خالصیت اور شیخیت

اہلِ تشیع میں خالصیت اور شیخیت دو ایسے مکتب ہیں جن کی شناخت بہت ضروری ہے۔ ہم پہلے خالصیت کا ذکر کریں گے اور پھر شیخیت کا۔ ہم ابتدا میں ہی یہ بیان کر رہے ہیں کہ ہم نے ایسے منابع سے استفادہ کیا ہے جو سب کے سب نیٹ پر موجود ہیں۔ قارئین خود سے بھی مطالعہ کر سکتے ہیں۔

مذہبِ جعفریہ اپنے آپ کو دوسرے مذاہب اسلامیہ میں ابتدائی اور منفرد سمجھتا ہے۔ البتہ اس مذہب کے اندر سے جس پہلے شیعہ عالم نے اس مذہب کی بہت ساری چیزوں کو خرافات اور بدعت کہا ان کا نام آقای شیخ ابراہیم زنجانی متوفی ۱۸۹۵ عیسوی ہے۔موصوف شیخ فضل اللہ نوری کا محاکمہ کرنے والی عدالت کے قاضی بھی تھے اور اُن کے اعدام کا حکم بھی اِ نہوں نے ہی صادر کیا تھا۔[1] [2]

وہ اپنے زمانے کی ایک بڑی سیاسی شخصیت تھے اورشید اپنے تئیں مذہب جعفریہ کو بھی ایک ایسے سیاسی قالب میں دیکھنا چاہتے تھے جو تمام مذاہب کے لئے قابلِ قبول ہو۔ تاہم انہیں شہید مدرس جیسےاپنے زمانے کے برجستہ شیعہ علما کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔[3]

ان کے بعد آیت اللہ ھادی نجم آبادی نے ان کے مشن کو آگے بڑھایا اور "تحریر العقلاء" کے نام سے شہرہ آفاق کتاب لکھی۔[4]ان کے بعد آیت اللہ اسد اللہ خارقانی نے جو آیت اللہ ھادی نجم آبادی کے شاگرد تھے انہوں نے بھی "محو الموھوم" نامی کتاب لکھ کر جعفریوں کی بہت ساری مذہبی کمزوریوں ہر انگلی اٹھائی۔[5]

ان کے بعد ان کے شاگرد آیت اللہ شریعت سنگلجی نے اپنے استاد آیت اللہ خارقانی کی مشن کو آگے بڑھایا اور اہل تشیع کو توحید کی طرف راغب کرنے کیلے "توحید عبادت یا یکتا پرستی" نامی کتاب لکھی۔

اس کے بعد آپ نے شیعہ عقیدہ "رجعت" کے باطل ہونے کے متعلق"اسلام رجعت" نامی کتاب لکھی جو آپ نے اپنے شاگرد عبدالوھاب فرید تنکابنی کے نام سے شائع کی۔انہوں نے ایک اور کتاب "محوالموھوم" لکھی اور اس کو اپنے شاگرد "حسینعلی مستعان" کے نام سے شائع کیا۔جس میں آپ نے یہ بات ثابت کیا کہ حضرت عیسی ع کی وفات ہو چکی اور ان کے علاوہ حضرت خضر اور الیاس بھی زندہ نہیں ہیں۔

آیت اللہ شریعت سنگلجی کی شاگردوں میں احمد کسروی،علی اکبر حکمی زادہ ،سید جلال جلالی ،حیدر علی قلمداران اور ڈاکٹر صادق تقوی شامل ہیں جنہوں نے بعد میں اصلاح شیعت کے موضوع پر بہت سی کتب لکھیں،خاص طور پر علی اکبر حکمی زادہ کی کتاب "اسرار ہزار سالہ" تو بہت مشہور کتاب کے طور پر سامنے آئی جس کے جواب میں امام خمینی نے "کشف الاسرار" نامی کتاب لکھی۔

جس کے بعد ڈاکٹر موسی الموسوی نے "الشیعہ والتصحیح" نامی کتاب لکھی،اور شیعہ نوجوانوں کی بیداری کے عنوان سے "اے دنیا کے شیعو بیدار ہوجاؤ" نام کی کتاب بھی لکھی اور ولایت فقیہ کے رد میں "امام خمینی فی المیزان" لکھی۔[6]

دوسری طرف عراق میں احمد الکاتب نے اہل تشیع کو خرافات اور بنیادی عقائد میں موجود غلط نظریات کو ختم کرانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے" تشیع سیاسی و تشیع دینی" ،"شیعہ سیاسی فکر کی ارتقاء اور ولایت فقیہ" اور امام مھدی کے وجود کے انکار پر تین کتابیں لکھیں جن میں سے سب سے مشہور کتاب "امام مھدی حقیقت یا ایک افسانہ" نامی کتاب مقبول ہے۔[7]

اسی طرح شیخ محمد بن محمد مھدی الخالصی کاظمین عراق 19۶۳ ء میں پیدا ہوئے. اوربعد ازاں انکی وفات کاظمین عراق میں ہی ہوئی.انہوں نے نے بعض شیعہ عقاید واحکام کو انحرافات کہا اور انہیں بدعت قرار دیا اور انکا انکار کیا. مثال کے طور پر جیسے :

1- آئمۃ علیہم السلام کا غائب کا علم رکھنے سے انکار کرنا .

2- انکی ولایت تکوینی سے انکار.

3- غیر اللہ سے مدد مانگنے سے انکار.

4- اولیائے کرام اور آئمۃ علیہم السلام سے مدد مانگنے کو ناجائز سمجھنا

5- آذان میں شہادت ثالثۃ کو بدعت سمجھنا ، وغیرہ وغیرہ

ظاہر ہے پاکستان بھی خالصیت کے زیر اثر رہاہے اور پاکستان میں بھی ایسی بہت ساری کتابیں موجود ہیں جن میں خالصی نکتہ نگاہ سے مذہب جعفریہ کی تحلیل کی گئی ہے۔

مثلاً:خالصی علما کے عقائد کے مطابق شفاعت ، توسل ، کسی کےمرنے کے بعد سوئم اور چہلم کے موقع پر اور خصوصاقبر وں پر دعا سے انکار کیا گیا ہے، اسی طرح اذان اور کلمے میں علی ولی اللہ کا انکار بھی کیا گیا ہے جوکہ در اصل خالصی مذہب کا شعار ہے۔

البتہ ضروری نہیں کہ سارے خالصی علما ان ساری چیزوں کا ایک ہی طرح سے انکار کرتے ہوں ، اس میں شدت اور ضعف پایا جاتا ہے۔

اس کے بعد شیخیت پر بھی ایک نگاہ ڈالتے ہیں:۔

شیخیت کے بانی شیخ احمد احسائی (1775ء تا 1826ء) ہیں، انہوں نے اس نے انیسویں صدی میں اہل تشیع کے درمیان میں ایک تحریک (مکتبۂ خیال) کی بنیاد رکھی جس کو شیخیہ کہا گیا ، بعد میں اس تحریک کی راہنمائی شیخ احمد احسائی کے ایک طالب علم ، سید کاظم رشتی (1793ء تا 1843ء) کو دی گئی؛ ان دونوں ابتدائی اشخاص کا تعلق اثنا عشریہ اہل تشیع سے تھا جبکہ پانچ پشتوں قبل شیخ احمد احسائی کے اجداد سنی تفرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ شیخ احمد احسائی کا رجحان ، تصوف میں پائے جانے والے تصورات؛ مشاہدۂ نفس، گوشہ نشینی اور رہبانیت کی جانب مائل تھا اور انہیں ذاتی طور پر بصارت کے تجربات بھی درپیش آچکے تھے۔

کاظم رشتی کی جانب سے اسلام کے عمومی اجتماع سے الگ انتہا پسندانہ رجحانات ان کی موت کے بعد دو تفرقوں کی بنیاد بنے؛ ایک کی راہنمائی حاج محمد کریم خان کرمانی (1810ء تا 1817ء) کو ملی جبکہ دوسرا سید علی محمد شیرازی (1819ء تا 1850ء) کے گرد مرتکز ہوا۔ اول الذکر نے شیخ احمد احسائی کی شدت پسند تعلیمات سے دور رہتے ہوئے مجموعی طور پر اہل تشیع سے تعلق استوار کرنے کی کوشش کی اور بعد الذکر نے ایسے خیالات پر عمل جاری رکھا کہ جن کو علماء کی اجتماعیت قبول نہیں کرتی تھی ، سید علی محمد شیرازی نے اپنے لیے باب کا لقب اختیار کیا۔ اس بات کی شہادتیں ملتی ہیں کہ سید محمد شیرازی کے اپنے لیے باب کا لقب اختیار کرنے سے بہت قبل ، شیخیہ میں ایسے افراد بھی تھے کہ جو شیخ احمد احسائی اور سید کاظم رشتی کے لیے بابان (فارسی برائے ابواب) کا تصور رکھتے تھے؛ شیخ احمد احسائی کی تعلیمات سے متاثرہ اس دوسرے فرقے سے ہی، جس کی قیادت سید علی محمد شیرازی (باب) کے ہاتھ میں تھی ، بابیت (Babism) کی بنیادیں تیار ہوئیں.[8]

