اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مولانامحمدجہان یعقوب درددل کے واسطے پیداکیاانسان کو ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں ’’خدمت خلق‘‘ ایک جا مع لفظ ہے ،یہ لفظ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔ ’’خلق‘‘مخلوق کے معنی میں ہے اوراس کاروئے زمین پر رہنے والے ہر جاندارپراطلا ق ہوتا ہے اور ا ن سب کی حتی الامکان خدمت کرنا، ان کا خیال رکھنا ہمارا مذہبی واخلاقی فرض ہے، ان کے ساتھ بہتر سلو ک وبر تاؤکی ہدایت اللہ رب العزت نے بھی دی ہے اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات بھی اس سلسلے میں تاکید کرتی ہیں۔دین میں خدمت خلق کے مقام کو سمجھنے سے اس کے وسیع تر مفہوم کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ قرآن مجیدمیں جگہ جگہ ایمان لانے والوں کی جن اہم صفا ت کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ،یتیموں کی دیکھ بھا ل کرنا ،مسکینوں کو کھانا کھلانا بھی شامل ہے ۔اور ان صفات کی نہ صرف ترغیب دی گئی ہے ،بلکہ ان صفات کو نہ اپنانے پر بھڑکتی آگ کی وعید سنائی گئی ہے ۔ اللہ کے آخری نبی حضرت محمدﷺ نے اپنی پوری زندگی دوسروں کی خدمت میں گزاری ،آپ کی دعوت میں مخلوقات کی خدمت پر بہت زور ملتا ہے ۔قربان جائیے اس نبی ﷺ کی ذات پر ،جس نے عا لم انسانیت کی خدمت میں اپنی سا ری زندگی گزار دی اور ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ان کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ۔جب آپ نے پہلی اسلامی ریاست کی بنیا د رکھی اس وقت اپنے پہلے خطبے میں ارشاد فر مایا: ’’ افشواالسلام، واطعمواالطعام وصلواالارحام وصلوا والناس نیام ،تدخلوا الجنہ بسلام ‘‘۔ ترجمہ:سلام کو عام کرو ،کھانا کھلا ،صلہ رحمی کرو،راتوں کو قیام کرو ، اپنے اس رویے کے نتیجے میں سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جا ؤگے۔ یہ بھی خدمت خلق کی ایک صورت ہے۔ گویا جنت میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسانوں کے سا تھ اچھا برتا کیا جائے ،ضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔ ایک موقع پر اللہ کے رسولﷺ نے فر مایا: من لا یرحم لا یرحم ترجمہ:جو رحم نہیں کر تا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ہے ۔ اس ارشاد میں نہایت متاثرکن انداز میں مخلوق پر رحم کرنے اور انسانوں کے ساتھ رحمت و شفقت کا برتا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔یہ اسلام کی رحمت عامہ ہے جس کی تعلیم رحمتہ للعالمین ﷺنے دی ہے ،انسان، انسان ہونے کی حیثیت سے ہمدردی کا مستحق ہے،خواہ اس کا تعلق کسی قوم اور مذہب سے ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق وہی لوگ ہیں، جو اس کی مخلوق کے حق میں مہربان ہوتے ہیں ،لیکن جن کا برتا ؤمخلوق کے ساتھ ظالمانہ ہوتا ہے، وہ یہ ثابت کر دکھاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق نہیں ہیں،لہٰذا جو لوگ انسانیت کے رشتے کو کاٹیں گے اللہ تعالیٰ ان سے اپنی رحمت کے رشتے کو کا ٹے گا ۔ایک حدیث میں بھی اس قسم کا مفہوم آیاہے۔ خدمتِ خلق مطلو ب بھی ہے اورمقصود بھی۔دین کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کوجہنم سے بچایا جائے۔ اگر کسی کا گھر جل رہا ہو اور اس کو بچایا جائے تو یہ خدمت خلق ہے ، اور اگر موت کے بعد وہ آگ میں گرنے والا ہو اور اس کو بچایا جائے تو کیا یہ خدمت خلق نہیں ہے ؟یقینایہ بھی خدمت خلق ہے۔ گویا مومن کی پوری زندگی ،چاہے وہ دعوتی نوعیت کی ہو، امدادی نوعیت کی ہو ،غرض کسی بھی نوعیت کی ہوخیر خواہانہ ہو نی چاہیے۔یہ سب کچھ اس خدمت کے زمرے میں آتا ہے ۔لیکن اس وقت امت کا سواد اعظم صرف مالی تعاون کو خدمت خلق سمجھتا ہے۔اس کو یہ نہیں معلوم کہ مالی تعاون ضروری تو ہے، لیکن اگر ہم اس کے ساتھ انسانوں کی ابدی کامیابی میں تعاون نہ کریں ،ان کو آگ میں جلنے سے نہ روکیں تو ہم سے اس کے بارے میں دریافت کیا جائے گا۔ ان آیات و احادیث سے معلوم ہوا کہ دین میں خدمت خلق کا کتنا جامع تصور موجود ہے۔اس کی عکاسی انسان کی پوری زندگی ،سوچ ،ذہن،دل ودماغ سے ہونی چاہیے۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی ایک شعبہ قائم کر لے اور مطمئن ہو جائے کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ ہر صاحب ایمان کو دل کی گہرائیوں سے اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا وہ ان خدمات کو انجام دے رہا ہے۔خدمت خلق کے لیے ضروری نہیں ہے کہ آپ کے پاس پیسا ہو ،بلکہ اس کے بغیر بھی آدمی پوری زندگی مخلوقات کی خدمت کر سکتا ہے۔خدمت خلق یہ بھی ہے کہ آپ کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ایک آدمی مال سے خالی ہاتھ تو ہو سکتا ہے لیکن وہ دل سے دوسروں کا خیال رکھ سکتا ہے، یہ بھی بہت بڑی خدمت ہے ۔ آپ کی زبان سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے،جب بھی بولیں بھلی بات بولیں ،دوسروں کا برا نہ سوچیں،ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں،لوگوں سے مسکرا کر ملیں یہ سب انسانوں کی خدمت میں شامل ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ ترجمہ:حقیقی مسلم وہ ہے جس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ انسان کے لیے دوسروں پر اپنا مال خرچ کرنا بہت مشکل کا م ہوتا ہے، کیوں کہ اس سے اس کو شدید محبت ہوتی ہے،لیکن اگر انسان کو اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین ہو، تو وہ کبھی بھی اللہ کی محبت پر مال کو ترجیح نہیں دے گا،ایسی صورت میں اس کو اپنے رب کا وعدہ ہمیشہ یاد رہے گا: میرے راستے میں خرچ کرومیں اسے دو چند کرکے دوں گا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو خطاب کرتے ہوئے کیا ہی پیارا جملہ ارشاد فرمایاتھا :’’اپنا مال خداوند کے پاس رکھو،کیونکہ انسان کا دل وہیں ہوتا ہے جہاں اس کا مال ہوتاہے‘‘۔ تمام آسمانی مذاہب میں مال کو جمع کر کے رکھنے سے منع اور مال جمع کر رکھنے والو ں کے لیے تبا ہی وبر با دی کا ذکر کیا گیا ہے ۔یہ انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ اپنے جیسے بے سہارا انسانوں پر اپنا مال خرچ کیا جائے،اس کے لیے ضروری نہیں کہ آدمی بہت ما ل دار ہو،تھوڑا مال ہو تب بھی اس طرح کی خدمت انجام دی جاسکتی ہے ۔کیوں کہ اللہ ہر ایک کی استطاعت سے بخوبی واقف ہے، وہ دلوں کے راز جانتا ہے اور اللہ کے نزدیک نیتوں ہی پر نیکیاں ہیں ۔ایک حدیث میں ہے :’ ترجمہ:اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے اعمال اور دلوں کو دیکھتا ہے ۔ خدمت خلق کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنی صلاحیت ،طا قت وقوت اللہ تعالیٰ کی راہ میں لگائے ،اس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں اور حالات کے لحاظ سے بدلتی بھی رہتی ہیں ۔نبی ﷺنے فرمایا ہے کہ :اگر اندھے کو راستہ نہیں ملتا،تم نے اسے راستہ بتا دیا تو یہ بھی خدمت ہے ۔راستے سے تکلیف دہ چیزکوہٹانا بھی صدقہ ہے ۔اس طرح کے بے شمار مواقع قدم قد م پر آتے رہتے ہیں ضرورت بس دل کی رضامندی ، نیت کی درستگی اور اللہ پر پختہ ایمان کی ہے۔ قرآن کریم میں اجتماعی کامو ں کو ترجیح دی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی امت کو مجتمع رہنے کی تا کیدفرمائی ہے ۔اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلے میں جماعت کی نماز کوکئی گنا افضل قرار دیا گیا ہے ۔یہ سب با تیں ہمیں بتاتی ہیں کہ اگر خدمت خلق کا فریضہ بھی ایک نظم اور اجتماعیت کے ساتھ ہو تو و نہایت اچھے طور سے انجام پائے گا ،کیونکہ اجتماعی کاموں میں ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کام جلداز جلد اورایک سسٹم اور نظم کے تحت پورے ہوتے ہیں۔ نیکی اور خدمت کے بہت سارے کام ہیں،لیکن یہ سارے کام تبھی درست اور باعث اجر وثواب ہوں گے جب آدمی کی نیت خالص ہو، کوئی اور غرض وغایت نہ ہو ،کوئی دنیوی مفاد پیش نظر نہ ہو، انسان کو اس کے کام کا اجر وثواب صرف اسی صورت میں مل سکتا ہے۔اگر ہماری نیت اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ جو کچھ ہم خدمت کر تے ہیں ،کھانا کھلا تے ہیں ،لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں ،کسی کا دل نہیں دکھاتے یہ صرف اللہ کی رضا اور آخرت میں نجات کے لیے ہے تواس پر اجر ہے اور دوسرے فوائد بھی کئی گنا حاصل ہوں گے ۔ لیکن نیت یہ نہ ہو تو آپ بیٹھ کر بار بار اس بات کا رونا روتے رہیں کہ ہم نے اتنا کام کیا اس کے باوجود لوگ ہمیں نہیں مانتے، ہماری نہیں سنتے تو یہ سب چیزیں نیت کی خرابی کا نتیجہ ہیں۔ یادرکھیے! سارا کام جو ہم کر رہے ہیں یہ بندوں کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے لیے ہے ،اللہ کے ہم بندے ہیں اورہم پریہ اللہ کا حق ہے۔ ایک لمبی حدیث میں اس کا بہت اچھا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ قیامت کے روز اللہ بندے سے پو چھے گا کہ میں بھوکا تھا ،پیا سا تھا، بے لباس تھا،تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا ،پانی نہیں پلایا ،کپڑا نہیں پہنایا۔۔۔ اور بندہ حیرت سے کہے گا :یا اللہ! توتو سب کا پرور دگار ہے، تو کیسے بھوکا ، پیاسا،بے لباس کیسے رہ سکتا ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میرا فلاں بندہ بھوکا تھا ،پیاسا تھا، بے لباس تھا ،اگر تو اسے کھلاتا ،پلاتا ، کپڑے پہناتا تو آج اس کا اجر یہاں پاتا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کوخدمت خلق کی جملہ صورتوں کے مطابق اپنی صلاحیتیں صرف کرنے اورمخلوق کے کام آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے آتے ہیں جو کام دوسروں کے **** مولانامحمدجہان یعقوب سینئر ریسرچ اسکالر،انچارج تخصص فی التفسیرواستادصحافت،جامعہ بنوریہ عالمیہ
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: خدمت خلق کا صحیح مفہوم
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں