اللہ اور مسلمان

(ڈاکٹر  حفیظ ارحمان )

ھمیں ایک سوال کا جواب تلاش کرنا ھے اور شائد اسی جواب میں ھمیں اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجھنے میں مدد ملے ۔کیا مسلمان اللہ کے لیے ھے یا اللہ کا ھے ؟

مذاہب کی تاریخ کو اگر اٹھا کر دیکھیں تو انسانوں نے کائنات کے اسرار رموز کو جاننے اور سمجنھے کے لیے دیومالائی کہانیوں اور قصوں کو جنم دیا اور اس میں دیوتاؤں اور دیویوں کے وجود کو تخلیق کیا گیا اور پھر ان مافوقالفطرت تخلیقات کو اپنے اوپر اس حد تک ھاوی کیا گیا کے جس سے اس نظریے نے جنم لیا کے آسمانی مصیبتوں اور تکلیفات سے اگر بچنا ھے تو ان دیوتاؤں اور دیویوں کی خوشنودی حاصل کرنا ھو گی ۔اس خوشنودی کو حاصل کرنے کے لیے مختلف قسم کے رسوم و رواج کی تخلیق کی گئی اور یہاں تک کے انسانوں کی قربانی یا بلیدان تک کا تصور دیا گیا اور پھر اس میں یہ بھی ھوا کے نوجوان اور کنواری دوشیزاوں کی قربانیاں تک ھوئی ۔

انہی فرسودہ رسمو رواج اور غیر انسانی توہمات کو ختم کرنے کے لیے پیغمبروں اور الہامی کتابوں کا نزول ھوا اور ایک ایسے اللہ کا تصور پیش کیا گیا ،جو خوف و دھشت کی علامت نہ تھا بلکے پیار اور محبت کی نشانی تھا ،جو انسانوں کی قربانی نہ مانگتا تھا بلکے یہ کہتا ھے کے اگر میں اپنے حوالے سے تو حقوق کو معاف کر دوں گا لیکن انسانوں کے انسانوں پہ حقوق کی معافی کی ضمانت نہیں دے سکتا تو گویا اس نے یہ پیغام دیا کے تمہیں تخلیق اس لیے کیا گیا ھے کے اپسمیں اگر میرے بتائے ھوئے رستے پہ چلو گے تو خوش و خرم رہ ہو گے ۔

آج کے مسلمان نے اس سوچ اور فکر کو پروان چڑھایا کے اس کا مقصد اللہ کی خوشنودی حاصل کرنی ھے اور اللہ ،صرف عبادات کی قبولیت سے ھی خوش ھوتا ھے ۔

اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی حد تک تو بات ٹھیک ھے لیکن کیا یہ صرف عبادات میں ھی پنہاں ھے ۔

آئیے ھم ان عبادات کا تجزیہ کرتے ہیں کے ان کا مقصد کیا ھے ۔

نماز کا بنیادی مقصد انسانی کردار کی اس طرح سے تعمیر کرنی کے جس میں نظم و ضبط ،میل ملاپ اور عاجز و انکسار کا پہلو اجاگر ھو ۔

اب اگر ایسی نماز جو کردار کے اس پہلو کی تعمیر نہیں کر پاتی اور صرف اس تصور سے پڑھی جائے کے مات ھوں پہ محرابوں کے بنانے سے اللہ خوش ھوا تو یہ ھماری بھول ھے ورنہ تو عبادات کے لیے فرشتے ھم سے کہیں آگے ہیں ۔

زکوتہ کا بنیادی مقصد غربا اور مساکین کو تن آسانی فراہم کرنی ھے ورنہ اللہ کو ان نوٹوں اور سکوں سے کیا کام ، حج پھر ایک اجتمائی عمل ھے ،جس میں محبت و یگانت کو فروغ دینا ھے ،ایک ایسا حج کس کام کا کے جس میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے چکر میں انسانوں کو ھی روند دیا جایے کیا ایسے حج سے کونسا اللہ خوش ھوا ھو گا اور کیا روز قیامت ایسے تمام حجاج سے پوچھا نہ جائے گا اور کیا اس وقت کے امیر حکومت کی پرسیش نہ ھو گی ۔

(جاری)


افکار و نظریات: اللہ اور مسلمان