فیض آباد دھرنا مکمل پر امن ہے، مطالبہ جمہوری بنیادوں پر ہے، عوام مشتعل نہیں، قیادت عسکری نہیں، صرف ایک ہی مطالبہ ہے ختم نبوّت کے مجرموں کو سزا دو۔اس کے باوجود عدالت نے آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد کو دھرنا ختم نہ کروانے کی وجہ سے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کردیے ہیں۔

اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ یہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے، عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرانے پر سب کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس جاری کردوں گا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ 8 لاکھ آبادی کے حقوق کو ہائیکورٹ نظر انداز نہیں کر سکتی، یہاں تاجروں، طلباء اور مریضوں کا کیا قصور ہے، یہ سارا معاملہ اسلام آباد انتظامیہ کی نااہلی اور ملی بھگت سے ہوا۔

اب تصویر کا دوسرا رُخ بھی دیکھئے کہ جہاں آٹھ لاکھ کی آبادی کے حقوق  نہیں بلکہ  بیس کروڑ کی آبادی کے حقوق سبوتاژ ہو رہے ہیں لوگ جبراً اغوا اور لاپتہ ہیں، سالہا سال سے گم شدہ لوگوں کے لواحقین  نوحہ کناں ہیں، عدالتوں کے بار بار حکم  کے باوجود لوگوں کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا  لیکن اس معاملے میں  تو عدالت کی عزت پر کوئی حرف نہیں آتا ۔

اس سے اس شک کوتقویت ملتی ہے کہ   ختم نبوّت کے قانون میں ردو بدل کی کوشش بڑی طاقتوں کی ملی بھگت سے ہوئی ہے اور وہی طاقتیں اس وقت اس دھرنے کو ختم کرانے کے لئے بے تاب ہیں۔

ورنہ اگر توہین ہی مسئلہ ہے تو  آئین ، قانون ، ملک، انسانیت، مذہب ، تہذیب  اور عدالتوں کی جتنی توہین سرکاری اداروں کے ہاتھوں لوگوں کی جبری گمشدگی  اور سرکاری اغوا کے سلسلے میں ہوئی ہے اس کی مثال پوری تاریخ پاکستان میں ملنا ناممکن ہے۔


افکار و نظریات: اگر توہین ہی مسئلہ ہے تو