(ڈاکٹر حفیظ ارحمان )

توبہ کے معنی ہیں ،ایسے کسی بھی فعل کی گردان سے خود کو روکنا جو  مزہب ،معاشرہ اور ریاست کی نظر میں معیوب ھو ۔

سوال یہ ھے کے عملی طور پہ توبہ کی افادیت سے ھمارا معاشرہ مستفیض کیوں نہ ھو سکا ۔

مزہبی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو توبہ کے حوالے سے عبادات کے زریعے چھوٹ دی گئی ھے ،جیسے کے فجر کی نماز سے پہلے کے گناہ معاف ھو جاتے ہیں اور اس طرح ھر نماز پچھلے گناہوں کو معاف کرتی چلی جاتی ھے ۔

علما کرام بھی خدای بزرگ و برتر کی بے پاں رحمت ،جو  کے ایک حقیت ھے کو کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں کے بار بار توبہ کرنے یا دوسرے الفاظ میں بار بار گناہ کرنے میں آسانی کا احساس ھوتا ھے ۔

کیا اللہ تبارک تعالی آسمانوں تک کے گناہ معاف کرنے میں اتنی آسانی فراھمُ کر سکتے ہیں کے ایک گھنٹہ زاروقطار رونے سے معافی مل جایے گی ۔

آئیے اس کے لیے ھم اللہ تعالی کی انسانی معاشروں اور انسانی زندگی کے نظام کے حوالے سے انکے تعلق کا احاطہ کرتے ہیں ۔

اللہ کے ھر عمل کو ھم ایک مر بود اور اٹل نظام کی شکل میں دیکھتے ہیں ،کائنات کی عظیم عالیشان گیلیکسی وں سے لے کر سمندر کی اتھاہ گہرائیوں تک اور خورد بینی جرثوموں سے لے کر ھمارے دل کی دھڑکنوں تک اٹل فیصلے دکھائی دیتے ہیں اور یہ تمام فیصلے اپنے لیے ایک حکم رکھتے ہیں اور تاقیامت یہ سلسلہ چلتا رہے گا ۔

اب ایک ایسی ھستی سے انسان کاروبار کرنا چاہے تو اسی ھی کے دیے ھوے دماغ کو استعمال کرنا چاہئیے اور اسی ھی کی دی ھوی عقل کو بھی بروئے کار لا نا چائیے ۔کاروبار میں نفع اور نقصان دونوں چلتے ہیں لیکن کاروباری اصول اٹل ھوتے ہیں ۔

یہ کیسے ممکن ھے کے گناہ تو عملی طور پہ ھو اور توبہ لفاظی ھو ،یہ کیونکر ھو سکتا ھے کے گناہ میں محنت اور مشقت کی جایے ۔روپے پیسوں کا زیاں کیا جائے ،قیمتی وقت کا مصرف کیا جایے ،لاکھوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیلا جائے ،بسا اوقات نسلوں کو تباہ و برباد کر دیا جائے ،ایک خاندان سے لے کر پورے معاشرے کو داو پہ لگا دیا جائے ،ریاستوں سے ھوتے ھوئے عصمتوں سے کھیلواڑ کیا جائے اور صرف چند لمحوں کے لیے ھاتھ اٹھا کر ،آنسو بہا کر توبہ مانگ لی جائے ،بہت توبہ کی تو خانہ کعبہ کی چادر کو پکڑ کر رو لیا جائے ،کیا ھمارا خدا اس قدر معصوم ھے کے ھماری چالوں کو سمجھ نہیں پاتا ،(جاری )

 


افکار و نظریات: توبہ