(ڈاکٹر حفیظ ارحمان )

 مذاہب اور پیغمبروں کے نزول کی بنیادی وجہ دراصل صحت مند معا شروں کی تعمیر سے منسلک ھے،نہ کے انسان کو جنت کی راہ دکھانے کے لیے ھے ،یہ صرف ایک انعام کے طور پہ رکھا گیا ھے کے اگر ھم جس قدر ایک اچھے معا شرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں گے ،اسی قدر انعام سے نوازے جایں گے ۔

اب اس سارے نظام پہ غور کریں کے جہاں انسان کی پیدائش سے ھوتے ھوے   زندہ رکھنے سے لے کر تہزیب اور تمدن کے دائرے میں لانے تک اور اس کے لیے اس کائنات کو بھی تخلیق کرنا ،صرف اس لیے کے انسان ایک اچھے معاشرے میں رہ سکے اور ھوتا یہ ھے کے اسی معاشرے کے کچھ ہنجار اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ھو کر انسانیت کی قدروں کو اپنے پیروں تلے روند دیتے ہیں ،تو خالق کائنات کی اس بنیادی کاوش کو کس قدر زک پہنچتا ھو گا کے ایک اچھے معاشرے کی تعمیر کیونکر ممکن ھو گی اور یہ نہ خلفشار اس غلط فہمی کا شکار ھوں کے معافی مانگیں گے اور معافی مل بھی جایے گی ۔

اللہ تعالی کے نزدیک یہ کوئی دل لگی کا کھیل نہیں ،انتہائی سنجیدہ معاملہ ھے ۔

اسلام کے بنیادی فلسفہ جزا اور سزا پہ غور کیا جاۓ تو آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان ھے اور اگر سود لو گے تو اعلان جنگ ھو گا ‘اور روزے کا کفارہ ساٹھ بھوکوں کو کھانا کھلانا ھے ۔

گناہ کے بدلے بھی معافی تب ھی ملے گی جب اسی سطح کا نیک کام کیا جائے گا نہ کے  انسوں کی لڑیاں  پپرونے سے ۔

اگر اپ نے کسی کا دل دکھایا ھے تو ایسا کوئی نیک عمل کرنا ھو گا کے جس سے کسی کو خوشی حاصل ھو ۔

غرض ھر گناہ کا کفارہ کسی عملی نیک عمل سے منسلک کرنا ھو گا ،تب ھی توبہ ملے گی ۔

توبہ کی موجودہ روش کسی طرح بھی معاشرے کے لیے سود مند ثابت نہ ھو سکی ۔لاکھوں کروڑوں کی کریپشن کر کے ،ریٹائر ھو کر ،داڑھی رکھ کر اور حج کر کے یا کسی تبلیغی جماعت کا حصہ بن کر معافی مانگ لی لیکن مجال ھے کے اتنی اخلاقی جرات کریں کے ا عللاعلان لوٹا ھوا مال واپس کریں ،مال بغلوں میں دبا کر ایسی کسی توبہ کی قبولیت  ھو سکتی ھے ۔

المختصر پاکستان جہان نناوے فی صد مسلمان رہتے ھوں اور ایسا کوئی مسلمان نہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے واقف نہ ھو یا اسے واقف ھونے کے لیے سہولیات کی فراہمی نہ ھو اگر ایسے کسی معاشرے میں غلیظ ترین گناہ ھوتے ھوں تو پھر یقینن اسلام کی ترویج اور تعلیم کو پہنچانے میں کوئی بنیادی سقم رہ گیا ھے اور اس پہ مکالمے کی اشد ضرورت ھے ۔


افکار و نظریات: توبہ, حصہ ب