یہاں پر یہ بھی قابل ذکر ہے کہ شیخیوں سے اخباریوں کے باہمی رابطے کے متعلق مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ انکے بزرگان اخباریوں سے کسی بھی طرح کے رابطے کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن ان کے مخالفین شیخیوں و اخباریوں کے درمیان بعض بنیادی رابطے کے قائل ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ شیخی مسلک کی پیدائش اخباری مکتب کے افکار سے متاثر رہی ہے۔[9]

شیخیت بعض نمایاں عقائد مندرجہ زیل ہیں:۔

1- آئمۃ علیہم السلام کے حوالے سے غلو کرنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے اب اپنے کام سب انکو سونپ دیئے اور اب اختیار انکے پاس ہیں اب اللہ کے پاس کچھ باقی نہیں. وہی خالق ورازق ہیں اور وہی زندگی وموت عطا کرتے ہیں.

2- چہاردہ معصومین علیہم کے علاوہ کوئی حاجت روائی نہیں کر سکتا.

3- میعاد جسمانی کا انکار : انکے مطابق انسان کے دو جسم ہے ایک مادی محسوس کرنے والا اور دوسرا غیر مادی. اور شیخی عقیدے کے مطابق قیامت کے دن مادی اور محسوس کرنے والے جسم کا حساب نہیں ہو گا. اسکو سزا وجزاء بھی نہیں ملے گی.بلکہ غیر مادی جسم کو سزاء وجزاء ملے کی.

4- روحانی جسم سے رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج پر گئے تھے. اور اسی جسم کے ساتھ ہی حضرت امام مھدی علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں.

5- عقیدہ کشف: کہ اگر انسان اپنی طہارت کر لے تو پھر وہ جب چاہے کسی معصوم امام سے ملاقات کر سکتا ہے اور ڈائرکٹ ان سے راہنمائی حاصل کر سکتا ہے. اور پردے اسکی آنکھوں سے ہٹ جاتے ہیں. اور شیخ احمد احسائی کے بقول انہوں نے سارے علوم اسی طریقے سے حاصل کئے ہیں.

6- انکا اعتقاد ہے کہ عصر غیبت امام معصوم میں امام کا ہر دور میں ایک نائب خاص ہوتا ہے.


[1] استفادہ از https://fa.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%87%DB%8C%D9%85_%D8%B2%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C

[2] https://fa.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D9%81%D8%B6%D9%84%E2%80%8C%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87_%D9%86%D9%88%D8%B1%DB%8C

[3] https://www.mashreghnews.ir/news/334223/%D8%A7%D8%B2-%D8%B5%D8%A7%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D9%86-%D8%AD%DA%A9%D9%85-%D8%A7%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D9%85-%D8%B4%DB%8C%D8%AE-%D8%B4%D9%87%DB%8C%D8%AF-%D8%AA%D8%A7-%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DA%AF%DB%8C-%D8%A8%D9%87-%D9%81%D8%B1%D9%82%D9%87-%D9%88%D9%87%D8%A7%D8%A8%DB%8C%D8%AA

[4] https://fa.wikipedia.org/wiki/%D9%87%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D9%86%D8%AC%D9%85%E2%80%8C%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C

[5] https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD_%D8%B4%DB%8C%D8%B9%D8%AA

[6]

[7] https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD_%D8%B4%DB%8C%D8%B9%D8%AA

[8] https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%AA

[9] http://ur.wikishia.net/view/%D8%A7%D8%AE%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C#cite_ref-41