اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات علم کی اہمیت و نوعیت)- تعلیمات اسلامی کے تناظر میں ( ISLAMIC VIEWPOINT ON THE IMPORTANCE AND CHARACTERICS OF KNOWLEDGE محمد ابراہیم محمدی ڈاکٹر ارشد منیر لغاری DOI: 10.6084/m9.figshare.4308821 Link: https://dx.doi.org/10.6084/m9.figshare.4308821.v1 ABSTRACT: Education is a basic requirement of all human being which leaves them blind and stranded when absent. Allah SWT, who is our creator and sustainer, has not only provided us opportunities to seek knowledge but also told us what is beneficial to learn and what is not. Allah SWT is “العلیم” (All Knowing), “الحکیم”(The Wise), and “الخبیر” (The All-Aware). From his unlimited knowledge, He has guided the mankind about the type of knowledge that leads to hikmah, direction, and guidance. It is also important to know that Allah SWT has not only provided human beings with the guidance about what is considered to be the beneficial knowledge but has also bestowed with the faculties of learning which enable him to pursue knowledge and awareness. However, in this quest of searching for knowledge, the man goes far beyond what can be considered as the Ilm An-Nafia or the beneficial knowledge. What is happening, as a result, is that despite the countless number of sciences and branches of knowledge being pursued and untamed flow of books and articles each day, the pain and misery of human beings is still prevalent. Wars and bloodshed are still spread all-around. The corruption is still prevalent. Political and economic subjugation is still a trend at personal, national as well as international level. This all earnestly calls us to reconsider the knowledge that we are pursuing and how does it help to solve the problems of humanity. This article is an attempt to reconsider the concept of knowledge and education from the Islamic perspective. Islam, being a universal religion which is not only a religion but a complete code of life, provides us clear guidance on what is the beneficial knowledge and what should be our approach towards attaining it. KEYWORDS: Importance of knowledge, Sources of knowledge, Sensory knowledge, Intellectual knowledge, Revelation ,Inspiration كليدي الفاظ : اہمیت علم ، ذرائع علم: حسی علم، فکری علم ، وحی ، الہام تعارف: علم فطرتاً اس قدر وسیع اور جامع ہے کہ اسلامی حکماء مثلاً امام غزالی اور فخرالدین رازی نے اس کی تعریف کے بجائے اس کے خصائص ، امثال اور تجزیہ کی دعوت دی ہے ۔ بہر حال علم کی یہی بات آج جدید ماہرین علم کہہ رہے ہیں ۔ سادہ ترین تعریف یہ ہے کہ علم کسی شے کے ادراک کو کہتے ہیں قرآن مجید میں ایک مقام پر اسے اسماء و تصورات کی خبر و آگہی قرار دیا ہے ۔ "وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا " قرآن میں علم کو بہت سارے معنوں میں مثلاً دلیل ، حق ، یقین کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جس سے اس تصور کی وسعت آشنائی کا قائل ہونا پڑتا ہے ۔ " کتاب اللہ کی رو سے علم انسانی سے مراد محض تصور ہی نہیں بلکہ اس کی تصدیق بھی اس میں شامل ہے حاصل شدہ علم کا تجزیہ کرنا ، اس کو پرکھنا اور تجزیہ کرنا بلکہ اس پر عمل کرنا یہ سب چیزیں علم میں شمار ہوتی ہیں "۔[1] گویا علم حقیقت اور یقین کے احاطہ و ادراک کو کہتے ہیں ۔ علم عطائے ربانی ہے اور خبر و آگہی اس کا تحفہ ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے کہ : عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْؕ۵ [2] یعنی انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا ۔ جو علم قلم سے نکل گیا وہ بہر صورت علم ہی ٹھہرا " علم بالقلم " ہاں اس کے مفید ہونے میں کلام ہو سکتا ہے علم اللہ کا نور ہے جس کی ایک تجلی عقل ہے اور بھی کئی تجلیات(Manifestations) ہیں جیسے کشف وجدان اور وحی و الہام جو علم یقینی ہے ۔ یہی اعلیٰ علم ہے اور دوسرا علم کسبی ہے جس کی کئی صورتیں ہیں جیسے حسی ، (Sensory) عقلی بد(Mentally ill) اور سماعی (Hearing)۔ یہ سب علوم ہیں مگر انہیں قطعیت(Accuracy) کا درجہ حاصل نہیں ۔ انہیں علوم ظنی(imaginary Knowledge) کہا جاتا ہے ۔ سائنس بھی گمان غالب(Believed) کے درجہ میں آتا ہے ۔ اسلام کے نزدیک ہر علم ، علم ہے ۔ بحیثیت علم اس کی حیثیت مسلم ہے البتہ اس کے برتر و کم تر ، مفید و ضرر رساں ہونے میں کلام ہو سکتا ہے ۔ سحر و طلسمات(Magic and Wonderland) یقیناً علوم ہیں مگر شریعت اسلامی نے ان کی مضرت کے پیش نظر انہیں حرام قرار دیا ہے ۔ حجۃ الاسلام امام غزالی ؒ اور علامہ ابن خلدون نے اس موضوع پر مفصل بحث کی ہے ۔ اسی طرح اسلام علوم کی طبقات بندی(Communities) کا قائل ہے بعض علوم فرض عین اور بعض فرض کفایہ ہیں بعض مقصدی علوم(Purpose Studies)ہیں اور بعض آلاتی علوم(Instrumental studies)۔ اسی طرح بعض یقینی علوم(Sure knowledge) ہیں اوربعض ظنی علوم(imaginary Knowledge) ۔ بعض مسلمان سکالرز(Scholars)جائزعلوم کوبھی"کج فطرت"(Evil Nature)اور"بدِگوہر" (Bad Impression) بتلاتے ہیں ۔ طبیعات(Physics) نہایت مفید علم ہے مگر جب وہ فطرت کو فاطر کا درجہ دے دیتا ہے اور حقیقی فاطر کا انکار کر دیتا ہے تو قرآن پوائنٹ آف آرڈر کر دیتا ہے ۔ اقتصادیات(Economics) کا علم بڑا مبارک علم ہے مگر جب وہ فی سبیل اللہ خرچ کو غیر اقتصادی فعل قرار دے اور سود کو بار آور معاشی حل کہہ دے تو اینٹی اسلام کہلاتا ہے ۔ مگر یاد رہے حلال علوم کا صرف وہی حصہ مردود ہے جو اسلام کی واضح تعلیمات سے ٹکرا جائے ۔ باقی سب کچھ جائز بلکہ انتہائی ضروری ہے اور وہ اسی طرح مقدس اور لائق احترام ہے کہ جس طرح دینی علم ۔دنیوی علم کی حیثیت تمام ترقیوں کے باوجود ظنی ہے یقین اور حتمی یقین کا درجہ اس کے مقدر میں نہیں ۔ "قرآن اصولی طور پر یقین کو ظن پر ترجیح دیتا ہے ۔ گمان کبھی بھی حق کا بدل نہیں بن سکتا اور نہ ہی وہ حق کا کچھ بگاڑ سکتا ہے ۔" یقین کے تین درجے ہیں ۔ 1۔ علم الیقین 2۔ عین الیقین 3۔ حق الیقین مگر ماورائی امور کی خبر علم الیقین کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ قرآن و حدیث یقینی علم کا ذریعہ ہیں ۔علم و عمل لازم و ملزوم ہیں۔ یہ دو ایسی عظیم الشان حقیقتیں ہیں جو ہمالا سے بلند و بالا اور سمندر سے زیادہ وسیع و عمیق ہیں ۔ اسلام کے تصور میں عمل از خود داخل ہے ۔ علم و عمل کی تفریق کافرانہ طرز عمل ہے ۔ قرآن قول و فعل کی ہم آہنگی پر زور دیتا ہے اور اس کی جدائی کو مذموم ٹھراتا ہے ۔ " يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۰۰۲ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۰۰۳"[3] یعنی اے ایمان والوں تم ایسی باتیں کیوں کرتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے اور اللہ کو اس بات پر بے حد غصہ آتا ہے کہ تم جو کہو اس پر خود عمل نہ کرو ۔ بقول اقبال " علم اس وقت کمال کو پہنچتا ہے جب وہ خر افروزیوں کے ساتھ ساتھ دل سوزیوں کا بھی آئینہ دار ہو آدمی محض اصول و قوانین کا ہی علم نہ رکھتا ہو بلکہ انسانوں پر بھی اسے لاگو کرتے ہوئے احساسات کا بھی خیال رکھے ۔ صورت حال کو نہ صرف عقلی لحاظ سے سمجھے بلکہ قلبی طور پر اس کی اندرونی سوزش میں بھی شریک ہو ۔ ایک مسلم کا علم سوز دل سے ہی تکمیل پاتا ہے "[4] دماغ سے نکل کر زبان پر آنے والا مگر عمل سے محروم علم اطلاع سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ۔ بقول النقیب العطاس : " یورپ ایمان کے لفظ سے بدکتا ہے ۔اسلام میں ایمان و یقین کو بہت بڑا درجہ حاصل ہے لہٰذا اسلامی علم ایمان و اعتقاد کو شامل کرتا ہے ۔ یہی اس کا طرہ امتیاز ہے ۔ بے شک ایمانیات کا علم نہایت مقتدر علم ہے بلکہ یہی اسلامی علم کی اساس ہے قرآن کی ہر آیت دعوت ایمان ہے اور قرآن ہی سب سے برتر علم ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ جب قرآن کا نزول علم خدا وندی سے ہوا ہو " [5] بقول نیلر : " علم میں اتھارٹی کا تصور مسلم ہے ۔ ماہرانہ علم بطور علمی قسم قابل اعتماد تصور کیا جاتا ہے۔ " [6] اسلام میں سب سے اعلیٰ علمی اتھارٹی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے وہ علیم و خبیر ہے جب کہ ماہر علم محض عالم و خابر کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر عالم پر ایک عالم حاوی ہوتا ہے ۔ " وَ فَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ۰۰۷۶"[7]یعنی ہر علم والے پر ایک علم والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے بعد نبی اکرم ﷺ تمام انسانوں میں علم و فضل میں سب سے بڑھ کر ہیں کیونکہ انسان فیضان الہٰی سے براہ راست مستفید ہوتا ہے ۔ بقول ابن خلدون : " صاحب شرع کے مآخذ علمی نہایت وسیع ہیں لہٰذا ماہرین علوم کا فرض ہے کہ ان دونوں ہستیوں کی علمی اتھارٹی کو صدق دل سے قبول کریں اور ان کے بیان کردہ حقائق و تعبیرات کو ذاتی حقائق و مفاہیم پر ترجیح دیں ایسا نہ کرنا عمل کی رو سے صریحاً جہالت اور اخلاق کی رو سے انتہائی درجے کی بے ادبی ہے۔ "[8] مزید ہم ماہرین تعلیم کی رائے کی روشنی میں تجزیہ کرتے ہیں ۔ بقول العطاس : " علم کی نوعیت کے بارے میں آخری نقطہ یہ ہے کہ علم نہ مکمل غیر جانبدار ہوتا ہے اور نہ مکمل معروضی " ۔ وہ وقت کے دھارے میں غسل کر کے ہی آگے پہنچتا ہے اور کسی نہ کسی تہذیب و ثقافت کا رنگ لئے ہوئے ہوتا ہے ۔ یورپی علم پر یورپی تہذیب کی چھاپ ہے کیونکہ وہ اسی تہذیب میں پیدا ہوتا ہے اور پروان چڑھتا ہے اور اسی آداب واطوارکو شعوری اور لا شعوری طور پر اپنا لیتا ہے لہٰذا مسلمان طالب علم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ دیکھے کہ علم کس سمت سے آرہا ہے اور کس رنگ کا نمائندہ ہے علمی تصور کی قدر و قیمت لگاتے وقت ایسا کرنا نہایت ضروری ہے ۔[9] علم کی تعریف بقول محمد قطب:" ہرعلم داخل ہے سب دینی و دنیاوی علوم و علمی اعتبار سے حق ہے ۔ البتہ ان میں فرق مراتب ضرور پایا جاتا ہے اور ان کے رفع و ضرر میں کلام ہو سکتا ہے "۔ [10] المختصر ! یہ کہ تمام علوم و فنون علم ہی کے برگ و بار ہیں اور ان سے انسانیت کی بھلائی اور رہنمائی کا کام لیا جا سکتا ہے اور ان تمام علوم و فنون کی روشنی میں دنیاوی تقاضوں کو پورا کر کے مزید ترقی کے دروازوں کو کھولا جا سکتا ہے ۔ علم کی اہمیت :(Importance of Knowledge) تہذیب و تمدن کے مراحل علم سے ہی روشن ہو جاتے ہیں ان میں ہی ان کی رفعت کا راز ممکن ہے ۔ یورپی تہذیب کا غلبہ علم و فن کا ہی مرہون منت ہے ۔ اسلام نے علم کو بے پناہ اہمیت دی ہے ۔ بقول پروفیسر محمد سلیم:" مغرب میں تحصیل علم لازمہ حیات اور اسلام میں اساس حیات ہے ۔قرآن میں اس کی اہمیت کا حال یہ ہے کہ لفظ علم مختلف اشتقاقی صورتوں میں 778 مرتبہ وارد ہوا ہے اور اس کی تحصیل پر انسانوں کو بار بار ابھارا گیا ہے علمی فضیلت کی بنیاد پر حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر برتری حاصل ہوئی اور خلافت ارضی ملی۔"[11] خود اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی ذات اور فرشتوں کے ساتھ ساتھ منصف مزاج اہل علم کو بھی گواہ ٹھہرایا اور یہ نہایت غور طلب بات ہے : " شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ" [12] اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ ایک ہے مگر اس کے فرشتے اور اہل علم لوگ انصاف پر قائم رہنے والے ہیں ۔ " اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ " [13] دراصل بندوں میں علماء ہی خدا کے مزاج دان ہوتے ہیں اور انہی کے دل خدا کے خوف سے تھر تھرا اٹھتے ہیں۔ مگر سب علماء یکساں ہیں ان کے مختلف درجات و مراتب ہیں جن کا لحاظ رکھنا ضروری ہے : " يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ " [14] علم ہی حق و باطل کا معیار اور وہی ہدایت و ضلالت کی کسوٹی ہے اس لئے جناب رسالت مآبﷺ کو حکم ہوا کہ جس چیز کا علم نہ ہو اس کی پیروی مت کیجئے گویا صحیح علم و اطلاع کے بغیر قدم نہ بڑھائیے : " وَ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ " [15] نہ یقین کریں ایسی بات کا جس کا علم نہ ہو ۔ قرآن کے بعد احادیثِ رسول ِمقبول ﷺعلم کی شان میں کثرت سے وارد ہوئی ہیں : "طَلَبُ العِلم فَرِیضَۃ عَلیٰ کُلِ مُسلِمٍ" [16] آپ نے حصول علم کے بارے میں اسلامی روایات کی عظیم الشان اور حقیقت پسندانہ کیفیت کا مطالعہ کیا ہے ۔ اب ذرائع علم کے حوالے سے جائزہ لیں گے ۔ ذرائع علم: (Sources of Knowledge) علم کے حاصل کرنے کے متعدد ذرائع ہیں ۔ اسلام ان تمام ذرائع اور ان ذرائع سے حاصل شدہ علم کو بحیثیت علم تسلیم کرتا ہے ۔ علم کے معروف ذرائع حواس ، عقل ، وجدان ، وحی و الہام اور تاریخی روایات ہیں اور ان سب کی حیثیت مسلم و معتبر ہے ۔ صورت حال یہ ہے کہ اسلام مختلف علمی منابع کی حد بندیوں اور ان کے مراتب و مدارج کا اعتراف کرتا ہے ۔ وہ ان کی قدر و قیمت ان ذرائع کی نوعیت ، مزاج اور ان کی فطری صلاحیتوں کے حوالے سے متعین کرتا ہے ۔ اس بارے میں ان کا رویہ بالکل سائنٹیفک اور حقیقت پسندانہ ہے ۔ جہاں حسی علم کا تعلق ہے حواس کو اہمیت دی جاتی ہے ۔جہاں عقل و قیاس کا واسطہ ہے دلائل و براہین کا تقاضا کیا جاتا ہے ۔ جہاں تاریخ و روایت سے کام چل سکتا ہے نقلی علم سے استشہاد کرنے پر ابھارا جاتا ہے : " فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۰۰۷" [17] "اگر تمہیں خبر نہ ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لیجئے " ۔ جہاں سب انسانی ذرائع علمی جواب دے جائیں اور یقینی جواب نہ دے پائیں تو اسلام اعلانیہ طور پر الہامی علم کو بیان کرتا ہے ۔ یہی آخری علم ہر لحاظ سے اعلیٰ اور یقینی ہے مگر اس کی اکملیت اور حتمیت سے دوسری علمی اقسام کے نمو اور استعمال پر کوئی آنچ نہیں آتی البتہ ان کی تصحیح و ترمیم کا عمل شروع ہو سکتا ہے گویا وحی و الہام دیگر علمی ذرائع کیلئے پرکھنے کا ایک معیار ہیں اور ان میں موجود علمی خلاؤں کو پر کرنے اور ان کی کجرویوں کو درست کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔ یہ تو دنیوی علوم کی سوشل سروس ہوئی اس سے دنیوی علوم کی نفی کیسے ثابت ہو سکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی ساری علمی روایت قرون اولیٰ سے لے کر آج تک معروف ذرائع علم کی نہ صرف معترف بلکہ قائل (Convincing)اور مؤید(Promoter)ہے ۔ اب ذیل میں تین اہم اقسام کی درجہ بندی پیش کی جائے گی۔ 1 ۔ حسی 2 ۔ فکری 3 ۔ الہامی حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں اقسام آپس میں حیاتیاتی طور پر باہم متصل و مربوط(Connect) ہیں اور ان میں باہم کسی قسم کا تضاد نہیں ۔ ابو الکلام نے کیا خوب لکھا ہے کہ : " یہ تینوں ایک دوسرے کی خدمت ، تواضع اور تکمیل کرتی ہیں ۔ ان میں کوئی فطری دشمنی نہیں ہاں ہر قسم کا مخصوص دائرہ عمل ہے جو اسے دیگر دائروں سے ممیز (Distinguished)کرتا ہے بہر حال ان کی آپس کی تعلق داری دوستانہ رویہ کی غماز (Represent)ہے نہ کہ مخالفانہ طرز عمل کی ۔ جیسا کہ غلطی سے یورپ امریکہ میں سمجھا جاتا ہے ۔ اسلام کا حسی علم نہایت ہی مفید اور معتبر ہے یہی حال عقلی و فکری علم کا ہے مگر ایسے امور پیش آجاتے ہیں کہ یہ دونوں ان کی گتھیاں(Complications) سلجھانے سے قاصر رہ جاتے ہیں ۔ اب یہاں وحی یا الہام مدد کیلئے آگے بڑھتے ہیں اور ہمیں صراط مستقیم پر لگا کر منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں۔ گویا جہاں فکر و حس کےپر جلتے ہیں وہاں وحی و الہام محو پرواز ہو جاتے ہیں ۔"[18] حسی علم (Sensory Knowledge) : تجربی اور تجرباتی عمل ایک زندہ حقیقت ہے ۔ اسلام اس علم کا قائل اور علمبر دار ہے بقول ڈاکٹر اقبال : " اسلام کا یوم پیدائش فکر استقرائی( Inductive Views) کا یوم ولادت ہے ۔ حقیقت اگر جانئیے تو اندلس کے عربوں نے ہی جدید سائنس کی بنیاد رکھی تھی ۔ سائنسی منہاج انہی کی کوششوں کا رہون منت ہے ۔ فرانسیسی محقق رابرٹ بریفو کی یہی تحقیق ہے جس کا اب یورپ معترف ہو چلا ہے ۔حسی علم حواس خمسہ کی تخلیق ہے اور حواس عطیہ ربانی ہیں ۔ اس عطیہ کا شکرانہ فرض ہے اور انہیں صحیح سمت میں استعمال کیا جائے ۔ ان کے استعمال کے مطابق باقاعدہ رب کے ہاں باز پرس(Questioned) ہو گی ۔"[19] مزید قرآن مجید کا فرمان ملاحظہ فرمائیے کہ : اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا۰۰۳۶[20] یعنی بے شک سماعت و بصارت اور دل کی تمام کیفیات کا مؤاخذہ (قیامت میں) ہو گا۔ قرآن بار بار مشاہدہ و فطرت کی دعوت دیتا ہے ۔ جیسا کہ یہاں ملاحظہ کیجئے کہ : "اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْٙ۰۰۱۷ وَ اِلَى السَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْٙ۰۰۱۸ وَ اِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْٙ۰۰۱۹ وَ اِلَى الْاَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْٙ۰۰۲۰"[21] کیا یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے تخلیق کیے گئے ہیں ؟ آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھایا گیا ؟ پہاڑوں پر نظر نہیں رکھتے کہ کیسے نصب کر دیئے گئے ؟ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھا دی گئی ؟ ڈاکٹر مشتاق احمد گوراہا "مشاہد فطرت" کے مطالعہ کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: "قرآن کی 6666 آیات میں 756 آیات مشاہدہ فطرت سے متعلق ہیں ۔ گویا 9/1 حصہ کتاب فطرت سے متعلق ہے ۔ مظاہر فطرت سے آنکھیں پھیر لینا اور ان کی تعبیر میں غفلت برتنا یہ سب باتیں قابل مؤاخذہ ہیں اگر ماہرین آثار قدیمہ تاریخی کھنڈرات کی زیارت سے محض سیر و تفریح کا کام لیں اور ان سے اعلیٰ سبق حاصل نہ کریں تو قرآن اس علمی روش کا سخت نوٹس لیتا ہے وہ مشاہدے کو زیادہ با معنی اور با مقصد بنانا چاہتا ہے اور اور اسے نچلی سطح پر جوں کا توں رکھنے کا قائل نہیں ۔ یہ ہے حسی علم کے بارے میں اسلام کا رویہ ۔"[22] اسی کیفیت کی تشریح کرتے ہوئے نیلر کہتا ہے کہ :"حسی علم کا پیراڈم جدید سائنس ہے ۔ سائنسی مفروضات کا مشاہدے یا تجربے کے ذریعہ تائید یا تردید کی جاتی ہے ۔ کسی بھی مفروضے کا کامل رد و قبول ممکن نہیں کچھ نہ کچھ کمی ضرور رہ جاتی ہے اس لئے قطعیت کی بجائے اغلبیت (Domination)یا امکانیت(Feasibility) کے حوالے سے بات کی جاتی ہے وجہ یہ ہے کہ کبھی بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل ماضی سے مکمل مطابقت رکھےگا اور جس طرح ایک صورت حال پہلے پیش آچکی ہے بعینہ وہی مستقبل میں بھی اسی انداز میں پیش آسکتی ہے ۔ [23] اور مزید تشریح کرتے ہوئےڈاکٹر مشتاق لکھتے ہیں کہ: " حسیات کبھی بھی دھوکہ دے جاتی ہیں مگر اس سے ان کی افادیت اور اہمیت پر حرف نہیں آتا ۔ ہاں یہ دعویٰ کہ ساری حقیقت صرف محسوسات تک محدود ہے اور ماورائے محسوسات سب فریب ہے ازروئے اسلام غلط اور خطرناک تصور ہے یہ خلاف حقیقت بھی ہے اور غیر مکتفی(Non-contained) بھی ۔ دور جدید میں فلسفہ وجودیت اس نقطئہ نظر کے خلاف پر زور صدائے احتجاج ہے ۔ [24] سائنسی تجربہ حق ہے مگر سائنسی حقیقت یا سائنسی فلسفہ سالم حق کا ترجمان نہیں ہوا کرتا یہی وجہ ہے اس حوالے سے ڈاکٹر عبداللہ لکھتے ہیں کہ: " سائنسی امر واقعہ اور سائنسی حقیقت کے درمیان حد امتیاز کھینچنے پر اصرار کرتے ہیں۔ اعداد و شمار اور حقائق خود نہیں بولتے سائنس دان ان کی زبان بن جاتے ہیں ۔ سائنس سے پیدا شدہ فلسفہ چونکہ عقلی تفکر(Mind Thinking)پر مبنی ہوتا ہے اور عقلی تفکر ہمیشہ حق کا ترجمان نہیں ہوتا ۔ اس لئے سائنسی تجربے کو بر حق ماننے کے با وجود سائنسی فلسفہ کو نقد و جرح کے بغیر قبول نہیں کرنا چاہئے اور جب قبول کیا جائے تو اسے محض ثانوی حیثیت دی جائے کیونکہ سائنسی نظریات برابر تغیر پذیر رہتے ہیں اور سائنسی حقیقت ابھی زیر تکمیل ہے "۔[25] اسی قسم کی باتیں مفصل انداز میں جدید سائنس کے مشہور نقاد جوڑ (1933) نے کی ہیں تو ثابت یہ ہوا کہ سائنسی علم نہایت مفید اور کار آمد شے ہے مگر سائنسی نظریات حرف آخر نہیں ان کے ردو قبول میں احتیاط لازمی ہے ۔ حسی و تجربی علم زندگی کا شدید تقاضا ہیں ان کے بغیر کاروبار حیات چل ہی نہیں سکتا اور مادی ترقی اور بہبود کا زیادہ تر دارومدار انہی علم پر ہے ۔ تسخیر کائنات(Invincible Universe) کا سارا ڈرامہ اسی کے بل بوتے پر کھیلا جا رہا ہے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے کارنامے زبان زد عام ہیں ۔ ان کی عظمت میں دن بدن تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور مستقبل میں عظیم الشان امکانات موجود ہیں ۔ اتنے مفید اور بار آور علم کو اسلام کیسے نظر انداز کر سکتا ہے اور جس علم پر خود خدا کا دست شفقت ہوا اسے اللہ کا رسول اور مومنین کیسے پس پشت ڈال سکتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے تجربی علم کی حوصلہ افزائی فرمائی ۔ مدینے کی کھجوروں کے پھل پھول بڑھانے والے تجربات کی آپ نے توثیق فرمائی اور ساتھ ساتھ تجربی اور الہامی علم کا فرق بھی جتلا دیا ۔ اسی طرح ٹیکنا لوجی میں آپ ﷺ نے خاصی دل چسپی لی ۔ ہم عصر بہتر جنگی ٹیکنالوجی سیکھنے کیلئے آپ ﷺ نے صحابہ کرام کی جماعت کو جرش کی طرف روانہ فرمایا ۔ حاکم شام نے بحری بیڑا تیار کرایا ۔ عباسیوں اور اندلسیوں کے سائنسی و فنی کارنامے ساری دنیا سے خراج تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ "[26] المختصر ! حسی علم کو حتمی قطعیت حاصل نہیں ہو گی ۔ ان کا گہرا مشاہدہ اور مطالعہ کر کے ان کی حقانیت اور قطعیت کے بارے میں کچھ کہا جا سکتا ہے ۔ ان کے معیارات کو الہامی علوم کی روشنی میں بھی مطالعہ کیا جانا نہایت طور پر مطلوب ہے ۔ فکری علم : (Intellectual Knowledge) اس کی تشریح میں رسل لکھتا ہے کہ : " اسے قیاسی یا برھانی(Speculative or above all of them)علم بھی کہا جا سکتا ہے ۔ یہ علم تفکر ، دلیل اور برہان کی پیدا وار ہے ۔ اس میں حسیات کا دخل نہیں ۔ منطق و فلسفہ فکری علم کے نمونے ہیں جہاں حسیات کی حدود ختم ہوتی ہیں وہیں سے فکر و فلسفہ شروع ہو جاتے ہیں ۔ قیاسی علم کے اصول حسی تجربات پر منطبق(Apply)تو کئے جا سکتے ہیں مگر ان سے مستخرج(Tributes)نہیں کیے جا سکتے ۔ قیاسی صداقتیں عالمگیر اور نہایت عمومی ہوتی ہیں ۔ افلاطون کے نزدیک صرف یہی علم صحیح معنوں میں سچا ہے ۔رہا حسی و تجربی علم تو اس کی حیثیت تو محض رائے کی ہے جو سدا تغیر پذیر ہے گویا سچا علم دائمی اور غیر متغیر ہے مگر یہ مثالیت پسندوں کا نقطہ نظر ہے ۔ دیگر فلسفیات مکاتب فکر اس بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں ۔ [27] بقول ڈاکٹر مشتاق : " فکری علم خالصتاً غور و فکر کا نتیجہ ہے ، عقل کی حیثیت مسلم ہے یہی حقائق محسوس کو معنی پہناتی ہے اور خزف ریزوں(Disposal sweeps)کو جوڑ کر موتی محل تیار کر دیتی ہے ۔ قرآن مجید عقل و شعور اور فکر و خیال کو ابھارنے اور پروان چڑھانے کا قائل ہے وہ اپنی تعلیمات کیلئے اپنی قوتوں کا اکثر سہارا لیتا ہے ۔ قرآن مجید پہلو بدل بدل کر تدبر ، تعقل ، تفکر اور فہم و شعور کی دعوت دیتا ہے اور بعض مسائل کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ حسی علم بالکل آؤٹ ہو جاتا ہے ۔ صرف عقل اور فکر کے ذریعے ہی ان گتھیوں کو سلجھایا جا سکتا ہے مثلاً تعلیمی ، اخلاقی ، سیاسی اور فلسفیانہ مسائل ۔ یہاں تجریدی فکر کی پھلجھڑیاں(Sparkles) چھوٹنے لگتی ہیں ۔ یہاں حق کا معیار صرف عقل سمجھی جاتی ہے جسے حسی اور الہامی علم سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔ عقل کا خیال ہے کہ وہ خود مکتفی(Contained)ہے ۔[28] فکری علم لا محدود نہیں ہے ۔ یہ شک سے شروع ہوتا ہے اور عموماً ظن و تخمین اور شک پر ہی ختم ہو جاتا ہے اورظن صداقت کا بدل نہیں بن سکتا اور نہ ہی حقیقت حال کا کچھ بگاڑ سکتا ہے ۔ ازروئے قرآن مجید : "وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔاۚ۰۰۲۸"[29] " یہ نہیں پیروی کرتے مگر گمان کی اور گمان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے " یقین اور حضور قلب عقل کی قسمت میں نہیں یہ کسی اور کا حصہ ہے ۔جس طرح بعض مسائل کے حل میں حسی علم بے بس ہے اسی طرح عقل بھی بہت سے مسائل کا حل پیش نہیں کر سکی ۔ ماورائی مسائل میں سوائے مذاق کے اس سے اور کچھ نہیں ۔ بقول ابن خلدون : " عقل جو کہ مثل سنار کے ترازو کے ہے وہ کیونکر پہاڑ تول سکتی ہے اور لطف یہ کہ فلسفی آج تک فکری ناپ تول کے پیمانوں پر متفق بھی نہیں ہو سکے ۔ زندگی کے بنیادی مسائل کے بارے میں ان میں آج تک شدید اختلاف چلے آ رہے ہیں " [30] برو با کرنے اپنی مشہور کتاب " Modern Philosophies of Education" میں اس بات کا رونا رویا ہے : " عقل کی تمام کوتاہیوں کے باوجود اسلام عقل کو اس کا جائز مقام عطا کرتا ہے ۔ اپنے دائرے میں عقل آزاد ہے مگر اسے دوسرے دائروں سے رابطہ رکھنے کی تلقین بھی کی جاتی ہے ۔ تلقین نہیں بلکہ اسے اطاعت کا بھی حکم ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کے حکم کے آگے عقل کو سر تسلیم خم کرنے کو کہا گیا ہے ۔ خدا ، نبوت ، آخرت ، جزا و سزا اور خیر و شر کی حقیقت بجز وحی و الہام ممکن ہی نہیں ۔ اسلام عقل کو وحی کے تابع رکھنا چاہتا ہے اور اس کی مکمل خود مختاری کو تسلیم نہیں کرتا ۔ بہر حال خدا اور رسول اکرم ﷺ کی دانش و عقل کو انسانی عقل پر فوقیت حاصل ہے " [31] المختصر ! اسلام کا عقل کے بارے میں یہ رویہ بالکل حقیقت پر مبنی ہے ۔ عقول میں بھی فرق مراتب ہے ۔ نبی ﷺ کی عقل انسانوں کی عقل سے برتر و اکمل ہے اور اس کو ہی خزانہ غیب سے استفادہ حاصل ہے ۔ جیسا کہ قرآن مجید نے بڑے واضح الفاظ میں اس کی یہ تشریح کی ہے ۔ سورۃ الجن میں اس کا تذکرہ ہے جس سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ عقلی علوم بھی محدود ہیں : " عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًاۙ۰۰۲۶ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ"[32] " کوئی بھی غیب پر مطلع نہیں ہو سکتا مگر جس (رسول ﷺ) کو اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے یہ علم دے دے "۔ وحی و الہام (Revelation and Inspiration) : اب ہم وحی و الہام کے حوالے سے جائزہ لیتے ہیں ۔ حسیات مادیات تک محدود ہیں آگے انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ یہیں سے فکریات کا مرحلہ آگے جاتا ہے اور وہ ماورائے محسوسات کو عقل و ذہن کی برقی لہروں سے چھونے کی کوشش کرتی ہیں مگر یہ ظنیات سے زیادہ درجہ نہیں رکھتیں ۔ جہاں فکریات تھک ہار کر بیٹھ جائیں اور حیرت زدہ ہو کر رہ جائیں وہیں سے نبویات یعنی وحی و الہام کا علم شروع ہو جاتا ہے ۔ جس حقیقت کے متعلق فلسفی عقلی اندازے لگاتا رہتا ہے ۔ اسے اللہ کا نبی یقین کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے ۔ گویا نبی حقیقت بلکہ حقیقت الحقیقت علم الیقین کی آنکھ سے نظارہ کر لیتا ہے۔حقیقت کے نظارہ کی تڑپ نبی میں موجزن رہتی ہے ۔ حضور اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے ۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ : " اے اللہ مجھے اشیاء کی حقیقت کا نظارہ کرادے " کیا اب بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ نبوی علم سائنس اور فلسفیانہ علم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ وہ ان سے فائق و برتر نہیں ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر مشتاق گوراہا کا یہ شذرہ ملاحظہ کیجئے : " نبوی علم عقلی طور پر استشہاد کیا جا سکتا ہے ۔ بو علی سینا ، غزالی اور دیگر مسلمان حکماء نے اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ہے ۔ بات یہ ہے کہ کائنات میں علم اور تعقل نے پستی سے بلندی کی طرف رفتہ رفتہ ترقی کی ہے ۔ انسان میں وہ دماغی اور ذہنی قویٰ ہیں جو حیوانات میں نہیں ۔ اسی طرح انبیاء میں علم و تعقل کی ایک ایسی قوت موجود ہے جو عام انسانوں میں نہیں ہوتی ۔اسے ملکہ نبوت یا وحی کہتے ہیں یہی ملکہ غیبیات(Supernatural) پر اطلاع پا لیتا ہے ۔ یہ علام الغیوب کا خاص عطا کردہ علم ہے جو منتخب ہستیوں " پیغمبروں " کو عطا کیا جاتا ہے یہ براہ راست اللہ کی طرف سے آتا ہے اور دنیاوی وسائک کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اسے وحی و الہام کہتے ہیں ۔وحی سے مراد اللہ کا اپنے دلی منشاء سے اپنے منتخب بندوں (انبیاء و رسل) کو کسی غیبی ذریعہ سے مطلع کرنا ۔ یہ اطلاع روحانی ذریعوں کی آخری سرحد ہے ۔ الہام سے مراد ایسا علم ہے جو بغیر کدو کاوش دل میں آجاتا ہے ۔ الہام پیغمبر کے علاوہ شعراء ، ادباء اور موجدین کو بھی حاصل ہو جاتا ہے" ۔ [33] درجہ کے لحاظ سے بلند مرتبہ اور زیادہ یقینی روحانی علم وحی ہے پھر الہام اور پھر کشف وحی کی تین قسمیں ہیں ۔ 1 ۔ اشارے سے بات کرنا ۔ 2 ۔ پردے کے پیچھے سے ہمکلام ہونا ۔ 3 ۔ فرشتے کے ذریعے کلام کرنا ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے : "وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَآءُ١ؕ "[34] " اور کسی آدمی کو تاب نہیں کہ کلام کرے اللہ تعالیٰ سے لیکن اشارے سے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی قاصد کو بھیجے تو وہ اللہ کے حکم سے اللہ جو چاہے اس کو وحی کرتا ہے " ۔ اللہ کا نبی اپنی مرضی سے کوئی بات نہیں کرتا وہ لوگوں سے وہی کچھ کہتا ہے جو اللہ تعالیٰ اس سے کہلوانا چاہتا ہے ۔ ارشاد ربانی ہے کہ : " وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ؕ۰۰۳ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى ۙ۰۰۴" [35] "وہ خود سے کچھ نہیں کہتے مگر جو انہیں وحی کے ذریعے کہا گیا ہو ۔" اس کی تشریح کے حؤالے سے ڈاکٹر مشتاق گوراہا کا یہ شذرہ ملاحظہ ہو کہ : " وحی و الہامی علم انسان کیلئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح حسی اور فکری علم ۔ دراصل یہ علم انسان کی باطنی زندگی کا شدید تقاضا ہے ۔ غالباً اسی لئے اقبال اسے باطنی تجربہ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ بہر حال زندگی کے نہایت بنیادی مسائل ایسے ہیں جو حس و فکر کی قوتوں سے مؤثر طور پر یقین و اعتماد کے ساتھ نہیں سلجھائے جا سکتے ۔ ان کے حل کیلئے نبوی علم کی ضرورت باقی رہتی ہے ۔ عمل کیلئے یقین ، جذبہ اور ذاتی مثال کی ضرورت ہوا کرتی ہے ۔ نبوی علم جذبہ و یقین بھی مہیا کرتا ہے اور ذاتی نمونہ بھی پیش کرتا ہے اور پھر ایسے مسائل کے بارے میں جہاں عقل حیران و پریشان رہ جاتی ہے اور یقینی بات کرنے سے قاصر ہے مثلاً حیات و کائنات کی پیدائش ، خالق کائنات کی ذات و صفات ، حیات بعد المات ، جزاء و سزا ، خیر و شر ، جبر و اختیار ، ہستی و نیستی ، روح و بدن ، پھر کتنے اقتصادی و معاشرتی ، اخلاقی و سیاسی اور روحانی مسائل ہیں جو نبوی علم کے بغیر مؤثر طور پر حاصل ہو ہی نہیں سکتے ۔ بیسویں صدی کی مہذب دنیا تا حال نسلی تعصب کو ختم کرنے کا نسخہ نہیں ڈھونڈ سکی ۔ یو نیسکو کی تحقیقات اپنے عجز و ناکامی کا کھلا اعتراف کر رہی ہے یہ اُمی کی زبان نبوت کا کرشمہ ہے کہ ایک ہی حکم میں عرب و عجم کے صدیوں کے پختہ تعصبات کو بھسم کر ڈالا ۔ اخوت ، مساوات ، عدل و انصاف ، رواداری ، محبت ، انسانیت نوازی غرضیکہ کتنے اعلیٰ اوصاف ہیں جن میں کوئی فلسفی اور سائنسدان نبی کا ہمسر نہیں ہو سکتا ۔ سچ بات ہےنبی سے بڑھ کر انسانیت کی خدمت کرنے والا اور کوئی نہیں ۔ بھلا جو بندے اور اللہ تعالیٰ میں ربط پیدا کر دے اس سے بڑھ کر کوئی انسانوں کا محسن ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ " [36] وحی کا علم بہر حال انسانی استعداد سے نہایت جداگانہ اور ممتاز کیفیت کا حامل ہے ۔ اس بارے میں ڈاکٹر برہان احمد فاروقی نے دونوں کے فرق و امتیاز کو بالکل روشن کر دیا ہے ۔ یہی امتیاز ہی علم بالوحی کی ضرورت کی دلیل بن جاتاہے ۔ حسب ذیل نکات غور طلب ہیں : 1 ۔ علم بالوحی(Knowledge ofInspiration)کا امکان خطاء اور عدم تیقن کے نقص سے مبرا ہے ۔ بخلاف اس کے انسانی علم میں یہ دونوں موجود رہتے ہیں ۔ 2 ۔ علم بالوحی ہمیشہ سے کامل اور غیر متغیر ہے جب کہ انسانی علم ارتقائی منازل طے کر رہا ہے ۔ 3 ۔ علم بالوحی کا موضوع نصب العین اور حاصل کرنے کا لائحہ عمل ہے ۔ بخلاف اس کے انسانی علم کا موضوع محسوسات ہیں ۔ 4 ۔ علم بالوحی کا اخلاق کے بارے میں یہ مسئلہ ہے کہ زندگی کو اخلاقی فضائل کے نمونہ کمال سے مطابق کس طرح ڈھالا جائے ۔ جب کہ انسانی علم اخلاق ابھی تک اس بارے میں گرفتار ہے کہ فضائل اخلاق کیا ہیں ان کا معیار کیا ہے اور ان کی فکری اساس کیا ہو سکتی ہے ۔ 5 ۔ علم بالوحی کا معاشی مسئلہ یہ ہے کہ عادلانہ معاشی نظام کس طرح قائم کیا جائے اور معاشی جدوجہد میں تعطل کو کیسے دور کیا جائے ۔ اس کے بخلاف انسانی معاشیات اس پر پیچ و تاب کھاتی ہے کہ تخلیق دولت کا نظام کیا ہے ؟ اسے معاشی عدل سے کوئی غرض نہیں ۔ 6 ۔ علم بالوحی کی رو سے تاریخ کا مسئلہ یہ ہے کہ قوموں کی تجدید نو(Revival) کیسے کی جائے جب کہ انسانی علم قوموں کے عروج و زوال کے اسباب ڈھونڈنے میں سر کرداں ہے ۔ [37] نتیجہ : المختصر ! علم بالوحی اور انسانی علم زندگی کے دیگر شعبوں میں اس طرح متوازی خطوط کار فرما ہیں ۔ سچی بات یہ ہے کہ وحی کا کردار انقلابی اور تخلیقی ہے جب کہ اس کے " علی الرغم " انسانی علم مشاہدہ و تخلیق پر مرکوز رہتا ہے اور عمل کی تیزی اور وسعت میں بے حد کوتاہ رہ جاتا ہے ۔ یہ ہے ؛دونوں قسم کے علوم کی اپروچ ۔ رہی ان پرعمل درآمد تو پیغمبر کے مقابل میں سائنسدان ، فلسفی احاطہ عمل ، طریق کار ، شخصی مثال اور نصب العینیہ تڑپ کے باب میں کس قدر کمزور و نا تواں واقع ہوئے ہیں ۔ علم کی نوعیت اور کیفیت کے حوالے سے جس قدر بھی بحث کی گئی ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ علم یقینی وہی ہے جسے بالوحی ، الہام اور القاء اتارا گیا ہے ۔ مزید جتنے بھی علوم ہیں وہ انہی کی روشنی میں دیکھے اور پرکھے جا سکتے ہیں جو علوم دینی علوم کے تحت ہیں وہ ان کے ترجمان ہیں اور جو ان کی حمایت میں نہیں ہیں انہیں تقاضآئے بشری سمجھتے ہوئے متروک کر دنیا ہی افضل ہو گا ۔ مراجع وحواشی *ریسرچ اسکالر ، شعبہ تقابل ادیان وثقافت اسلامی ، سندھ یونیورسٹی جامشورہ برقی پتا: ibrahimmuhammadi786@gmail.com ** لیکچرر ڈپارٹمینٹ آف اسلامک اسٹڈیز ، غازی یونیورسٹی ،ڈیرہ غازی خان برقی پتا: amleghari@gmail.com [1]اردو دائرۃ معارف اسلامیہ ، ج : 13 ، دانش گاہ پنجاب 1967ء ، ص : 451 [2]القرآن ، العلق (96) : 5 [3]القرآن ،الصف(61) : 2-3 [4] علامہ اقبال اور مذہبی وقوف کی علمی صورت ، دوسرا خطبہ شعبہ فلسفہ ، جامعہ پنجاب ، لاہور 1980ء [5]All-Naquib al Attasi , Syed Muhammad, “ Introduction” in Aims at Objectives of Education , Edited by S.M. AlNaquibal –Attas, Hoder and Stroghton, King Abdul Aziz University, Jeddah, 1979. P : 34 [6] ایضاً [7]القرآن ، یوسف(12) : 76 [8]ابن خلدون ، مقدمہ ، مترجم راغب رحمانی دہلوی ، نفیس اکیڈمی کراچی ، 1970ء ، ص : 145 [9]All Naquib al-Attasi Syed Muhammad, P : 20 [10]قطب ، محمد ، اسلام کا نظام تربیت ، مترجم ساجد الرحمان صدیقی ، اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ لاہور ، 1980ء ، ص : 252 [11]اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ج: 13 ، دانْش گاہ پنجاب 1967ء ، ص : 447 [12]القرآن ،آل عمران (3) : 18 [13]القرآن ، الفاطر (35) : 28 [14]القرآن ، المجادلہ(58) : 11 [15]القرآن ، الاسراء (17) : 36 [16]بخاری ، محمد اسماعیل ، الجامع الصحیح البخاری، قدیمی کتب خانہ کراچی، طبع 1980ء ، ص: 285 [17] القرآن ،الانبیاء (21) : 7 [18]گوراہا ، ڈاکٹر مشتاق ، علم التعلیم ، ص : 22 [19]Iqbal , Muhammad, The Reconstruction of Religious Thought in Islam, Sh. [20]القرآن ، الاسراء (17) : 36 [21]القرآن ، الغاشیہ (88) : 20 [22]گوراہا ، ڈاکٹر مشتاق ، علم التعلیم ، ص : 23 [23]Knelier, George F, New York, 1971, P : 21 [24]گوراہا ، ڈاکٹر مشتاق ، علم التعلیم ، ص : 23 [25]عبداللہ ، ڈاکٹر سید ، " نصابات میں نظریہ پاکستان کو کس طرح سمو دیا جائے " ، نظریہ پاکستان اور نصابی کتب ، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور ، 1971ء ،ص:137 [26] ایضاً،ص:142 [27]Russell T. Bertrand, History of western Philosophy, George Allen and Unwin Ltd., London, 1961. P : 136. [28]گوراہا ، ڈاکٹر مشتاق ، علم التعلیم ، ص : 24 [29]القرآن ، النجم (53) : -28 [30]ابن خلدون ، مقدمہ ، مترجم راغب رحمانی دہلوی ، ص : 270 [31]Brubacher, John. S., Modern Philosophies of Education, McGraw HillBook Co. 1962, P : 148 [32]القرآن ، الجن (53) : 26-24 [33]گوراہا ، ڈاکٹر مشتاق ، علم التعلیم ، ص : 26 [34]القرآن ، الشوریٰ (42) : 51 [35] القرآن ، النجم (72) :26-27 [36]گوراہا ، ڈاکٹر مشتاق ، علم التعلیم ، ص : 27 [37]فاروقی برھان احمد ، " علامہ اقبال اور مخصوص صوفیانہ واردات " پہلا خطبہ شعبہ فلسفہ ، جامعہ پنجاب لاہور ، 1980ء ، ص : 10-12
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: علم کی اہمیت و نوعیت تعلیمات اسلامی کے تناظر میں
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں