فرحان منہاج

(ضرب تحریر)

نصاب کسی بھی قوم کی نسلوں کی تربیت کا ضامن ہوتا ہے . پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے. اسلام پاکستان کا سپریم مذہب ہے قرآن اور سنت کے بنیادی اصولوں کے خلاف کوئی بھی قانون پاکستانی قانون کا حصہ نہیں ہوسکتا اس بات پر پاکستان کے آئین میں سب کا اتفاق اور یہ درج ہے . اسی طرح تدریسی نصاب میں کوئی بھی ایسا مواد جوقرآن و سنت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہو نہیں ہونا چاہیے . مگر بدقسمتی سے پاکستان میں سیاسی نظام صرف حکومت کرنے کے لیے ہی ہے اور کسی چیز کے لیے نہیں ہے . تعلیم جب کسی حکومت کی بنیادی ترجیح نہیں رہی تو نصاب کہاں رہا ہوگا ؟ پاکستان میں تدریسی نصاب کے حوالے سے جس قدر نااہلی اور لاپرواہی دکھائی گئی ہے شاید ہی کسی اور چیز میں دکھائی گئی ہو. اسی نااہلی کی وجہ سے نوجوان نسل انتہاپسندی جیسے موذی مرض میں تدریسی نصاب کی وجہ سے پھنسی جس کا خمیازہ پوری قوم دھشت گردی کی صورت میں بھگت رہی ہے. تدریسی نصاب کے حوالے سے پاکستان میں پرائیوٹ پبلیشرز کو مادر پدر آزاد  چھوڑ دیا گیا بس جس نے جو چاہا جیسا چاہا نصاب ترتیب دیا اور پڑھایا . کہیں الف انار سے آغاز تھا کہیں الف اللہ سے کہیں ج جوتا تھا اور کہیں ج جہاد اور کہیں جہاز کوئی ت تختی تھا تو کہیں ت تلوار تھا . حکومت نے سمجھا پرائیوٹ اسکولز اور پبلشرز نے ان کے سر سے تعلیم کی ذمہ داری بانٹ لی ہے ان پڑھ سے کچھ پڑھا لکھا ٹھیک ہے کی مصداق پر تعلیم اور نصاب کے معاملے میں لاپرواہ ہوگئی . اور پاکستانی مستقبل کے معمار ریاضی میں سود نکالنا سیکھنے لگے جبکہ اسلامیات میں سود حرام ہے کا سبق یاد کرنے لگے . کہیں روشن خیالی پڑھائی اور سمجھائی گئی اور کہیں تنگ نظری اور انتہا ئی پسندی سکھائی گئی . کہیں محمود غزنوی کی لوٹ مار کو اسلام کی خدمت کہا گیا کہیں  جنسی تعلیم کو تدریس کا حصہ بنایا گیا . نیز ہر طرح سے ہر طرف سے نوجوان ذہنوں  کنفیوز اور تقسیم کیا گیا . اور ستم تب بھی حکومت نیند میں اور آج بھی حکومت نیند میں ہے .

 


افکار و نظریات: تعلیم, تدریسی نصاب اور حکومتی نیند