ہر آیٹم کی الگ الگ سے فرنچائز دی جانا ہوتی ہے جس میں فرنچائز ر کو چالیس سے ساٹھ فی صد تک ڈس اکاؤنٹ دیاجاتا ہے اور ساتھ ہی ٹارگٹ طے ہوتا ہے اب اس فرنچائزر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہسپتال یاڈاکٹرز کو کیاکیاتحفے یانذرانے دیتا ہے آپ کسی بھی ڈاکٹر کے دس بیس مریضوں دی گئی ادویات کی فہرست سے جان سکتے ہیں کہ مذکورہ ڈاکٹر کاکس کمپنی یا کس ادویہ کے بارے معاملات طے ہوئے ہیں

اس معاشرتی جرم پر قابو پانے کے لئے اگر چہ ایک پورے نظام کی ضرورت ہے تاہم پاکستان میں ہی یہ واقعہ ہو چکا ہے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں حکومت نے اعلان کر دیا اور اس پر عمل بھی کرایاکہ تمام ادویات ساز کمپنیا ں جنرک نام استعمال کریں گی اس سے ادویات کی قیمتوں میں نمایا ں کمی واقع ہوگی تھی مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک عالمی ادویات ساز نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور اپنی ادویات بھی بنانے اور مارکیٹ میں دینے سے انکار کر دیا جس مختلف کمپنیوں نے وہی دوا تیار کرنا شروع کردی اس دوا کی قیمت کمپنی نے 14روپے کچھ پیسے مقرر کی ہوئی تھی جب کہ جنرک نام کی وجہ سے یہ دوا مارکیٹ میں 4روپے اور کچھ پیسوں میں دستیاب ہونا شروع ہوگئی تھی بھارت کی ایک ریاست ( صوبہ ) نے بھی اس اصول کو اپنایا ہے اور ادویات ساز کمپنیاں جنر ک نام پر ادویات تیارکرنے پر مجبور ہوگئیں ہیں

پاکستان میں ایک بار پھر ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے لئے اس کار گر نسخہ پر عمل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی مجھے امید کم ہی ہے کیوں کہ ہمیں نواز شریف اور عمران خان کی کرپشن تلاش کرنا ہے اور ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے لئے ہر اصول کو بھی پامال کرنا ہے .


افکار و نظریات: ادویات کی قیمتیں کم کرنے کا نسخہ