اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مالک اشتر اسلام سے متعلق جن کتابوں کو میں نے بار بار پڑھا ہے، ان میں مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت سرفہرست ہے۔ مولانا کی یہ تصنیف بلا شبہہ ان کی سب سے متنازع اور سب سے مقبول کتاب ہے۔ مولانا نے اس کتاب میں اس سوال پر گفتگو کی ہے کہ اسلام میں مملکت کا نظام خلافت راشدہ سے اموی اور عباسی ملوکیت کی طرف کیسے منتقل ہو گیا؟ گفتگو میں کئی ایسے نکات بھی آئے جن پر بہت سوں کو اعتراض ہوا۔ ان میں خلیفہ ثالث حضرت عثمانؓ،حاکمِ شام اور ام المومنین حضرت عائشہؓ کے بعض اقدامات پر تبصرے خاص طور پر تنازِع کا سبب بنے۔ کچھ لوگوں نے مولانا مودودی پر سخت تنقید کی، کچھ افراد نے کتاب کی رد میں کتابیں لکھ ڈالیں اور کچھ تو اتنے آگے نکل گئے کہ ان پر شیعہ ہونے یا شیعوں کی وکالت کرنے سے ملتے جلتے الزامات بھی دھر دیے۔ مولانا نے کچھ اعتراضات کا خود جواب دیا، کچھ جواب ان کے معتقدین اور معاصر اسکالروں نے دیے اور کچھ جواب آج تک جماعت اسلامی سے متعلق افراد دیتے آ رہے ہیں۔ اس پوری بحث میں سب سے زیادہ زیادتی مولانا اور ان کی تصنیف کے ساتھ ہوئی۔ معترضین نے کچھ نکات کے سبب پوری کتاب ہی کو مسترد کردیا اور اس کی معتبریت کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مولانا نے نہ تو مناظرے کی کوئی کتاب لکھی تھی اور نہ ہی وہ تاریخ کا محاکمہ کرنے بیٹھے تھے۔ کتاب میں جو تاریخی واقعات درج کیے گئے ہیں، وہ سب خلافت اور بادشاہی کے درمیان فرق اور ملک گیری کے اسلامی نظریے کی وضاحت کے ذیل میں بیان ہونے ضروری تھے۔ مولانا اور ان کی کتاب کے ساتھ زیادتی یہ ہوئی کہ بحث کے فروعی نکات کو پکڑ کر اصل مباحث کی معتبریت کو مسترد کر دیا گیا اور آج تک بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں ہیں، کہ شاید مولانا نے مناظرے کی کوئی کتاب لکھی تھی۔ مولانا کے سلسلہ میں ایک بہت بنیادی بات یہ یاد رہنی چاہیے، کہ وہ نہ تو مورخ ہیں، نہ مناظر ہیں اور نہ علم کلام ان کا میدان ہے۔ مولانا کی فکر کا محور اسلام شناسی ہے۔ وہ مذہب کو اس کے سیاسی پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے ان کو دین شناس سمجھ کر ہی پڑھنا چاہیے۔ مولانا نے خلافت و ملوکیت لکھ کر ایک اہم سوال پر گفتگو کرنے کی کوشش کی کہ اسلام میں ریاست اور ریاست داری کا کیا تصور ہے؟ رسول اسلام اور خلفائے راشدین کے دور میں ریاست کا نظام کن بنیادوں پر قائم رہا اور بعد میں یہ ملوکیت یا بادشاہی میں کیسے بدل گیا؟ اب ظاہر ہے اگر ان عوامل کا ذکر آئے گا جو کہ خلافت راشدہ کے بعد ملوکیت کی مضبوطی کی بنیاد بنے تو تاریخی حقائق تو بہرحال درج کرنا ہوں گے۔ مولانا سے پہلے ممکن ہے بہت سوں نے اس معاملہ پر کچھ لکھنے کا سوچا ہو لیکن ممکنہ تنازِع اور گفتگو کے حساس نکات کا خیال کرکے چپ ہو گئے ہوں، لیکن مولانا نے اس معاملہ پر لکھ دیا۔ اب مولانا پر اس وقت اعتراض جائز ہو سکتا تھا جب کہ ان کے ذریعے درج کوئی تاریخی واقعہ بلا حوالہ ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے اور ایک ایک بات کے کئی کئی حوالے درج ہیں اس لیے مولانا کو گھیرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس کتاب میں جن کتابوں سے واقعات اخذ کیے گئے ہیں، ان سب تاریخی کتابوں کی حیثیت کتب جمہور کی ہے۔ اس لیے اگر کوئی واقعہ متنازِع ہے تو وہ خلافت و ملوکیت سے پہلے اپنے اصل مآخذ میں بھی متنازِع مانا جانا چاہیے۔ یہ انصاف نہیں کہ ایک واقعہ طبری میں درج ہونے تک قابل قبول ہے اور خلافت و ملوکیت میں درج ہوتے ہی اشتعال انگیز بن گیا۔ اس سلسلہ میں میرا اصرار یہ رہا ہے کہ خلافت و ملوکیت میں متنازِع حصے کو اگر ملایا جائے تب بھی یہ اصل کتاب کا آدھا بلکہ چوتھائی فیصد بھی نہیں بیٹھتا۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں جو منطقی استدلال اور بحث کا ہے جس کا تاریخی واقعات سے کوئی لینا دینا نہیں اور جو مکمل طور پر اسلام کے نظریہ ریاست سے متعلق ہے اس کی اہمیت کیا ان چند سطور کے سبب خارج کر دینا انصاف کی بات ہے؟ اس سلسلے میں ایک دلچسپ بات کا یہاں ذکر کردینا مناسب ہوگا۔ کچھ مہینے پہلے مجھے جماعت اسلامی ہند کے صدر دفتر میں واقع مرکزی مکتبہ اسلامی جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں صحابہ کی فضیلت پر مولانا مودودی سے منسوب ایک کتابچہ رکھا نظر آیا۔ میں نے جب الٹ پلٹ کر دیکھا تو اس میں مولانا کی مختلف کتابوں کے وہ چھوٹے چھوٹے اقتباسات درج تھے، جن میں مولانا نے صحابہ کی فضیلت بیان کی تھی۔ مطلب یہ کتاب الگ سے مولانا کی کوئی کتاب نہیں تھی۔ اب اندازہ لگائیے کہ خلافت و ملوکیت کے سبب مولانا پر جو الزام تراشی ہوئی، ان الزامات کو دھونے کے لیے جماعت اسلامی والوں کو الگ سے یہ کتابچہ ترتیب دینا پڑگیا۔ یہ وہ غلطی ہے جو مولانا اپنی موجودگی میں کرنے کی شاید اجازت نہ دیتے۔ خلافت و ملوکیت پر تنقید تو مولانا کی زندگی ہی میں خوب ہوئی تھی۔ ان پر صحابہ کا ناقد ہونے کا الزام اس وقت لگ چکا تھا لیکن مولانا نے ایسی کوئی کتاب لکھنے کی کوشش نہیں کی، جس سے صحابہ سے ان کی عقیدت کا اظہار ہوتا ہو۔ دراصل ایسا تو مولانا کے مخالفین چاہتے تھے کہ ان کو دفاعی پوزیشن میں دکھایا جائے۔ صحابہ کرام سے مولانا کی عقیدت کو الگ سے کسی سند کی ضرورت نہیں ہے خود خلافت و ملوکیت میں خلفائے راشدین اور دیگر اصحاب کا ذکر مولانا نے جس عقیدت سے کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ حتی کہ مولانا نے جن حضرات کے اقدامات پر بات کی ہے ان کی بھی بزرگی اور عظمت کا وہ بار بار اعتراف کرتے ہیں۔ مولانا کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی کیا ہوگی کہ صحابہ کرام کے لیے ان کی عقیدت کو ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ جن افراد کو مولانا سے چڑ ہے وہ یقینا کسی بھی تاویل و توجیہ کے باوجود بھی اپنے موقف پر نظر ثانی کرنے سے رہے لیکن ایسے افراد جنہوں نے مولانا کے بارے میں سن کر رائے قائم کی ہے ان کو ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ مولانا شیعہ نظریات کو فروغ دے رہے تھے یا سنی نقطہ نظر کو؟ اس قسم کے سوالات کرنا ہی بے سود ہے۔ خلافت و ملوکیت شیعہ سنی کی بحث پر ہے ہی نہیں، یہ کتاب خالص طور پر اسلام کے نظریہ ریاست و حکومت پر گفتگو ہے اور اس کو بس اسی نظر سے دیکھنا سمجھنا چاہیے۔ ان کے تجزیہ سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن کسی کو سرے سے خارج کر دینا انصاف نہیں۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: خلافت و ملوکیت پر ایک علمی تبصرہ
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں