رفاہی و فلاحی خدمت

عمران عبداللہ

دین جتنا زور حقوق العباد اور لوگوں کی خدمت پر دیتا ہے ، لوگوں کو اسی قدر دین کے نام پر لوٹا جاتا ہے۔ بہت سارے لوگ  دینی اداروں کے اندر پہلے اپنی شناخت  اور تعلقات بناتے ہیں اور پھر انہی تعلقات اور اسی شناخت کی بنا پر لوگوں کو  کاروبار ، کمیٹی اور مضاربے کا جھانسہ دے کر انہیں لوٹنے کے بعد فرار ہو جاتے ہیں۔

ایسے لوگ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر وغیرہ کے مختلف القابات بھی لگا لیتے ہیں۔ بعض مختلف ٹرسٹ بھی بنا لیتے ہیں اور سکالرشپ وغیرہ جاری کرنے کا ڈھونگ بھی رچاتے ہیں۔ آپ انکی گاڑیوں اور کوٹھیوں کی چکاچوند  کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے لیکن اگر آپ سکالر شپ کے لئے کوئی فارم پر کر کے بھیج دیں گے تو پہلے تو آپ کا فارم واپس آجائے گا کہ ایڈرس غلط ہے یا پھر کہا جائے گا کہ آپ نے لیٹ بھیجا ہے اور یا پھر فلاں صاحب آج کل چھٹی پر ہیں۔

اسی طرح پسماندہ علاقوں سے مختلف ٹرسٹ اور ادارے فطرانہ اور کھالیں جمع کر کے لے جاتے ہیں اور اس کے بدلے میں وہاں کے مقامی لوگوں کو مزید بدبختی، جہالت، بے روزگاری اور غربت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

اسی طرح یتیم خانوں میں بھی اسی علاقے کے یتیموں کوجگہ ملتی ہے جہاں کے ڈونر ہوتے ہیں۔ یتیم پروری  کے پردے میں کیا کچھ ہوتا ہے یہ تو کوئی پوچھ ہی نہیں سکتا۔ البتہ تعجب کی بات ہے کہ یہ بے ضابطگیاں ان اداروں میں زیادہ پائی جاتی ہیں جو اپنے اوپر  دینی ہونے کا لیبل زیادہ لگاتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈونر حضرات براہِ راست اپنے علاقے کے غریب غربا اور فقرا کی مدد کریں اور صرف ان اداروں کو عطیات دیں جن کے مسئولین خود سادہ زندگی بسر کرتے ہوں اور واضح طور پر  عوام کے پیسے کو عوام پر خرچ کرتے ہوں۔

اسی طرح لوگوں کو یہ شعور بھی دیا جانا چاہیے کہ قربانی کی کھالوں اور فطرانے کے پیسوں کو اپنے غریب عزیزو اقارب اور اپنے ارد گرد کے فقرا پر خرچ کریں اور یہی ان عطیات کے زیادہ مستحق اور حقیقی حقدار ہیں۔

خداوند عالم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔


افکار و نظریات: رفاہی و فلاحی خدمت