اجمالی طور پر اجتہاد کا مطلب دینی مسائل میں مہارت حاصل کرنا اور صاحب نظر ہونا‘ لیکن اہل تشیع کے نقطہ نظر سے دینی مسائل میں صاحب رائے ہونے کی دو صورتیں ہیں‘ جائز اور ناجائز۔ اسی طرح تقلید کی بھی دو قسمیں ہیں‘ جائز و ناجائز۔

ناجائز اجتہاد

فقہ جعفریہ میں  ناجائز اجتہاد  یہ ہے کہ  مجتہد اپنی فکر اور اپنی رائے کی بنیاد پر کوئی  ایسی بات کرے  جو قرآن و سنت میں موجود نہیں ہے‘ اسے اصطلاح میں "اجتہاد بالرائے" بھی  کہتے ہیں۔ شیعی نقطہ نظر سے اس قسم کا اجتہاد منع ہے‘ لیکن اہل سنت اسے جائز سمجھتے ہیں۔

شیعہ نقطہ نظر سے اس طرح کا اجتہاد ناجائز ہے‘   اور پانچویں صدی تک شیعہ علما کے نزدیک کلمہ اجتھاد سے نفرت کی جاتی تھی،

پانچویں صدی میں شیعہ علما کو جائز اجتہاد  کے  حوالے سے عوام کو آگاہ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔

چونکہ اجتہاد کی اصطلاح معاشرے میں پہلے سے رائج تھی تو شیعہ علما نے بھی اسی کو استعمال کرکے اس کی صحیح تصویر پیش کی ۔

جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اجتہاد اب اہل سنت میں ختم ہو گیا ہے چونکہ وہ اجتہاد کے نام پر جس طرح کا اجتہاد کر رہے تھے  اگر وہ جاری رہتا تو ان کا مذہب ہی ختم ہو جاتا۔

اگر ہر مولوی  نے قرآن و حدیث سے جو سمجھا ہے اسے اجتہاد کہے گا تو  دین لوگوں کی سوچ کا ملغوبہ بن جائے گا۔ 

لیکن اہل تشیع کے ہاں  کسی کی ذاتی رائے کو اجتھاد نہیں کہتے بلکہ قرآن و سنت سے حکم شرعی کے کشف کرنے کو اجتھاد کہتے ہیں۔

ایک تحقیقی کے مطابق شیعوں میں اجتہاد و مجتہد کا لفظ اس معنی میں سب سے پہلے علامہ حلی نے استعمال کیا ہے۔

 علامہ حلی نے اپنی کتاب "تہذیب الاصول" میں "باب القیاس" کے بعد "باب الاجتہاد" تحریر فرمایا ہے‘ وہاں انہوں نے اجتہاد اس معنی میں استعمال کیا ہے جس معنی میں آج استعمال کیا جاتا ہے اور رائج ہے۔

پس شیعی نقطہ نظر سے وہ اجتہاد آج بھی ناجائز ہے جو قدیم زمانہ میں قیاس و رائے  اور کسی کی ذاتی سوچ کا نتیجہ ہوتا تھا۔ لیکن یہ اجتہاد  ضروری بلکہ واجب کفائی ہے جس سے  یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ فلاں مسئلے میں قرآن و حدیث کا یہ حکم ہے۔

جس طرح سارے لو گ عم طب حاصل نہیں کرسکتے ، یا کوئی بھی دوسرا علم ، جب  کچھ لوگ حاصل کر کے آتے ہیں تو عوام ان کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کی تقلید کرتے ہیں، اسی طرح علم دین بھی سب لوگ حاصل نہیں کر سکتے، لہذا جو لوگ علم دین میں ہارت حاصل کر کرتے ہیں اور عوام ان سے دینی مسائل پوچھ کر ان پر عمل کرتے ہیں اس عمل کو تقلید کہتے ہیں اور یہ قرآن و سنت نیز عقل کے عین مطابق ہے۔

 


افکار و نظریات: اجتہاد کسے کہتے ہیں, مجتہد کیا ہوتا ہے اور تقلید کیا ہے