اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات صابر ابو مریم داعش نامی گروہ کہ جس کا پہلی مرتبہ نام شام میں سنہ2011ء کے وسط میں سنا گیا تھا اور اس گروہ کا نعرہ تھا کہ شام و عراق میں اسلامی خلافت کا نظام قائم کرنا۔ اس اسلام کے نام لیوا گروہ نے شام میں مسلح جد وجہد کا آغاز ایسے وقت میں کیا کہ جب تیونس سمیت مصر اور دیگر عرب ممالک میں اسلامی بیداری کی لہر عروج پر تھی اور اس گروہ کے منظر نامہ پر آنے کے بعد جہاں ایک طرف اسلامی بیداری کی تحریک کو نقصان پہنچا وہاں ساتھ ہی عالم اسلام اور بالخصوص اسلام کے خوبصورت چہرے کو ایک مرتبہ پھر بری طرح مسخ کرتے ہوئے اسلام کو مجموعی طور پر دنیا کے سامنے بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی ۔ داعش نے شام و عراق میں دولت اسلامیہ یعنی اسلامی خلافت کے نظام کی بنیاد ڈالنے کا نعرہ لگایا لیکن اس داعش نامی گروہ کا ہر فعل اسلام اور اسلامی خلافت کے اصولوں کے بر عکس جاتا رہا۔بہر حال یہ دہشت گرد گروہ سنہ2011ء سے شام میں تباہ کن بربادی شروع کرنے کے بعد سنہ2014ء میں عراق میں داخل ہوا۔ اسی طرح سنہ 2016ء میں لبنان کے جنوبی و شمالی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لینے کی کوشش کی تا کہ پورے خطے کو نقصان پہنچا یا جائے ، اب ذرا غور کیجئے کہ ا س خطے میں سب سے زیادہ اہم اہداف کس ملک کے ہیں؟ مختصر تاریخ کا مطالعہ اور تحقیق کے بعد ہر ذی شعور اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ اس خطے کا غیر مستحکم ہونا در اصل امریکا اور براہ راست اسرائیل کے مفاد میں ہے اور یہی کام داعش کے ذمہ لگا کر امریکا اور اسرائیل نے انہیں پہلے شام پھر عراق اور بعد میں لبنان میں اتارا۔ اب حالیہ تازہ خبروں کے مطابق انہی چند ایک بچے کھچے دہشت گردوں کو امریکی و صیہونی حمایت میں افغانستان تک پہنچایا گیا ہے تاکہ اگلا ہدف افغانستان اور پھر اسی طرح پاکستان میں موجود داعش کے سلیپنگ سیلز کو جگانا اور پاکستان کو انارکی کی طرف لے جانا ہے ۔(خاکم بدھن) تحریر کے آغاز میں بیان کرنا ضروری ہے کہ آج تا دم تحریر ذرائع ابلاغ پر یہ خبریں نشر کی جا رہی ہیں کہ داعش نامی دہشت گرد گروہ کا شام و عراق سے مکمل خاتمہ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔یہ تحریر اسی پیراہے میں لکھی جا رہی ہے تا کہ قارئین کی خدمت میں عرض کی جا سکے کہ آخر یہ داعش نامی دہشت گرد فتنہ کس طرح اسلام و مسلمین کے خلاف سرگرم عمل تھا اور اپنے غیر ملکی آقاؤں امریکا و اسرائیل کی خوشنودی کی خاطر مسلمانوں کا خون بہانے میں مصروف تھا۔ بہر حال داعش کے وجود نے نہ صرف عرب دنیا میں اسلامی انقلابی بیداری کو امریکی ایماء پر متاثر کیا بلکہ مصر میں قائم ہونے والی اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے کا زمینہ بھی فراہم کیا، لیبیا میں عدم استحکام پیدا کرنے اور امریکی بالا دستی قائم کرنے میں داعش کا کردار سر فہرست تھا،دوسری طرف شام و عراق میں معصوم انسانوں کے خون سے بد ترین انداز سے ہولی کھیلی جاتی رہی جس کی تاریخ میں اس سے زیادہ بد ترین مثالیں نہیں ملتی ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ امریکی ایماء پر خطے میں اسلامی بیداری کا راستہ روکنا اور خطے میں امریکا اور اسرائیل کے اہداف کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ امریکا اور اسرائیل کے آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھنے والی لبنانی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ اور فلسطینی حماس کو بھی ختم کرنا تھا جسے امریکا و اسرائیل گذشتہ کئی برس کی ناپاک سازشوں کے ذریعے انجام نہیں دے پائے تھے۔ داعش کے وجود اوراس کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ہونے والی سفاکانہ کاروائیوں نے اوائل اسلام او ر اسلام کی آمد کے زمانے کے حالات کو تازہ کر دیا تھا کہ جب مشرکین و کفار اسلام کے خلاف سازشیں کرتے نظر آتے تھے اور منافقین مسلمانوں کی صفوں میں چھپ کر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں ہی کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا کرتے تھے، جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) کے چچا سید الشہداء امیر حمزہ (رض) کی لاش کا مسلہ کیا جانا اور ہندہ کا ان کا جگر نکال کر چبانا ، ایسے ہی واقعات داعش کے اس خوارجی گروہ کے ہاتھوں انجام پذیر ہوئے تقریبا 6 سال قبل ٹھیک اسلام کے اوائلی زمانے کی طرح ایک خطرناک فتنہ کھڑا کیا گیا جس کے پیچھے اسلام دشمن عناصر بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کی مدد سے ایک ویرانگر فتنہ پورے عالم اسلام میں پھیلانے کی کوشش کی گئی جس کو داعش کا نام دیا گیا تھا۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ امریکا و اسرائیل کی جانب سے داعش کو اس لئے وجود بخشا گیا تا کہ پورے عالم اسلام میں نفاق اور فرقہ واریت کو ہوا دی جائے جبکہ دوسری طرف دنیا کے مسلمانوں کی مسئلہ فلسطین و القدس کی طرف بڑھتی ہوئی توجہ کو ختم کیا جائے تا کہ صیہونیوں کے خلاف کم سے کم مزاحمت سامنے آئے ۔داعش کا وجود اس لئے قیام عمل میں لایا گیا تھا تا کہ اسلامی ممالک میں مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے اور داعشی دہشت گردوں نے ابتداء میں عراق اور شام کے ہزاروں جوانوں کو تہہ و تیغ کرکے اس ممالک کے شہروں اور دیہاتوں سمیت ہزاروں مربع کلومیٹر پر قبضہ جمالیا تھا اور ہزاروں سڑکیں، پل، ورکشاپس، فیکٹریاں، تیل اور گیس کے متعدد ذخائر، اسکول، ہسپتال، رہائشی مکانات اور بنیادی ڈاھانچے مکمل طور پر تباہ کردئیے گئے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب تباہ کاریوں کی انہیں اسلام محمدی نے اجازت دی تھی ؟ ہر گز نہیں اسلام محمدی ہر گز ایسا اسلام نہیں ہے کہ جس کا چہرہ داعش کے دہشت گردوں نے پیش کیا۔ عراق اور شام میں داعش کی جانب سے کی جانے والی تباہ کاریاں اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا حسا ب لگانا انتہائی مشکل کام ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق کم ازکم 500 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ داعش دہشت گردوں کے مظالم قابل بیان نہیں ہیں، دہشت گردوں نے درندگی کی انتہا کردی تھی جیسے چھوٹے چھوٹے بچوں کا سرقلم کرنا، زندہ انسان کی کھال اتارنا، مردوں کو ان کی ناموس کے سامنے زندہ جلانا، جوان لڑکیوں کو اغوا کر کے خرید وفروش کرنا وغیرہ۔ عراق اور شام کے مظلوم عوام داعشی سفاکانہ مظالم کے سامنے بالکل بے بس ہوکر گھر بار سب کچھ چھوڑ کر دوسرے علاقے اور ملکوں کی طرف ہجرت کی اور جو نہ جاسکے ان کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ داعشی دہشت گردوں نے جس علاقے میں قدم رکھا وہاں کی تمام آثار قدیمہ، مساجد، امام بارگاہوں، چرچ سمیت دیگر مذاہب کے عبادت گاہوں کو بموں سے اڑا دیا جس میں ہزاروں بے گناہ نمازی اور عبادت گزار شہید ہوگئے۔ داعش نے 6 ہزار سے زائد مسلم نوجوانوں کو اسلام کے نام پر فریب دے کر خودکش حملے کروائے جس میں مساجد، مدارس، طبی مراکز، مسلمانوں کے عمومی اجتماعات کے مراکز، فیکٹریاں وغیرہ کو نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں مسلمان جام شہادت نوش کرگئے۔ان تمام تر ظلم و تشدد کے پیچھے امریکی حکام کا ہاتھ تھا جیسے کہ حال ہی میں امریکی اعلی عہدہ دار( صدر ٹرمپ) نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ داعش کو امریکی سابق حکمرانوں نے بنایا۔ اب بھی امریکی داعش کی بھرپور مدد کررہے تھے۔ خلاصہ یہ ہے کہ داعش کا آج اکیس نومبر 2017ء کو شام وعراق سے خاتمہ کا اعلان کیا گیا ہے درا صل یہ اعلا ن داعش کی شکست کا نہیں بلکہ امریکا و اسرائیل کی شکست کا ہے کہ جنہوں نے داعش کی پرورش کی اور اپنے مقاصد کی خاطر استعمال کرتے ہوئے اسلام و مسلمین کے خلاف سازشوں کا بازار گرم کیا۔ ہزاروں بے گناہوں کا قتل عام کیا، اس جرم میں جہاں امریکی و صیہونی شریک ہیں وہاں خطے کی خلیج عرب ریاستوں نے بھی امریکا کے ساتھ عہد وفا نبھاتے ہوئے داعش کی مالی و مسلح معاونت سمیت افرادی قوت پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے جس کی قلعی حالیہ دنوں قطری شہزادے حمد بن جاسم نے بی بی سی کو دئیے اپنے ایک انٹر ویو میں کھول دی ہے اور بتا د یا ہے کہ داعش کو امریکا و اسرائیل کے ساتھ ساتھ ترکی، قطر، سعودی عربیہ اردن اور دیگر کئی خلیج ریاستیں مدد فراہم کر رہی تھیں، بہرحال اب شام و عراق سے اس فتنہ کا خاتمہ یعنی امریکا و اسرائیل کو ایک اور شکست کا سامنا ہو اہے جو یقیناًداعش کی شکست نہیں بلکہ امریکا و اسرائیل کی شکست ہے۔ ماہرین سیاسیات کا کہنا ہے کہ داعش کی شکست کے بعد اس کے حامی (امریکا و اسرائیل )نئے منصوبوں پر کام کریں گے۔ شام وعراق میں داعش کا قیام در اصل گریٹر اسرائیل کی تشکیل اور علاقائی ممالک کی سرحدوں کی توڑ پھوڑ کے لئے بنایا گیا تھا جسے براہ راست امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب سمیت دیگر عرب حکومتوں کی حمایت حاصل تھی۔ ان عرب ممالک نے عراق اور شام کی تباہی کے لئے اربوں ڈالر صرف کئے ہیں۔ داعش کی شکست درحقیقت امریکہ، اسرائیل اورتمام ایسے عرب حکومتوں کی شکست ہے جو داعش کی حمایت کر رہے تھے،لہذا مذکورہ ممالک داعش کی شکست کے بعد خطے کے امن کو تباہ و برباد کرنے کے لئے نئے منصوبوں پر کام کریں گے۔ لہذا ان کے شوم منصوبوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: امریکہ کی یقینی شکست
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں